عمران خان کو فوج سے معافی ملنا اب ممکن کیوں نہیں رہا؟

 

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے حالیہ بیان کے بعد عمران خان کے لیے 9 مئی کے حملوں پر فوجی قیادت سے معافی مانگے بغیر کوئی ریلیف حاصل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل عاصم منیر نے حال ہی میں واضح کیا ہے کہ کسی قسم کی مصالحت صرف اور صرف معافی مانگنے کے بعد ہی ممکن ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ضیاء الحق سے معافی مانگنے سے انکار کیا جسکا نتیجہ انکی پھانسی کی صورت میں سامنے آیا۔ تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے جنرل مشرف کے ساتھ بات چیت کے بعد وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا لیکن ان کے ساتھ دھوکہ ہوا اور وہ راولپنڈی کی ایک مصروف شاہراہ پر سرعام قتل کر دی گئیں۔ یعنی ایک وزیراعظم نے معافی مانگنے سے انکار کیا جبکہ دوسرے نے مصالحت کی لیکن دونوں کا انجام قتل کی صورت میں نکلا۔ اس انکار اور مصالحت کے درمیان جو کچھ ہوا اُس نے ہماری سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے اور ہم آج تک اس بیانیہ سے باہر ہی نہ آ سکے۔

 

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ ابھی بھٹو کو پھانسی نہیں ہوئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انکی اپیل مسترد کردی تھی۔ اُنکے ایک قریبی ساتھی سابق وزیراعلیٰ سندھ جناب غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم سے میں نے اس حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ضیاء سے بھٹو کی ملاقات کروانے کا فیصلہ کیا اور بیگم نصرت بھٹو کو اعتماد میں لیا، تاہم بیگم صاحبہ نے کہا کہ بھٹو صاحب اس ملاقات پر تیار نہیں ہوں گے۔ مظہر عباس کے بقول جتوئی نے مجھے بتایا کہ میں نے جنرل ضیا سے ملاقات میں جھولی پھیلا کر معافی کی درخواست کی اور یقین دلایا کہ پورے کا پورا بھٹو خاندان ہی پاکستان چھوڑ جائیگا۔ ضیاء نے درخواست پر ہمدردانہ غور کی یقین دہائی کرائی مگر مجھے اُسکے انداز سے یقین ہوگیا تھق کہ معافی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

 

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ میں نے بے نظیر بھٹو سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں جب میں نے بھٹو صاحب کو یقین دلایا کہ اُنہیں پھانسی نہیں ہوگی کیونکہ دُنیا بھر سے اپیلیں آ رہی ہیں تو انہوں نے مسکرا کر مجھے حوصلہ دیا اور کہا کہ یہ چوائس میرے پاس ہے اور میں نے تاریخ میں زندہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بعد میں بینظیر بھٹو کی سیاست میں ہمیں جرأتِ انکار بھی نظر آتی ہے اور ’سیاسی مصالحت‘بھی، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اپنے وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کو ’تمغہ جمہوریت‘ دیکر بھی اُن کی معافی نہ ہوئی ۔ بی بی ہمیشہ سے پُر تشدد سیاست کے خلاف رہیں۔ جب بھائی مرتضیٰ بھٹو نے بزورِ طاقت باپ کی پھانسی کا بدلہ لینے کا راستہ اختیار کیا تو بھائی اور بہن کی راہیں جدا ہوگئیں۔وہ 1986ء میں واپس آئیں تو عوام کا ایک سیلاب تھا، لیکن اتنےبڑے ہجوم کودیکھ کر بھی اُنہوں نے عام انتخابات اور’ جمہوریت بہترین انتقام‘ کا ہی نعرہ لگایا ۔ تاہم شاید سیاسی مصالحت میں وہ بہت آگے چلی گئیں۔ ایک مضبوط سیاسی اتحاد ایم آر ڈی کے مقابلے میں انہوں نے صدر کے طور پر غلام اسحاق خان اور باہر کے وزراء کو بھی نہ چاہتے ہوئے قبول کیا۔ لیکن بی بی کو مصالحت کا جواب IJI اور مشروط اقتدار کی صورت میں ملا اور انہیں فوج کی جانب سے قبولیت نہیں بخشی گئی۔

 

مظہر عباس کہتے ہیں اسی لیے بے نظیر بھٹو کے اقتدار کے پہلے 9 ماہ بعد ہی انکے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اور 18ماہ میں اقتدار سے بیدخلی ہو گئی۔ یہی نہیں پھر 1990 کے الیکشن میں دھاندلی کرتے ہوئے ان کو شکست سے دوچار کیا گیا۔ اس دھاندلی کو برسوں بعد سپریم کورٹ نے بھی اصغر خان کیس میں تسلیم کیا۔ اس دھاندلی کے نتیجے میں IJI کی حکومت بنوائی گئی اور نواز شریف وزیراعظم بنے۔ بی بی کیونکہ مصالحت پسند تھیں لہٰذا انہوں نے انتخابی دھاندلی کے باوجود اسمبلی کے اندر اور باہر پرامن احتجاج جاری رکھا۔ 1993 میں جب نواز شریف کے ساتھ بھی وہی ہوا تو درمیانی راستہ نئے الیکشن کا نکالا گیا اور میاں صاحب اور غلام اسحاق دونوں کو گھر جانا پڑا جسے جنرل وحید کاکڑ فارمولا بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم اقتدار دوبارہ ملنے کے باوجود بی بی کیلئے مشکلات ختم نہ ہوئیں اور انکا دوسرا دور بھی اپنی مدت پوری ہونے سے بہت پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔ اس مرتبہ ان کی حکومت ختم کرنے کی وجوہات میں کراچی میں ہونے والے ماورائے عدالت قتل اور خود انکے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کا قتل بھی شامل تھا حالانکہ یہ وارداتیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اپنی تھیں۔ اس بار الیکشن میں میاں صاحب کو دو تہائی اکثریت ملی گئی مگر پی پی پی 17 نشستوں کیساتھ پارلیمنٹ میں موجود رہی۔ اس بار یہ اکثریت بھی کام نہ آئی اور 12 اکتوبر 1999 کو بھاری اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم کو بھی ’چند افسران‘ نے وزیر اعظم ہائوس سے باہر نکال دیا ۔ معزول وزیر اعظم پر مقدمہ چلا۔ بات عمر قید سے پھانسی کی سزا تک آئی تو ’معافی اور مصالحت‘ دونوں کے نتیجہ میں خاندان کے ساتھ جلا وطنی ملی جس میں دوست عرب ممالک کا بھی ہاتھ تھا۔

 

مظہر عباس کہتے ہیں کہ انہوں نے بھٹو کے انکار سے لیکر میاں صاحب کی ’معافی‘ اور مصالحت تک کی مختصر تاریخ بیان کر دی ہے۔ لیکن  بی بی نے یہاں بھی صبر کا دامن نہ چھوڑا اور 2006 میں ایک اور تاریخی مصالحت کی جو اپنے بدترین سیاسی مخالف میاں نواز شریف کے ساتھ چارٹر اف ڈیموکریسی سائن کرنا تھی۔ اسی طرح میاں صاحب کو بھی پہلی بار یہ خیال آیا کہ ہم دونوں کو کوئی تیسرااستعمال کر رہا ہے۔ یہ’میثاق جمہوریت‘ کی ابتدا تھی یہ دونوں ملے تو ’تیسرے فریق‘نے ’تیسرے آپشن‘ پر غور کرنا شروع کردیا اور نتیجہ عمران خان کی صورت میں نکلا۔ وہ ابتدا میں جنرل مشرف سے بہت متاثر تھے اور اسی غلط فہمی میں انہوں نے 2002ء تک اُن کی حمایت کی کہ وہ نواز شریف اور بے نظیر کے خلاف ہیں، اسی لیے 2002 کے الیکشن کے وقت نہ پی پی کو اجازت ملی الیکشن لڑنے کی اور نہ ہی میاں صاحب کو۔ لیکن تب خان صاحب کی غلط فہمی بھی دور ہو گئی جب اُن کو الیکشن میں صرف ایک نشست ملی اور لاٹری چوہدریوں کی کھل گئی۔

 

جنرل مشرف کی جانب سے بی بی اور میاں صاحب کو الیکشن سے باہر رکھنے کا فیصلہ میثاق جمہوریت‘ کا باعث بنا۔ 2007 میں جب بی بی نے مشرف کی مرضی کے خلاف وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا تو ان کا استقبال ایک خودکش دھماکے سے کیا گیا۔ بی بی کو مشرف کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ وہ ابھی واپس چلی جائیں۔ تاہم انہوں نے انکا کر دیا۔ اس دوران میاں صاحب بھی جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس لوٹ آئے۔ جنرل مشرف نے ججوں کو کاونٹر کرنے کے لیے ایمرجنسی عائد کی تو بی بی نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ بالاخر جنرل مشرف کے ایما پر بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں ایک ریلی کے دوران شہید کر دیا گیا۔ بعد میں الیکشن 2008 کے نتیجے میں آصف زرداری صدر بنے تو انہوں نے ’میثاق جمہوریت‘ کا بھرم رکھا، لہذا ان کے دور میں ملک بھر میں کسی جیل میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔

 

2013 کے الیکشن کے بعد میاں نواز شریف بھاری اکثریت کے ساتھ وزیراعظم بن گئے، تاہم فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات کے بعد انہیں نااہل کر کے عمران کو برسر اقتدار لایا گیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایک ہائبرڈ سسٹم تشکیل دیا لیکن عمران کی نااہلی اور نالائقی نے سارے سسٹم کا بیڑا غرق کر دیا۔ 2018 سے 2022 تک خان کی حکومت کا گراف تیزی سے نیچے آ رہا تھا۔ اس دوران جنرل فیض کو ائی ایس ائی چیف کے عہدے سے ہٹانے پر جنرل باجوہ اور عمران کے تعلقات خراب ہو گئے۔ عمران خان نے اکڑ دکھائی تو جنرل باجوہ نے اپنی مرضی کا آئی ایس آئی چیف لگا دیا۔ اس کے بعد جب پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا تو عمران نے جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع کی پیشکش بھی کی لیکن تب تک ٹرین نکل چکی تھی لہذا وہ ملک کے پہلے وزیراعظم بنے جسے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑے۔

 

عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی نے ان کی تمام نااہلیوں اور نالائقیوں پر پردے ڈال دیے اور وہ عوامی مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گے۔ لیکن چونکہ مقبولیت اور قبولیت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے لہذا الیکشن 2008 کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے اتحادی حکومت تشکیل دی اور عمران خان اڈیالہ جیل میں قید کر دیے گئے۔

 

تاہم مظہر عباس کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو شہید کے مقابلے میں ومران خان نے جو سب سے بڑی غلطی کی وہ  یہ ہے کہ وہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مصالحت کرنے سے انکاری ہیں۔ بی بی صاحبہ اور بیگم بھٹو نے تو اُن لوگوں سے بھی بات چیت کی تھی جنکو وہ بھٹو کے قتل میں شریک جرم سمجھتی تھیں۔ اب اگر بات آپ نے صرف فوج سے ہی کرنی ہے تو آرمی چیف نے تو بات چیت معافی سے مشروط کر دی ہے، لہذا اب عمران خان کے لیے معافی مانگے بغیر کوئی ریلیف حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔

Back to top button