عمران خان کی بہن نورین خان NCCIAکے ریڈرا پر کیسے آئیں؟

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کے خلاف ریاستی اداروں اور مسلح افواج کے خلاف مبینہ بیانات دینے کے الزام میں پیکا اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ وائرل پوڈکاسٹ کلپ میں کیے گئے بیانات کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، جبکہ نورین نیازی کی جانب سے اب تک اس مقدمے پر کوئی تفصیلی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم این سی سی آئی اے کی جانب سے مقدمے کے اندراج نے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ ایک مبینہ متنازع پوڈکاسٹ انٹرویو کے بعد درج کیا گیا، جس کا ایک مختصر ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق الزام ہے کہ نورین نیازی نے انٹرویو کے دوران ریاستِ پاکستان، ریاستی اداروں اور مسلح افواج سے متعلق ایسے بیانات دیے جو حکام کے مطابق جھوٹے، بے بنیاد اور عوام میں بداعتمادی پیدا کرنے والے تھے۔ تفتیشی ادارے کا مؤقف ہے کہ ان بیانات کا مقصد ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور عوامی اعتماد کو متاثر کرنا تھا۔
این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کے خلاف پیکا 2016 کی دفعات 20 اور 26 اے جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 505 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ادارے کے مطابق متنازع مواد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) سمیت مختلف اکاؤنٹس سے شیئر ہونے کے بعد وائرل ہوا۔
ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں نورین نیازی نے مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی کامیابیوں کو جھٹلانے اور ریاست مخالف بیانیہ فروغ دینے کی کوشش کی۔این سی سی آئی اے کے مطابق نورین نیازی کو پہلے طلبی نوٹس جاری کیا گیا تھا اور انہیں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا، تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مزید ممکنہ کرداروں کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔
اب تک نورین نیازی یا پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اس مقدمے پر کوئی تفصیلی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں نورین نیازی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہیں مقدمے کے حوالے سے معلومات نہیں تھیں اور انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نورین نیازی کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ریاست مخالف بیانیے کا تسلسل ہے، جس پر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے قانون کے مطابق معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
کیا واقعی PPPاور PMLNکی لفظی جنگ کے بعد شہباز حکومت خطرے میں ہے؟
انٹرویو ریکارڈ کرنے والے صحافی احتشام اللہ بیہلم کے مطابق یہ گفتگو مئی 2025 میں ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم ادارتی ٹیم نے اسے نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے مطابق انٹرویو کے چند مختصر حصے داخلی مشاورت کے لیے شیئر کیے گئے تھے، جن میں سے ایک کلپ بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ویڈیو سوشل میڈیا تک کیسے پہنچی۔ دوسری جانب اس حوالے سے مقدمے کے اندراج کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین حکومتی کارروائی کو قانون کے مطابق قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ غیر نشر شدہ انٹرویو کے ایک کلپ کی بنیاد پر کارروائی مناسب نہیں۔ اس معاملے پر قانونی، سیاسی اور عوامی سطح پر بحث کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ حتمی حقائق کا تعین عدالتی اور تفتیشی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
