لاہور میں بینک ڈکیتی کرنے والا برطانوی کیسے پکڑا گیا؟

لاہور میں فلمی انداز میں صرف نو منٹ کے اندر نجی بینک میں ڈکیتی کرنے والا برطانوی شہریت رکھنے والا پاکستانی نوجوان واردات کے صرف تین گھنٹے بعد ہی پولیس کے شکنجے میں آ گیا، جس کی بنیادی وجہ لاہور میں بچھایا گیا جدید سیف سٹی کیمروں کا وسیع نیٹ ورک بنا۔ پولیس نے بینک سے فرار ہونے کے بعد ملزم کی گاڑی اور نقل و حرکت کو مختلف کیمروں کی مدد سے مسلسل ٹریک کیا اور بالآخر اسے ایک زیر تعمیر گھر سے گرفتار کر لیا، جہاں وہ لوٹی ہوئی رقم اور اسلحہ سامنے رکھ کر گیم کھیل رہا تھا اور بررون ملک فرار ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق ساؤتھ کینٹ کے علاقے میں واقع نجی بینک میں واردات کی اطلاع ملتے ہی آپریشنز ونگ اور سیف سٹی کیمروں کی ٹیموں نے مل کر کارروائی شروع کی۔ ملزم ہونڈا سِوک پر بینک پہنچا تھا جس کی نمبر پلیٹ سیاہ رنگ کے پینٹ سے چھپائی گئی تھی، جبکہ اس کے پاس پستول بھی موجود تھا۔ بینک میں داخل ہوتے ہی اس نے سکیورٹی گارڈ کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا اور دوسرے گارڈ سے بھی اس کا ہتھیار نیچے رکھوا لیا، بعد ازاں دونوں گارڈز کے اسلحے بھی اپنے ساتھ لے گیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق ملزم نے بینک کے عملے کو خوف زدہ کر کے رقم حوالے کرنے پر مجبور کیا، تاہم بینک مینیجر نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اسے بتایا کہ بڑی رقم لاکر میں موجود ہے جسے صرف مینیجر ہی کھول سکتا ہے، جبکہ اس وقت کاؤنٹر پر موجود رقم ہی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کے باعث ملزم صرف 7 لاکھ 26 ہزار روپے لے کر بینک سے فرار ہوا اور عملے نے مزاحمت کے بجائے لوگوں کی جانیں محفوظ رکھنے کو ترجیح دی۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم برطانوی شہری ہے اور تقریباً چھ برس تک سکاٹ لینڈ میں ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کر چکا ہے۔ وہ 16 ستمبر کو برطانیہ سے پاکستان آیا تھا اور اس سے پہلے بھی پاکستان آتا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس برطانیہ سے لائے گئے تقریباً 1200 پاؤنڈز تھے جو خرچ ہو گئے، جبکہ برطانیہ میں اپنے اہل خانہ سے جھگڑے کے بعد وہ پاکستان آیا تھا۔ رقم ختم ہونے کے بعد اس نے مزید پیسوں کے حصول کے لیے اپنے گھر کے قریب واقع بینک کو ہدف بنانے کا منصوبہ تیار کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ اس کا طریقہ واردات پب جی گیم سے متاثر تھا، واردات کے بعد ملزم کی جانب سے فرار کے لیے کیے گئے انتظامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس نے کارروائی کے بعد ملک سے نکلنے کا راستہ بھی پہلے سے سوچ رکھا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ واردات کے فوراً بعد ایک زیر تعمیر گھر پہنچا، جہاں اس نے گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کر دی۔

ملزم نے اسلام آباد فرار ہونے کے لیے ایک دوسری گاڑی بھی تین لاکھ روپے میں کرائے پر حاصل کر رکھی تھی۔ اس کا منصوبہ تھا کہ واردات میں استعمال ہونے والی ہونڈا سِوک چھوڑ کر دوسری گاڑی میں اسلام آباد روانہ ہو جائے اور وہاں سے اگلی فلائٹ کے ذریعے پاکستان سے نکل جائے، مگر سیف سٹی کیمروں سے حاصل ہونے والی معلومات نے اس کے پورے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کیمروں سے ملنے والی مختلف مقامات کی فوٹیج کو آپس میں ملا کر پولیس نے اس کی نقل و حرکت کا تعین کیا اور چند ہی گھنٹوں میں اس مقام تک پہنچ گئی جہاں وہ روپوش تھا۔

پولیس اہلکار جب زیر تعمیر گھر میں داخل ہوئے تو ملزم لوٹی ہوئی رقم اور اسلحہ اپنے سامنے رکھ کر پب جی گیم کھیل رہا تھا۔ گرفتاری کی ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے اسے قابو کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک اہلکار اس سے پاسپورٹ اور بیرون ملک فلائیٹ کی ٹائمنگ بارے سوالات کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے ڈکیتی کی رقم میں سے 4 لاکھ 26 ہزار روپے نقد، واردات میں استعمال ہونے والی ہونڈا سِوک آر ایس ٹربو، دو پستول اور ایک 12 بور رائفل برآمد ہوئی ہے۔

تفتیش کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ ملزم نے اپریل میں سیالکوٹ سے 45 ہزار روپے میں پستول خریدا تھا جبکہ ٹھوکر کے علاقے سے 20 ہزار روپے میں گولیاں حاصل کی تھیں۔ پولیس ناجائز اسلحے کی خرید و فروخت اور ملزم تک ہتھیار پہنچانے کے ذرائع کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار نوجوان کا اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ سامنے نہیں آیا، جبکہ اسلحے کے حصول، واردات کی مکمل منصوبہ بندی، فرار کے لیے دوسری گاڑی کے انتظام اور گیم سے متاثر ہونے کے دعوے سمیت مختلف پہلوؤں کی مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کیمرہ سسٹم نے ملزم کی گرفتاری میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ لاہور کے سیف سٹی نظام کی اہمیت صرف کیمروں سے کسی واردات کی ویڈیو محفوظ کرنے تک محدود نہیں بلکہ مختلف مقامات پر نصب نگرانی کے کیمروں سے ملنے والی معلومات کو پولیس کے آپریشنز کے ساتھ مربوط کرنا اس نظام کی اصل طاقت ہے۔ اسی مربوط نگرانی کے ذریعے پولیس کسی مشتبہ گاڑی یا شخص کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک نقل و حرکت کا سراغ لگا سکتی ہے، جس سے واردات کے بعد فرار کا وقت محدود ہو جاتا ہے۔ موجودہ واقعے میں بھی ملزم نے گاڑی کی نمبر پلیٹ چھپانے، گاڑی تبدیل کرنے اور اسلام آباد فرار ہونے کی منصوبہ بندی کی، مگر شہر میں موجود کیمروں کے نیٹ ورک نے اس کے راستے کی کڑیاں جوڑ دیں۔

یہی وجہ ہے کہ لاہور کا سیف سٹی نظام پاکستان کے دیگر صوبوں میں موجود شہری نگرانی کے نظام کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور مربوط نظام کے طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ اس واقعے نے لاہور کے سیف سٹی کیمروں کے کردار کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا جدید نظام پولیس کی ’’ریڑھ کی ہڈی‘‘ ہے اور اسی نظام کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت کو مختلف مقامات پر ٹریک کرتے ہوئے اس تک پہنچا گیا۔ لاہور میں جرائم کی روک تھام اور واردات کے بعد ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے کیمروں کا یہ مربوط نیٹ ورک اس کارروائی میں فیصلہ کن معاون ثابت ہوا، جہاں ایک منصوبہ بند بینک ڈکیتی کے بعد ملزم کو صرف تین گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاہور جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں اور قانون شکن عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔

Back to top button