خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی لگے گی یا گورنر راج؟

حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کی ناکامی اور خیبر پختونخواہ سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ وفاق کے پی میں گورنر راج نافذ کرتا ہے یا ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرتا یے۔

سیاسی حلقوں میں یہ سوال اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ وفاقی حکومت پہلے ہی خیبرپختونخوا میں آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کرنے کا عندیہ دے چکی ہے، 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد وفاق اور کے پی حکومت کے درمیان محاذ آرائی مزید کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ لانگ مارچ کے آغاز بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا براہ راست ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں انسداد دہشت گردی سے متعلق کیے گے وعدوں سے دستبرداری اختیار کر لی اور مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا۔ محسن نقوی کے مطابق فریقین کے درمیان ایک تحریری معاہدے اور 72 گھنٹے میں عملدرآمد پلان پر اتفاق بن گیا تھا، تاہم آخری مرحلے میں وزیراعلی آفریدی تمام طے شدہ باتوں سے پیچھے ہٹ گئے۔ ان کے اس موقف کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ وفاق اب مذاکرات کے بجائے صوبائی حکومت کے خلاف آئینی راستہ اپنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

اسی دوران گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا وفاقی حکومت کے مؤقف کے قریب آنا بھی سیاسی طور پر غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ گورنر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ گورنر راج ایک آخری آپشن ہوتا ہے اور وفاق اور صدر مملکت کسی بھی ایسے فیصلے پر انتہائی احتیاط سے غور کریں گے۔ موجودہ صورتحال میں گورنر کی جانب سے صوبائی حکومت پر انسداد دہشت گردی کے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام اور پی ٹی آئی پر سخت تنقید نے ان افواہوں کو مزید تقویت دی ہے کہ اگر ڈیڈلاک ختم نہ ہوا تو گورنر ہاؤس وفاقی حکمت عملی کا اہم آئینی مرکز بن سکتا ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے میں ناکامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کے تحفظ کی ذمہ داری سے بھی غافل نہیں رہ سکتی۔

تاہم یہاں ایک بنیادی آئینی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا تعلق جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی سے ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو جائے۔ موجودہ آئینی متن کے مطابق اگر اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی لگائی جائے تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہوتی ہے، جبکہ صدر مملکت اگر اپنی طرف سے اقدام کریں تو اعلان کو دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا لازم ہے۔ اس لیے صرف وفاقی حکومت کی خواہش یا کابینہ کے سیاسی فیصلے سے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ نہیں ہو جاتی۔ ایسے میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کر دیں گے اور بعد میں پارلیمنٹ کے دویں ایوان اس کی منظوری دیں گے۔

دوسری طرف آرٹیکل 234 ایک بالکل الگ آئینی راستہ ہے، جسے عمومی سیاسی اصطلاح میں گورنر راج کا نفاذ کہا جاتا ہے۔ اس شق کا تعلق اس صورتحال سے ہے جب صدر مملکت اس نتیجے پر پہنچیں کہ صوبائی حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا۔ اس صورت میں صوبائی گورنر کی رپورٹ ایک اہم آئینی بنیاد بن سکتی ہے اور صدر مملکت صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں یا گورنر کو ان اختیارات کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات کو بھی مخصوص آئینی طریقہ کار کے تحت پارلیمان کے ذریعے قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔

آئینی ماہرین کے مطابق وفاق کو ایمرجنسی یا گورنر راج میں سے جو بھی راستہ اپنانا ہے اس کے الگ الگ قانونی اثرات ہیں۔ وفاقی حکومت کو جس راستے کا انتخاب کرنا ہوگا، اسے متعلقہ آئینی شرائط، صدر کے کردار اور پارلیمانی منظوری کے تقاضوں سے گزرنا ہوگا۔ موجودہ بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں خیبر پختونخوا کی صورتحال، امن و امان اور آئینی و قانونی آپشنز پر غور ہو چکا ہے۔ صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز سریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی مشاورت میں گورنر راج اور ایمرجنسی دونوں آپشنز زیر بحث آئی تھیں، تاہم حکومت نے پہلے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اب مذاکرات بھی ناکام ہو چکے اور لانگ مارچ بھی شروع ہو چکا ہے، اس لیے وفاق پر سیاسی دباؤ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے تحفظ کا معاملہ ہے، دوسری طرف خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال کو بنیاد بنا کر وفاق پہلے ہی آئینی اختیارات کے استعمال کا عندیہ دے چکا ہے۔ محسن نقوی کی جانب سے سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام اور گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبائی حکومت پر سخت تنقید نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ لانگ مارچ کے بعد وفاقی حکومت کے پاس آئینی اقدامات کا آپشن موجود ہے۔ تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وفاق نے حتمی طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے دونوں راستوں پر غور کیا ہے، لیکن کسی بھی حتمی اقدام کے لیے آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی اور امن و امان کے مسئلے کو بنیاد بنا کر کس آئینی شق کا سہارا لیتی ہے، صدر اس پر کیا فیصلہ کرتے ہیں، پارلیمان میں اتحادی جماعتیں کس حد تک ساتھ دیتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس فیصلے کو عدالتوں اور سیاسی میدان میں کس حد تک آئینی جواز حاصل ہوتا ہے۔

Back to top button