اسرائیل کی حمایتی خاتون شہباز شریف کے وفد میں کیوں تھی؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ نیتوں کا حال تو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن فلسطین کے معاملے پر پاکستانی حکومت کی مشکوک پالیسی پر پاکستانی عوام بہت سے خدشات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی عوام کی سوچ وہی ہے جو محمد علی جناح کی تھی۔ پاکستانی عوام کسی بھی صورت دو ریاستی فارمولے کے نام پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر دو ریاستی فارمولے کے نام پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کیلئے سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
حامد میر روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تجزیے میں کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر تو زبردست تھی۔ ان کے اندازِ بیان میں اعتماد بھی جھلک رہا تھا لیکن ایک غیر متوقع تنازعے نے شہباز شریف کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی جانیوالی تقریر پر شکوک و شہبات کے سائے پھیلا دیئے۔ وزیر اعظم کے وفد میں ایک پاکستانی نژاد برطانوی خاتون شمع جونیجو کو شامل کیا گیا جو ماضی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پرستار رہی ہیں اور 2023 میں حکومت پاکستان سے تمغہ امتیاز بھی وصول کر چکی ہیں۔
وزیراعظم کی تقریر کے دوران یہ خاتون اقوام متحدہ میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی نظر آئیں تو سوشل میڈیا پر سوال اُٹھایا گیا کہ اسرائیل کیساتھ دوستی کی کھلم کھلا حمایت کرنیوالی یہ خاتون پاکستانی وفد کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟ خواجہ آصف نے فوری طور پر اس خاتون سے اعلان لاتعلقی کر دیا اور انہیں سرکاری وفد میں شامل کرنے کی ذمہ داری دفتر خارجہ پر ڈال دی۔
تاہم دفتر خارجہ نے بھی کمال سرعت سے ایک بیان جاری کر دیا کہ شمع جونیجو کا نام پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ کی منظوری سے شامل نہیں کیا گیا۔ اس خاتون کا دعویٰ تھا کہ وہ وزیر اعظم کی سپیچ رائٹر ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل کیساتھ دوستی کی حمایت کرنیوالی ایک برطانوی شہری پاکستان کے وزیراعظم کی سپیچ رائٹر کیسے بن گئی؟
حامد میر کہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تو جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران غزہ میں اسرائیل کے مظالم کی بھر پور مذمت کی لیکن سوشل میڈیا وزیر اعظم ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ کیساتھ اس اسرائیل نواز خاتون کی تصویروں سے بھر گیا ۔ ان تصویروں نے دفتر خارجہ کی وضاحت کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا۔
ادھر شمع جونیجو نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے ایڈوائزر کے طور پر اقوام متحدہ کے دورے کا حصہ تھیں اور انہوں نے وزیر اعظم کی ٹیم کے ساتھ مشترکہ طور پر تقریر کی تیاری میں کام کیا۔ انہوں نے لکھا "میں کئی مہینوں سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے پالیسی بریفس، ایڈوائس اور ریسرچ پر کام کر رہی تھی، جس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ مجھے وزیراعظم صاحب نے باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ کی تقریر تیار کرنے کا ٹاسک دیا، اور وفد کا حصہ بنایا۔”
شمع جونیجو کے مطابق انہیں باقاعدہ سیکیورٹی پاس جاری کیا گیا اور وہ وفد کے ہمراہ ہوٹل میں مقیم تھیں، جہاں انہوں نے وزیراعظم اور دیگر حکومتی شخصیات کے ساتھ کئی اہم سائیڈ میٹنگز میں شرکت کی، جن کی فوٹیج ٹی وی چینلز پر بھی نشر ہوئی۔انہوں نے یہ بھی کہا "میں بِل گیٹس کے ساتھ سائیڈ لائن میٹنگ، کلائیمیٹ کانفرنس اور اے آئی کانفرنس کا حصہ رہی، جہاں میں خواجہ آصف اور بلال کے ساتھ بیٹھی تھی۔ ہم نے تقریریں تیار کیں، چائے پی، تصاویر لیں اور ایک ہی کار میں واپس ہوٹل آئے۔”
شمع جونیجو کا دعویٰ ہے کہ ان کی شرکت اور کردار نہ صرف معروف بلکہ دستاویزی ہے، اور ان کے بقول: "میری واپسی کی فلائٹ پہلے سے طے شدہ تھی اور مشن کی پروٹوکول ٹیم مجھے ایئرپورٹ چھوڑنے آئی۔”
انہوں نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کی جانب سے ان کی شرکت کو غیر رسمی قرار دیے جانے پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ "اب خواجہ صاحب یہ سب کیوں کہہ رہے ہیں اور کس ایجنڈے کے تحت اپنے ہی وزیر اعظم کے تاریخی دورے کو متنازع بنا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم صاحب کو خواجہ آصف سے پوچھنا چاہیے۔
حامد میر کے بقول اس دوران ایک اور بحث یہ شروع ہو گئی کہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ کی وزیر اعظم شہباز شریف کیساتھ ملاقات میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر تو شامل تھے لیکن ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کیوں موجود نہیں تھے؟ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ اس طرح کی ملاقات میں کسی ملک کا وزیر خارجہ موجود نہ ہو؟ ان کے بقول یہ سوال اس لئے بھی پیدا ہوا کہ اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو موجود تھے لہذا پاکستان کے وزیر خارجہ کو شامل نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک اور سوال یہ بھی یے کہ اس اہم ترین ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم شہباز شریف نے میڈیا سے بات کیوں نہیں کی؟ اس پورے دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کیلئے چالیس سے زیادہ ممالک کے ایک بحری قافلے پر اسرائیل کے ڈرون حملوں پر خاموش رہے حالانکہ اس قافلے میں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت کچھ دیگر پاکستانی بھی شامل ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ نیتوں کا حال تو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن فلسطین کے معاملے پر حکومتی پالیسی پر عوام بہت سے خدشات کا شکار ہیں۔
