مریم نواز کا آزاد کشمیر کیلئے بسوں کا تحفہ تنقید کی زدمیں کیوں؟

آزاد کشمیر کے انتخابات سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے مظفرآباد اور میرپور کے لیے الیکٹرک بسوں کی فراہمی نے نئی سیاسی اور قانونی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن اسے عوامی وسائل کے انتخابی استعمال کا تاثر قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے گئے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا کسی صوبے کے وسائل دوسرے انتظامی علاقے پر خرچ کیے جا سکتے ہیں، اور انتخابی ضابطۂ اخلاق اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
مبصرین کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے مظفرآباد اور میرپور کے لیے الیکٹرک بسوں کی فراہمی نے سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ انتخابات سے چند روز پہلے سوشل میڈیا پر یہ اعلان کیا گیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گرین الیکٹرک بسیں آزاد کشمیر پہنچ چکی ہیں، جنہیں "وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف سے کشمیری عوام کے لیے تحفہ” قرار دیا گیا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت آزاد کشمیر میں انتخابی مہم میں مصروف تھی، جس کے باعث اپوزیشن جماعتوں، سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام کے وقت، قانونی حیثیت اور انتخابی اثرات پر سوالات اٹھائے۔
ضلع مظفرآباد کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد کے لیے الیکٹرک بسوں کو فی الحال سرکاری احاطے میں کھڑا کر دیا گیا ہے اور انہیں انتخابات مکمل ہونے کے بعد ہی عوامی استعمال کے لیے سڑکوں پر لایا جائے گا۔ اسی طرح میرپور کے لیے بھی فراہم کی گئی بسیں فوری طور پر آپریشنل نہیں کی گئیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی وسائل سے بننے والے منصوبوں کو کسی سیاسی شخصیت کا "تحفہ” قرار دینا درست نہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سڑکیں، بسیں، اسپتال اور دیگر ترقیاتی منصوبے عوام کے ٹیکس سے بنتے ہیں، اس لیے انہیں کسی فرد کا ذاتی تحفہ نہیں کہا جا سکتا۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے بھی سوال اٹھایا کہ آیا پنجاب کے بجٹ سے کسی دوسرے انتظامی خطے میں اس نوعیت کا منصوبہ شروع کرنے کے لیے اسمبلی اور کابینہ سے باقاعدہ منظوری لی گئی تھی یا نہیں۔
تاہم اس پر حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ صوبائی وزرا کے مطابق وزیراعلیٰ کو ایسے بین الحکومتی تعاون کے منصوبوں کی منظوری کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور متعلقہ فیصلے کابینہ کی منظوری سے کیے جاتے ہیں۔حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد کشمیری عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے، نہ کہ انتخابی فائدہ حاصل کرنا۔
دوسری جانب ماہرین قانون کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی صوبے کے وسائل دوسرے انتظامی علاقے پر خرچ کیے جا سکتے ہیں، اور اگر ایسا ہو تو اس کے لیے کون سی قانونی منظوری درکار ہوتی ہے۔انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر کابینہ کی منظوری موجود ہو تو بعد ازاں ایسے اخراجات کو سپلیمنٹری بجٹ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی منصوبوں یا تحائف کے اعلان کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ترقیاتی منصوبے کا اعلان یا تشہیر ووٹرز پر اثرانداز ہونے کا تاثر پیدا کرے تو الیکشن کمیشن اس کا جائزہ لے سکتا ہے۔

 

عمران خان کی بہن نورین خان NCCIAکے ریڈرا پر کیسے آئیں؟

تاہم سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے اسے بین الصوبائی تعاون اور عوامی خدمت قرار دیا، جبکہ دیگر نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ اقدام ضابطوں کے مطابق تھا تو بسوں کو انتخابات تک استعمال سے کیوں روکا گیا۔ مبصرین کے مطابق اب تمام نظریں الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں پر ہیں کہ آیا اس معاملے میں مزید قانونی یا انتظامی کارروائی کی جاتی ہے یا نہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف انتخابی ضابطۂ اخلاق بلکہ عوامی وسائل کے استعمال، بین الحکومتی تعاون اور شفاف حکمرانی کے حوالے سے بھی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

Back to top button