فیض کی گرفتاری کے بعد عمران کی رہائی ممکن کیوں نہیں رہی؟

لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی گرفتاری اور کورٹ مارشل کے فیصلے سے عمران خان کا اڈیالہ جیل سے باہر آنا ممکن نہیں رہا کیوں کہ اپنے جس منصوبہ ساز کے سر پر وہ مسلسل اسٹیبلشمنٹ کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیاں دے رہے تھے وہ اب خود اندر ہو گیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عمران خان نے اپنی سرشت کے عین مطابق فیض کی گرفتاری کے فورا بعد اسے ” ڈس اون” کرتے ہوئے فوج کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا ہے۔
جنرل حمید گل کے بعد آئی ایس آئی سربراہ کے طور پر جو شہرت اور بدنامی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید فرام چکوال کے حصہ میں آئی وہ کسی اور کو نصیب نہ ہوئی۔ لیکن ان دونوں افسانوی کرداروں کی فوج سے رخصتی غیر روایتی اور متنازعہ ترین رہی۔ یاد ریے کہ فیض حمید اگلے آرمی چیف بن کر اور عمران خان کے ساتھ اگلے دس سال تک چائنہ ماڈل والی حکمرانی کے منصوبے بنا رہے تھے۔ دنیا کی بہترین جاسوسی ایجنسی کی غیر معمولی شہرت رکھنے والی آئی ایس آئی پر ان کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ ان کے ماتحت کسی خوف احتساب کے بغیر سابق وزیر اعظم کی بیٹی تک کو ‘smash’ کرنے کی دھمکیاں دیتے پھرتے تھے۔ پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اکثریت کو چند لمحوں میں اقلیت میں تبدیل کرنے پر قادر تھے اور بقول عمران خان قانونی بلز کی منظوری کے لئے اتحادیوں اور آئینی ترامیم کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو گلے میں رسی ڈال کر آرام سے کھینچ لایا کرتے تھے۔
نیا دور کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ایسے میں فیض حمید کی گرفتاری جمہوری نظام میں فوجی عدالتوں کے قیام، بھٹو کی پھانسی، بینظیر بھٹو کے سرعام قتل جیسی بڑی خبر تھی اور بعض سیاسی عناصر کے لئے تو سقوط ڈھاکہ جیسی ‘شاکنگ’ اطلاع بھی تھی۔ ان کی گرفتاری کے حوالے سے آئے روز یہ کہا جاتا تھا کہ ہمت ہے تو پکڑ کر دکھاؤ، دیدہ دلیری اتنی تھی کہ فوج کے اندر اندرونی بغاوت کی دھمکیاں تک دی جاتی تھیں۔ لہٰذا صورت حال متقاضی بھی تھی کہ جس جنرل عاصم منیر کو قیدی نمبر 804 روزانہ الزامات لگا کر دھمکیاں دیتا ہے اس گرفتاری اور فیلڈ کورٹ مارشل جنرل کی کارروائی کے اعلان کے بعد اس کی بدن بولی کا بغور جائزہ لیا جائے۔ ویسے کاکول کی تقریر کے الفاظ تو اہمیت رکھتے ہی ہیں کیونکہ حافظ صاحب مستقبل کی پالیسی اور سوچ کا پتہ دیتے ہیں لیکن ان کے لہجے کی گھن گرج، اور چہرے کا اعتماد بتا رہا تھا کہ اس گرفتاری سے پہلے بہت سا گراؤنڈ ورک کر لیا گیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ فیض کی گرفتاری سے پہلے 4 اہم ترین سربراہوں کے اجلاس میں حالات کا مکمل اور تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پھر زیر زمین پنپتی سازشوں کو ناکام بنانے کے ذمہ داروں سے مشاورت ہوئی اور یوں علماء اور مشائخ کانفرنس کے لئے تقریر بھی ہوئی جس میں لاکھوں عاصم منیر اور سیاست دانوں کو قربان کرنے کی بات ہوئی۔ اگلے مرحلہ میں سمارٹ اسپائے چیف کو بلا کر چارج شیٹ سے آگاہ کیا گیا، انہیں راولپنڈی والی رہائش گاہ نہ چھوڑنے کی ہدایت ہوئی اور پھر 24 گھنٹوں کے بعد تحویل میں لے لیا گیا۔ بظاہر تو برادر خورد کی وارداتیں اور ٹاپ سٹی ان کی گرفتاری نما تحویل کی بنیادی وجوہات قرار دی جاتی ہیں لیکن گہرائی سے دیکھیں تو وجوہات کچھ اور ہیں اور چارج شیٹ بہت طویل ہے، اہم ترین بات یہ ہے کہ فیض حمید پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آرمی ایکٹ کے خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر عمران کے منصوبہ ساز کی حیثیت سے 9 مئی 2023 کے حملوں کی پلاننگ کا الزام درست ہے تھے۔
ذرائع کے مطابق ‘پراجیکٹ عمران خان” لپیٹ تو 9 مئی ہی کو دیا گیا تھا، مگر اب اس کی فائل بھی بند کر کے داخل دفتر کر دی گئی ہے، اس دفتر کو بھی 7 تالے لگا دیے گئے ہیں۔
