اگلے الیکشن کے وقت بندیال چیف جسٹس ہوں گے یا فائز عیسی؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس عمر عطا بندیال کو اگلا چیف جسٹس مقرر کئے جانے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اگلے انتخابات جسٹس بندیال کی نگرانی میں ہوں گے یا پھر تب تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بن چکے ہوں گے؟

واضح رہے کہ صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت جسٹس عمر عطا بندیال کو سپریم کورٹ کا اگلا چیف جسٹس مقرر کر دیا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال دو فروری 2022 کو اپنے عہدے کا حلف لینے کے بعد باقاعدہ ذمے داریاں سنبھالیں گے اور تقریباً 19 ماہ تک چیف جسٹس کے عہدے پر رہیں گے۔

انکے عہدے کی مدت 16 ستمبر 2023 کو مکمل ہوگی۔ اسکے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن، چیف جسٹس مقرر ہوں گے اور وہ 4 اگست 2025 کو ریٹائر ہو جائیں گے، ان کی جگہ جسٹس سید منصور علی شاہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔

یاد رہے کہ جسٹس بندیال اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔ بندیال کی بطور چیف جسٹس نامزدگی کے بعد سیاسی حلقوں میں اس سوال پر بحث ہورہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے وقت بھی کیا جسٹس بندیال ہی چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے یا پھر ان کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی ان کی جگہ سپریم کورٹ کی اعلی ترین کرسی پر براجمان ہو چکے ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اگر وزیراعظم عمران خان نے قبل از وقت اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دیا یا پارلیمنٹ نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو گھر جانے پر مجبور کردیا گیا تو عین ممکن ہے کہ عام انتخابات رواں برس کے آخر میں یا زیادہ سے زیادہ اگلے برس کے اوائل میں ہوں۔ ایسی صورت میں جسٹس عمر عطا بندیال ہی اس انتخابی عمل کی نگرانی کریں گے۔

تجزیہ کار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عمران ساڑھے تین سال کی بدترین کارکردگی کے بعد باقی ماندہ عرصے میں پورا زور لگا کر ڈیلیور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو خاصا مشکل نظر آتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی مدنظر رہے کہ تحریک انصاف کے بعض لیڈران یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں سے انتخابات کروانے کے لیے مزید وقت درکار ہے لہذا آئندہ عام انتخابات کو 2024 کے آخر تک بھی لاجایا جا سکتا ہے۔

تاہم ایسا ہونے کی صورت میں ستمبر 2013 میں جسٹس عمر عطا بندیال اپنی مدت مکمل کر کے جا چکے ہوں گے اور پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے والے جسٹس قاضی فائز عیسی چیف جسٹس آف پاکستان کی کرسی پر بیٹھے ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے آئندہ چند مہینے انتہائی اہم ہیں جس کے دوران یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا اگلے انتخابات کے وقت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال ہی ہوں گے یا اس انتخابی عمل کی نگرانی نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کریں گے۔

خیال رہے کہ جہاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک اپ رائٹ اور جمہوریت پسند جج سمجھا جاتا ہے وہیں جسٹس عمر عطا بندیال کو کسی حد تک اسٹیبلشمنٹ نواز جج قرار دیا جاتا ہے تاہم ان کی قابلیت اور مہارت کے سبھی قائل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر کمرشل تنازعات میں وکالت کرنے والے عمر عطا بندیال سترہ ستمبر 1958 کو لاہور میں پیدا ہوئے جبکہ ابتدائی تعلیم، کوہاٹ، پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف سکولوں میں حاصل کی۔

امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی سے اکنامکس میں گریجویشن کے بعد انہوں نے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی جبکہ لندن کے مشہور لنکنز اِن سے بیرسٹر ایٹ لا کیا۔ سنہ 1983 میں عمر عطا بندیال کی لاہور ہائیکورٹ میں بطور وکیل انرولمنٹ ہوئی۔

انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج لاہور میں کنٹریکٹ لا اور ٹورٹس لا کے مضامین بھی پڑھائے۔ بطور وکیل انہوں نے زیادہ تر بینکنگ، کمرشل، ٹیکس اور پراپرٹی کے مقدمات لڑے۔ وہ لندن اور پیرس میں قائم مختلف ثالثی ٹریبونلز میں بھی پیش ہوئے۔ عمر عطا بندیال کو سنہ 2004 کے آخری مہینے میں لاہور ہائیکورٹ کا جج بنایا گیا اور انہوں نے نومبر 2007 میں پرویز مشرف کے پی سی او پر حلف اٹھانے سے انکار کیا۔

رانا شمیم سمیت تمام فریقین فرد جرم عائد کرنے کیلئے طلب

وکلا کی تحریک کے نتیجے میں عدلیہ بحالی کے دوران وہ عدلیہ میں واپس آئے۔ جون 2014 میں سپریم کورٹ کے جسٹس کے طور پر تعیناتی سے قبل وہ دو برس لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد کے چھوٹے بھائی فیصل فرید چوہدری ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ‘جسٹس عمر عطا بندیال متوازن شخصیت اور دھیمے مزاج کے جج ہیں جو قانون پر عبور رکھتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے چیف جسٹس وکلا کی بات سنتے ہیں اور ان کو کبھی عدالت میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

حسب توقع فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا عدلیہ میں تحمل سے وکلا کے دلائل سننے والے ججز کم ہوتے جا رہے ہیں اور جسٹس عمر عطا بندیال ان ججز میں سے ہیں جو پرسکون رہ کر فریقین کے وکلا کو سن کر عدالت چلاتے ہیں۔ جسٹس بندیال میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں آئین کے تحت چیف جسٹس سمیت کُل 17 ججز ہو سکتے ہیں۔ اس وقت سپریم کورٹ میں 16 ججز ہیں اور جسٹس عائشہ ملک کے تعیناتی کی پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد تعداد پوری ہو جائے گی۔ رواں سال چیف جسٹس گلزار احمد کے علاوہ سپریم کورٹ کے چار ججز اپنی مدت مکمل کرنے پر عہدوں سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ جسٹس قاضی محمد امین 25 مارچ کو ریٹائرڈ ہوں گے۔

وہ تقریبا تین برس سپریم کورٹ کے جج رہے۔اس سے قبل وہ لاہور ہائیکورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔ جسٹس مقبول باقر چار اپریل کو 65 برس کی عمر پوری ہونے پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔جسٹس باقر سات برس سپریم کورٹ کے جج رہے۔ اس دوران انہوں نے کئی اہم فیصلے قلمبند کیے۔ وہ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں جہاں ان کراچی میں ایک خودکش حملہ بھی کیا گیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل رواں برس ریٹائرڈ ہونے والے سپریم کورٹ کے تیسرے جسٹس ہوں گے۔ ان کے عہدے کی مدت 13جولائی کو مکمل ہوگی۔جسٹس سجاد علی شاہ رواں سال 13 اگست کو 65 برس کی عمر پوری ہونے پر عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔انہوں نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

Back to top button