عمران خان کو ’فوج کی حراست‘ میں دیے جانے کا خدشہ کیوں؟

25 جولائی کے روز جہاں لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کا نو مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا ہے وہیں سابق وزیراعظم کی طرف سے انھیں فوجی عدالتوں کے حوالے نہ کرنے سے متعلق درخواست خارج کر دی ہے۔

الیکشن کمیشن نے قاضی فائز کو منصور شاہ کے سامنے کیسے کھڑا کیا؟

 

خیال رہے کہ فوجی عدالت سے متعلق دائر درخواست میں عمران خان نے خدشتہ ظاہر کیا تھاکہ نو مئی سے متعلق مقدمے میں انھیں فوج کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے درخواست میں لکھا تھا کہ ‘’عدالت نو مئی کے کیسز میں میرے مقدمات عام عدالتوں کے پاس رہنے کا حکم دے۔‘ عمران خان نے استدعا کی تھی کہ‏ عدالت ان کی ممکنہ حراست فوج کو دینے کے خلاف حکم جاری کرے تاہم عدالت نے عمران خان کی یہ درخواست خارج کر دی ہے۔

تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف عمران خان کو نو مئی کے مقدمات میں اتنا بڑا ریلیف ملا کہ ان مقدمات میں نہ صرف عمران خان کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کو عدالت نے ختم کر دیا ہے بلکہ ان مقدمات کی ’ٹائمنگ‘ اور ’میرٹ‘ پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں تو ایسے میں پھر عمران خان کو یہ خدشہ کیوں پیدا ہوا کہ اب انھیں فوج کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟

عمران خان کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل اشتیاق اے خان کے مطابق عمران خان کے خدشات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک فوجی عدالتوں کی قسمت کا حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے مگر پھر بھی راتوں رات نو مئی کے مقدمات کے ملزمان کا فوجی عدالتوں سے ’ریمانڈ‘ لے لیا جاتا ہے۔ان کے مطابق 13 جولائی کو عمران خان کی عدت کیس میں بریت کے بعد انھیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے فوج کی حراست میں منتقل کرنے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب وکیل رہنما صباحت رضوی کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے خلاف ایک سال بعد مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں تو پھر ایسے خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔صباحت رضوی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن ٹریبونلز اور خصوصی عدالتوں میں جو ججز تعینات کیے ہیں وہ ان حلقوں کی مرضی کے نہیں تھے جس وجہ سے اب وہ عمران خان کے مقدمات کو بھی ان عدالتوں سے فوجی عدالتوں میں لے جا سکتے ہیں۔

تاہم سیاسی تجزیہ کار زاہد حسین کا ماننا ہے کہ عمران خان کے خدشات میں اضافہ فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کے بعد ہوا جس میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بنوں میں فائرنگ کے واقعے کو نو مئی کے واقعات سے جوڑا۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر بنوں میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں کہا تھا کہ ’یہ کیوں ہوا؟ یہ اس لیے ہوا کیونکہ آپ کا جو قانونی نظام ہے، عدالتی نظام ہے اگر یہ 9 مئی کے سہولت کاروں، منصوبہ سازوں کو ڈھیل دے گا، جب آپ انھیں کیفرِ کردار تک نہیں پہنچائیں گے تو ملک کے اندر انتشار اور فسطائیت مزید پھیلے گی۔‘ ’اگر نو مئی کرنے اور کروانے والوں کو سزا نہ دی گئی تو کسی کی جان، مال، عزت و آبرو محفوظ نہیں رہیں گے۔‘

زاہد حسین کے مطابق عمران خان کو جو ریلیف ابھی تک ملا ہے وہ ایک قانونی معاملہ ہے کہ جب ایک شخص قید میں ہے تو پھر مزید قید میں رکھنے کے لیے کیسے مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔تاہم ان کے مطابق ’عمران خان کو فوج کی حراست کا خطرہ اس وجہ سے بھی ہے کہ یہ فوجی عدالتیں ابھی تک موجود ہیں انھیں ختم نہیں کیا گیا ہے۔‘

Back to top button