نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح تیسری مرتبہ بھی منسوخ کیوں؟

بلوچستان کے اہم ترین سٹریٹیجک علاقے گوادر میں پاک چائنہ سی پیک پروجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والا پاکستان کے سب سے بڑے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا یکم جنوری کو ہونے والا افتتاح نامعلوم وجوہات کی بنا پر تیسری مرتبہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افتتاح میں تاخیر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا یکم جنوری 2025 کو ہونے والا افتتاح فی الوقت ملتوی کر دیا گیا ہے جبکہ نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ پاکستان کی وزارت ایوی ایشن اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح یکم جنوری 2025 کو کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور اس مناسبت سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے اپنی پہلی پرواز یکم جنوری کو ہی شیڈول کی تھی جسے اب ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے اُردو نیوز کو بتایا کہ اوپر سے آنے والے احکامات کے باعث گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ملتوی کیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری طور پر یہ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر ہوا بازی خواجہ محمد آصف کی عدم دستیابی کے سبب گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افتتاح میں تاخیر کر دی گئی ہے۔ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افتتاح میں تاخیر کی اصل وجوہات جاننے کے لیے وزارت ایوی ایشن کے سیکریٹری احسن علی منگی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب دینے سے انکار کیا جس سے معاملہ اور بھی مشکوک ہو گیا ہے۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان سیف اللہ خان نے گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے افتتاح کے حوالے سے بتایا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ایئر پورٹ کے افتتاح میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افتتاح کی مناسبت سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ وزارت ہوا بازی اور متعلقہ اداروں سے مشارت کے بعد افتتاح کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب ائیرپورٹ کے افتتاح میں مزید تاخیر کے بعد پی آئی اے نے بھی نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے شیڈول اپنی پہلی پرواز ملتوی کر دی ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے نیو گوادر ایئرپورٹ کے لیے پہلی پرواز کے ملتوی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے نے جنوری کے دوسرے ہفتے تک اپنی پرواز ملتوی کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی گوادر شہر کے لیے پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں صرف نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے اپنی پہلی پرواز کو کچھ وقت کے لیے ملتوی کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افتتاح کو تیسری مرتبہ ملتوی کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر اور 14 اگست کے موقع پر بھی اس نئے ایئرپورٹ کے افتتاح کا اعلان کیا گیا تھا جو بعدازاں ملتوی کر دیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے متعلق جائزہ اجلاس میں ایئرپورٹ کو جلد مکمل فعال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی خصوصیات پر بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ گوادر ائیرپورٹ اے-380 (A-380) ہوائی جہازوں کو ہینڈل کر سکتا ہے جبکہ ائیرپورٹ سے 40 لاکھ مسافر سالانہ سفر کر سکیں گے۔ پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کسٹمز نے بھی اس ائیرپورٹ کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو بتایا گیا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی، ایئرپورٹ سکیوریٹی فورس، پاکستان کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس فورس، وفاقی تحقیقاتی ادارے سمیت بارڈر ہیلتھ سروس کا عملہ تعینات کیا جا چکا ہے۔
بے نظیر بھٹو نے جنرل مشرف کو وردی اتارنے پر کیسے مجبور کیا ؟
وزارت ہوا بازی اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کے کراچی اور گوادر کے لیے موجودہ فلائٹ آپریشن کے دورانیے کو جلد ہی ہفتے میں تین بار کیا جائے گا جبکہ گوادر سے مسقط کے لیے پروازوں کا آغاز آئندہ برس 10 جنوری سے شروع ہو جائے گا۔ مزید برآں پاکستان کی نجی ائیرلائنز اور چین، اومان اور متحدہ عرب امارات کی ائیرلائنز سے بھی گوادر سے ملکی اور بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز شروع کرنے کے حوالے سے بات چیت کی جا رہی ہے۔
