جیل اصلاحات، کیوں ممکن نہیں!

تحریر: مظہر عباس
بشکریہ: روزنامہ جنگ
کراچی سینٹرل جیل جانے کا حال ہی میں اتفاق ہوا ، دو بورڈز پرنظرپڑی تو میں ایک گہری سوچ میں پڑگیا کہ اگر کسی جیل میں قیدیوں کی گنجائش 2400ہو اور وہاں 8500قیدی بند ہوں جن میں 7000سے زیادہ قیدی انڈر ٹرائل ہوں اور 80سزائے موت کے منتظر ہوں اور شائد ملک کی دیگرجیلوں کی حالت اس سے مختلف نہ ہو وہاں جیل اصلاحات، ممکن بھی ہیں اور گوکہ اعلیٰ عدلیہ کی سطح پر قومی کانفرنس کا انعقاد ایک خوش آئند عمل ضرور ہے مگر جیلوں کی دنیا کی ناقابل فراموش کہانیاں سن کراور برسوں سے کئی واقعات کو رپورٹ کرتے کرتے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شاید قانون کسی کو جیل تو بھیج دیتا ہے مگر وہاں کیا ہوتا ہے اُس سے بے خبر رہتا ہے۔ ایسا نہیں کہ سب ہی غلط ہے بہت سی سبق آموز کہانیاں بھی ہیں اور کئی قیدی فنکار بھی ہیں ، پینٹر بھی ہیں تو پھر ایسے لوگ قید میں کیوں ہیں اور کچھ نہیں تو اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ہی اُنہیں رہا کیوں نہیں کیا جا سکتا۔
ابھی میں ایک بورڈ کو دیکھ کر یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میری نظرایک دوسرے بورڈ پرپڑی جس پرلکھا تھا، سندھ پریزن اینڈ کریکشن سروسز رولز 2019 ،جس کے رول نمبر 771کے مطابق قیدیوں کو درج ذیل مراعات حاصل ہوں گی، اس کی ایک لمبی فہرست ہے جو اگر واقعی قیدیوں کو حاصل ہوں تو بڑی اصلاحات کی ضرورت ہی نہ ہو۔ مثلاً ملاقات، فون کال، ویڈیو کال، خط وصولی، خط بھیجنا، ازدواجی ملاقات، لائبریری کا استعمال، موسیقی کے پروگرام ، ان ڈور اور آؤٹ ڈور گیمز، چہل قدمی اور کچھ دیگر سہولتیں۔ اب اگر ایسی مراعات قیدیوں کو حاصل ہیں تو پھر ہم کونسی اصلاحات کی بات کررہے ہیں۔ اس لیے کہ شاید زمینی حقائق اس سے بہت مختلف ہیں اوریہ وہی بتا سکتے ہیں جنہوں نے اصل میں جیل کاٹی ہے اور میں کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی چند قیدیوں سے ملا جنہوں نے سات سال سے لے کر 12سال تک جیل کاٹی ہے اور یہ سیاسی قیدی نہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر جیل اصلاحات کے حوالے سے کسی ایسے قیدی کی بھی کہانی سن لی جاتی جس نے برسوں جیل کاٹی تو شاید اصل صورتحال پتہ چل جاتی۔ سیاسی قیدیوں کے ساتھ ہونے والاسلوک اپنے وقت کی حکومتوں کی پالیسی کے مطابق ہوتا ہے۔ ’جیل رولز‘ کے تحت نہیں چونکہ مجموعی طور پر ہمارا ’’سیاسی مزاج‘‘ جاگیردارانہ ہے لہٰذا اپنے مخالف کو جیل کی کال کوٹھڑی میں رکھنے سے انہیں سکو ن ملتا ہے۔ ایسا مزاج آپ کو صرف دیہی علاقوں میں ہی نہیں شہری علاقوں میں بھی ملے گا۔ مگر یہاں بات ہو رہی ہے عام قیدیوں کی جن کی کہانیاں اور کئی واقعات ناقابل بیان ہیں بس یوں سمجھ لیں کہ اگر آپ کی ’جیب‘ خالی ہے تو آپ بدترین سلوک کیلئے تیار ہو جائیں اور ’جیب بھاری اوربھری ہوئی ہے تو آپکو وی آئی پی بیرک مل سکتی ہے۔بصورتِ دیگر اگر ایک بیرک میں ڈیڑھ سو سے تین سو تک کے قیدی بند ہوں تو آپ خود کو خوش نصیب سمجھیں کہ آپکو کروٹ لینے میں مشکل نا ہو۔لہٰذا اگر واقعی اصلاحات کرنی ہیں تو سب سے زیادہ ذمہ داری عدالتوں کی ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلے خاص طور پر معمولی جرائم کے فیصلے ہنگامی بنیادوں پر کریں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایک قیدی کے ساتھ اتنا ہی سلوک ہو جتنا اس نے جرم کیا ہے، یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے۔ ہاتھ میں ہتھکڑی سے لے کر پیر میں بیڑیوں کو سخت سے ہلکا کرنے تک کے پیسے لیے جاتے ہیں،یہاں آلو کو گرنیڈ اور قورمہ کو ڈیزل کہا جاتا ہے۔ یہ بات اس قیدی نے بتائی جو بظاہر مالی طور پر اچھے خاندان کا فرد تھا اور 12سال جیل کاٹ کر آیاتھا۔ اسکے بقول کئی لاکھ روپے لگ گئے صرف سہولتیں لینےکیلئے۔
ویسے تو جیل میں کھانا بھی ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے اور بیکری بھی موجود ہے۔ پیسوںکیلئے ’جیل کی اپنی اے ٹی ایم، بھی ہے اور حال ہی میں کچھ مزید سہولتوں کا بھی اضافہ ہوا ہے مگر معاشرے میں پھیلنے والی کرپشن، جیلوںمیں بھی زور و شور سے جاری ہے۔ اب دیکھتےہیںحال ہی میں ہونیوالی ’جیل اصلاحات‘ کے حوالے سے سپریم کورٹ جیسے اہم ترین ادارے کے زیر اہتمام قومی کانفرنس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں کیونکہ ویسے بھی ہمارے یہاں کاغذی کام زیادہ ہوتے ہیں، شائد اس بار کچھ مختلف ہو جائے۔کانفرنس میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اڈیالا جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کیا کہ انہیں ایک سال تک یہاں بند رکھا گیا تو کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی اڈیالا جیل میں ہی بانی تحریک انصاف عمران کے ساتھ ہونے والے سلوک کا بھی ذکر کیا جو تین سال سے یہیں بند ہیں۔ اچھا ہوتا اگر دونوں یہ بھی بتاتے کے انکی حکومتوں میں جیلوں کے حالات کیا ہیں۔ کہہ نہیں سکتا کہ آخری بار یا کتنی بار ان دونوں نے اپنے صوبوں کی جیلوں کا دورہ کیا۔ کہہ نہیں سکتا کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے صوبہ کی جیلوں کا کیا حال بیان کیا یا سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ صاحب کو یہ علم بھی ہے کہ کراچی سینٹرل جیل میں پچھلے کئی ماہ سے خواتین ملاقاتیوں پر پابندی لگی ہوئی ہے، چاہے وہ کسی سزا یافتہ یا انڈر ٹرائل کی ماں ہو، بیوی ہویا بہن ۔کہتے ہیں اسکی وجہ ’سیکورٹی‘ ہے یعنی خواتین سیکورٹی رسک ہیں۔
وزرائے اعلیٰ کی کہانیاں یا ذمہ داریاں اپنی جگہ مگر سب سے اہم ذمہ داری خود عدلیہ کی ہے۔ آخر کیوں ایک انڈر ٹرائل ملزم وہ بھی جو سنگین جرم میں ملوث نا ہو، مہینوں ، برسوں جیلوں میں رہے اور پھر وہاں جو اسکے ساتھ سلوک ہو وہ مجرم بن کر باہر آئے۔ ’جیل اصلاحات‘ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ میں نے آپ کو صرف جیل کی اے بی سی بتائی ہے ورنہ تو یہ پوری اک کتاب ہے، سیاسی قیدی سے عام قیدی تک، کبھی موقع ملا تو قیدیوں کی کہانی انہی کی زبانی بیان کروں گا۔ اصل سیاسی قیدی جیل میں وقت کیسے گزارتے تھے،ایک بار سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو لاہور کی جیل میں بند تھے۔ ان کے وکیل یحییٰ بختیار ان سے ملنے آئے تو بھٹو نے پوچھا ’’کیا خبریں ہیں مجھے اخبار نہیں مل رہا آج کل‘‘۔ یحییٰ بختیار نے جواب دیا ،’’کچھ اخبار لکھ رہے ہیں آپ کو یہاں شراب دی جاتی ہے‘‘۔ جس پر بھٹونے مسکراتے ہوئے سامنے کھڑے جیلر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’یہ پھر بھی مجھے نہیں دیتا۔‘‘
خان عبدل ولی خان کی بیرک بارش کے باعث پانی سے بھر گئی تو وہ ساری رات ایک کونے میں چا درڈال کر بیٹھے رہے۔ جیلر صبح آیا تو کہنے لگا ، ’’خان صاحب آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں میں بہتر بیرک دے دیتا۔ ولی خان نے جواب دیا، ’’میں قیدی ہوں‘‘۔
