کیا واقعی PPPاور PMLNکی لفظی جنگ کے بعد شہباز حکومت خطرے میں ہے؟

آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج نے جہاں مسلم لیگ (ن) کو برتری دلائی، وہیں وفاق کی دو اتحادی جماعتیں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، ایک مرتبہ پھر سیاسی محاذ آرائی میں آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ دھاندلی کے الزامات، سخت بیانات اور جوابی ردعمل نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اختلافات صرف انتخابی سیاست کا حصہ ہیں یا وفاقی اتحاد کے لیے بھی کوئی نیا امتحان ثابت ہوں گے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آنے کے بعد وفاق میں اتحادی جماعتیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، ایک مرتبہ پھر سیاسی محاذ آرائی میں آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ میرپور ڈویژن کے نتائج کے بعد دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر انتخابی بے ضابطگیوں، دھاندلی اور سیاسی مفادات کے الزامات عائد کیے، جس کے باعث سیاسی ماحول میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم متعدد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نئی نہیں بلکہ پاکستان کی انتخابی سیاست کا ایک پرانا رجحان ہے، جہاں انتخابی مقابلے کے دوران سخت بیانات دیے جاتے ہیں لیکن حکومت سازی اور قومی معاملات میں سیاسی مفاہمت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 9 نشستیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 4 نشستوں تک محدود رہی۔ مسلم لیگ (ن) نے اس کامیابی کو عوامی اعتماد کا اظہار قرار دیا، جبکہ پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے نتائج کو متنازع قرار دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں خطاب کرتے ہوئے میرپور اور کوٹلی میں ووٹوں پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے اور مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے "کمیشن برائے سچائی و مفاہمت” قائم کیا جائے۔اس کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو جمہوری روایات کے مطابق انتخابی نتائج تسلیم کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
سینیئر صحافیوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اس نوعیت کی لفظی جنگ کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر سخت تنقید کی تھی، تاہم بعد ازاں وفاقی سطح پر دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی رابطوں سے معاملات معمول پر آ گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران سخت بیانات سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں، جبکہ اقتدار اور پارلیمانی تعاون کی ضرورت اکثر کشیدگی کو کم کر دیتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ اختلافات فوری طور پر وفاقی حکومت کے لیے خطرہ بنتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگرچہ دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد میں کمی اور بیانیے کی شدت ضرور دیکھی جا رہی ہے، تاہم حکومت سازی، پارلیمانی تعاون اور قومی سیاسی مفادات کے پیش نظر اتحاد کے برقرار رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر کے باقی دو مراحل کے نتائج اور بعد کی سیاسی صورتحال یہ طے کرے گی کہ یہ اختلافات محض انتخابی سیاست تک محدود رہتے ہیں یا مستقبل میں وفاقی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
امریکا میں نیتن یاہو کیخلاف شدید احتجاج، شہریوں کا گرفتاری کا مطالبہ
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی محدود انتخابی موجودگی کے باعث مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ سیاسی حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں تاکہ عوامی توجہ اور سیاسی حمایت حاصل کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی بیانیہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔ مبصرین کے بقول آزاد کشمیر کے انتخابات کے دو مزید مراحل ابھی باقی ہیں۔ ان نتائج سے نہ صرف نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ واضح ہوگا بلکہ یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی وقتی انتخابی ماحول تک محدود رہتی ہے یا وفاقی سیاست میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
