آذربائجان کی رہپ وکٹم ڈیانا کو ڈیپورٹ کرنے کا فیصلہ

لاہور میں ایک بااثر سیاسی خاندان کے چشم و چراغ کے ہاتھوں ذیادتی کا نشانہ بننے والی آذربائیجان کی 22 سالہ لڑکی ڈیانا کو اس کے دائر کردہ ریپ کیس کی کارروائی کے دوران پاکستان سے بے دخل کرنے کی پہلی کوشش تو ناکام ہو گئی ہے، لیکن حکام نے اسے اگلے 24 گھنٹے میں ملک سے بے دخل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ پولیس حکام کے اس فیصلے نے ریپ وکٹمز کے لیے فوری انصاف کی فراہمی کے مریم نواز کے دعووں پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ڈیانا کو لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں ڈیانا پولیس حکام پر خود کو زبردستی آذربائجان واپس بھیجنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اسے وکیل کرنے اور اپنا دفاع کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور پاکستان سے ڈیپورٹ کیا جا رہا ہے، تاہم آذربائیجان جانے والی پرواز میں بٹھائے جانے کے باوجود ڈیانا نے واپس جانے سے انکار کردیا اور جہاز سے آف لوڈ کروانے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ کافی بحث اور تکرار کے بعد سیکیورٹی حکام اسے جہاز سے نکال کر اپنے ساتھ لے گے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود ڈیانا لاہور ایئرپورٹ پر موجود ہے، کیونکہ اس کا پاسپورٹ چھین لیا گیا ہے جس کے بعد وہ کہیں جانے کی پوزیشن میں نہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ اصولی فیصلہ ہو چکا ہے کہ ڈیانا کو ہر صورت پاکستان سے ڈیی پورٹ کر کے واپس اذربائجان بھجوایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم اس کے ساتھ جائے گی۔ سوشل میڈیا پر موبائل سے بنائی گئی ایک وائرل ویڈیو میں ڈیانا ایئرپورٹ پر ٹوٹی پھوٹی اردو میں یہ بتاتی ہوئی سنائی دیتی ہے کہ اسے زبردستی پاکستان سے واپس اذربائجان ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے حالانکہ اس کے کیس کی تفتیش جاری ہے اور وہ اسے انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا پاسپورٹ بھی چھین لیا گیا ہے اور اسے زبردستی جہاز میں بھجوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ معاملہ اس لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ ڈیانا کا مقدمہ ابھی پولیس تفتیش کے مرحلے میں ہے، پولیس نے اس کیس میں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر رکھا ہے جبکہ ایک با اثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے چوتھے ملزم کی تلاش جاری ہے۔ لاہور پولیس کے مطابق گرفتار افراد پر ڈیانا کو ایک فلیٹ میں لے جاکر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے اور جرم کے فرانزک شواہد بھی حاصل کیے جا چکے ہیں۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا نے 3 اکتوبر کو بتایا تھس کہ اس کیس میں تین ملزمان گرفتار ہیں اور ایک چوتھے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ڈیانا نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ لاہور پہنچنے کے بعد اسے دو خواتین ایک کیفے میں لے گئیں جہاں موجود تین مردوں نے اسے نشہ آور چیز پلائی اور بعدازاں اسے ایک فلیٹ میں لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے بعد میں اسے ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد مشتبہ افراد کی شناخت کی اور ان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے۔

ڈیانا کے معاملے میں ایک اہم قانونی پیش رفت یہ بھی ہو چکی ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران اس کا بیان بھی ریکارڈ کیا جا چکا یے جس میں اس نے ریپ کرنے والے ملزمان کے نام بتائے ہیں۔ چنانچہ اہم سوال یہ ہے کہ جب ڈیانا کا ریپ کا کیس زیر تفتیش ہے، اس سے زیادتی کرنے والے ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں اور فرانزک شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں تو اس مرحلے پر اسے پاکستان سے واپس بھیجنے کی کوشش کیوں کی جا رہی یے اور اس کے پیچھے کون سے با اثر افراد ہیں؟

دوسری جانب ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیانا کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی گئی۔ انکے مطابق خاتون نے چیک اِن اور امیگریشن مکمل کرنے کے بعد جہاز میں سوار ہونے کے باوجود اچانک واپسی سے انکار کردیا جس کے بعد اسے آف لوڈ کردیا گیا۔ ڈیانا نے حکام کو بتایا کہ وہ پاکستان میں رہ کر اپنے مقدمے کی پیروی کرنا چاہتی ہے اور آذربائیجان واپس نہیں جانا چاہتی۔ اس پیش رفت نے ایک بنیادی سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر ایک غیر ملکی خاتون پاکستان میں خود کو جنسی زیادتی کا متاثرہ قرار دے کر فوجداری مقدمہ درج کراچکی ہو تو اس کی رضامندی، قانونی نمائندگی اور مقدمے کی پیروی کے حق کو کس طریقے سے یقینی بنایا جائے گا۔ بالخصوص اس وقت جب پولیس خود کہہ رہی ہے کہ مقدمے میں گرفتاریاں ہوئی ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

ڈیانا کا معاملہ جولائی میں لاہور کے علاقے ڈیفنس میں پیش آنے والے ایک دوسرے مقدمے کی بھی یاد دلاتا ہے، جس میں نیدرلینڈز اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین نے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کی شکایت کی تھی۔ پولیس نے مقدمہ درج کیا، متعدد افراد کو گرفتار کیا اور عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔ 17 جولائی کو لاہور کی عدالت نے چار ملزمان، جن میں احمد رضا ڈار بھی شامل تھا، کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں احمد رضا ڈار کو وفاقی وزیر خزانہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا سگا نواسہ قرار دیا گیا تھا، اہم بات یہ ہے کہ پولیس اور عدالت کے ریکارڈ کے مطابق احمد رضا ڈار سمیت ملزمان کے خلاف اغوا اور ریپ کی دفعات کے تحت کارروائی ہوئی اور عدالت نے انہیں ریمانڈ پر بھیجا۔ تاہم اس کیس میں بھی ریپ ہونے والی غیر ملکی خواتین کو زبردستی پاکستان سے واپس ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا جس کے بعد سے کیس ٹھنڈا ہو چکا ہے۔

یوں لاہور میں چند ماہ کے اندر غیر ملکی خواتین سے متعلق دو سنگین جنسی جرائم کے مقدمات سامنے آچکے ہیں، جن میں متاثرہ خواتین نے پاکستانی پولیس اور عدالتوں سے انصاف کی درخواست کی۔ ڈیانا کے معاملے میں اب نیا سوال یہ ہے کہ اگر وہ پاکستان سے چلی جاتی ہے تو اس کی عدم موجودگی میں مقدمے کی مزید کارروائی، شناخت، گواہی اور دیگر قانونی تقاضے کس طرح پورے کیے جائیں گے۔ خاص طور پر جب پولیس خود اس کیس میں مزید گرفتاریوں اور فرانزک تحقیقات کی بات کررہی ہے۔

سب سے بڑا سوال اب یہ نہیں کہ ڈیانا کو صرف ایئرپورٹ تک کیوں لایا گیا، بلکہ یہ ہے کہ ایک زیر تفتیش مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے کی متاثرہ غیر ملکی خاتون کو پاکستان سے واپس بھیجنے کی ضرورت کس نے محسوس کی، اس فیصلے کی قانونی بنیاد کیا تھی اور کیا متاثرہ خاتون کو اس فیصلے کے خلاف مؤثر قانونی چارہ جوئی کا موقع دیا گیا؟ اگر حکام کے پاس اس کارروائی کے لیے قانونی جواز موجود ہے تو اسے سامنے لانا ہوگا، اور اگر ڈیانا کو اس کی مرضی کے خلاف بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی تو اس فیصلے کے ذمہ داروں سے جواب طلب کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

 

 

Back to top button