کیا صدارتی نظام حکومت میں عمران کامیاب ہو جائیں گے؟

تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ فوجی حکمرانوں کے زیر تسلط گزارنے والے پاکستان میں اب بھی وقفہ وقفہ سے پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام حکومت لانے کی بحث چھڑتی رہتی ہے۔ فوج کی چھتری تلے ساڑھے تین برس اقتدار میں گزارنے والے عمران خان حکومت کی ہر محاذ پر مکمل ناکامی کے بعد آج کل سوشل میڈیا پر دوبارہ سے ملک میں صدارتی نظام لانے کی بحث چل رہی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت بنے تین سال ہونے کو آئےہیں۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ’پاکستان میں صدارتی نظام نافذ کرنا آئینی طور پر ممکن نہیں کیونکہ پاکستان کا آئین پارلیمانی جمہوری نظام کی بات کرتا ہے۔ ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پچھلے تین برس میں کی آئینی پٹیشنز بھی دائر کی گئی لیکن انھیں غیر آئینی قرار دے کر رد کر دیا گیا۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دراصل سیاسی اور غیر سیاسی مافیاز وزیر اعظم کو ملکی مسائل حل نہیں کر دے رہے اور اگر ملک میں صدارتی نظام رائج کر کے عمران خان کو با اختیار کر دیا جائے تو وہ یقینا تمام مسائل حل کرلیں گے۔ لیکن کپتان کے ناقدین کی رائے ہے کہ جو جماعت ساڑھے اتنے برس حکومت کرنے کے باوجود بھی کسی محاذ پر کارکردگی نہیں دکھا سکی وہ صدارتی نظام حکومت میں بھی کچھ نہیں کر سکتی۔

ان کا کہنا ہے ویسے بھی عمران خان پچھلے کئی برسوں سے ایک مطلق العنان حکمران کیطرح ہی حکومت چلا رہے ہیں اور اگر اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت کے باوجود بھی وہ ڈیلیور نہیں کر پائے تو صدر بن کر کیا خاک کریں گے۔
سوشل میڈیا پر صدارتی نظام حکومت کے حق اور مخالفت میں بحث جاری ہے اور صارفین مختلف آرا پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں صدارتی نظام لاگو کرنا آئینی طور پر ممکن نہیں۔ صدارتی نظام لاگو کرنے کے سب زیادہ حامی بظاہر حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ہیں۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ اگر صدارتی نظام لاگو کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ نظام کوئی بھی ہو جب تک لیڈر نہیں بدلے گا ملک اور لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین کے مطابق صدارتی نظام کے بارے میں جاری بحث فی الحال بے معنی ہے۔ حکمران جماعت کے حمایتیوں کی جانب سے اس لیے یہ باتیں کی جارہی ہیں کہ ان کی حکومت نے عوام کو مایوس کیا ہے تو یہ اس پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ضرور ہو سکتی ہے۔

فہد نے کہا کہ ’صدارتی نظام نافذ کرنا کسی فرد واحد یا ادارے یا عدالت کے بس میں نہیں۔ اس کے لیے پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لینا لازمی ہے اور میں نہیں سمجھتا اس وقت اپوزیشن یا حکومتی اتحاد کی اکثریت صدارتی نظام لاگو کرنے کی حمایتی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’یہ بعض افراد کی رائے ضرور ہوسکتی ہے۔ لیکن زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس معاملہ میں سنجیدگی کا کوئی پہلو دکھائی نہیں دے رہا۔ لیکن فرض کریں صدارتی نظام لاگو کرنے کی کوشش ہوتی بھی ہے، تو لیڈر تو وہی ہیں جن میں سے کسی ایک کو صدر بننا ہے تو جو اس پارلیمانی نظام میں کارکردگی نہیں دکھا سکے وہ صدربن کر کیا انقلاب لے آئیں گے؟‘

دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے بھونپو لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے بھی صدارتی نظام کی بحث کو بلا جواز قرار دیا ہے۔ انکے مطابق جب تک عدلیہ اور انتظامی ادارے اور پارلیمنٹ میں موجود لوگ، ووٹرز اور لیڈرز وہی ہوں گے تو بہتری ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’گھوم پھر کر وہی 40 یا 50 لوگ قومی دھارے میں سیاسی منظر نامے پر چھائے نظر آئیں گے۔ علاقائی سیاست میں جو طاقتور ہوتا ہے وہی رکن اسمبلی بنتا ہے۔ مقامی طاقت کے زور پر پارٹیوں کو بلیک میل کر کے ٹکٹ لینے والوں سے ہی پارلیمنٹ ہر بار بھری ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کرپٹ اور بدمعاشی سے کامیاب ہونے والے مسائل کیسے حل ہونے دیں گے؟ یہی صورتحال اداروں کی ہے۔‘ امجد شعیب کے بقول: ’اگر صدراتی نظام پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت سے لاگو کرنے کی منظوری ہو بھی جائے تو لوگ تو وہی ہوں گے۔ باہر سے تو کسی کو لاکر صدر نہیں بنایا جاسکتا اور ادارے بھی وہی رہیں گے جو وزیر اعظم بن کر مسائل حل نہیں کر سکے وہ صدر بن کر کیسے تبدیل ہوسکتے ہیں؟‘ انہوں نے کہا کہ کہ ’پورے کا پورا نظام نیچے سے اوپر تک غیر موثر ہے۔ پہلے ایوانوں میں اداروں میں ایماندار اور اہل لوگ لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لوگ ذاتی مفاد سے بالا تر ہوکر نمائندے منتخب کریں گے تو ہی کسی حد تک مرحلہ وار مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘

قومی کرکٹرز کے اعزاز میں‌ پی سی بی کی اعزازی تقریب

سوشل میڈیا پر صدارتی نظام کا مطالبہ کیوں زور پکڑ رہا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فہد حسین کا کہنا تھا کہ لوگوں کو رائے دینے کا حق ضرور حاصل ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ اسے تسلیم بھی کروایا جا سکے۔ جہاں تک صدارتی نظام کے مطالبہ کی بات ہے تو پی ٹی آئی کے حامیوں کی خواہش ہے کہ شاید ان کے لیڈر کو زیادہ اختیار ملنے سے مسائل حل ہو جائیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’موجودہ نظام میں بہتری کی گنجائش ضرور موجود ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نظام مکمل ناکام ہوچکا ہے۔ سیاسی رائے یا بیان بازی اپنی جگہ لیکن اگر قابلیت ہو تو موجودہ نظام کو بہتر کر کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘

فہد حسین کے مطابق ایسی باتیں اس لیے کی جا رہی ہیں کہ اپنے پارٹی لیڈر کی خامیوں پر پردہ ڈالا جائے۔ تاکہ یہ رائے قائم ہو کہ لیڈر ٹھیک ہے باقی سب بہتری میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور انہیں ڈیلیور کرنے نہیں دیا جا رہا۔
امجد شعیب کی رائے میں پہلے بھی با اختیار صدور رہے ہیں لیکن نظام تو ایسے ہی رہا۔ فرض کریں عمران خان کو صدر بنا بھی دیا جائے تو کیا ضمانت ہے کہ وہ بہتری لانے میں کامیاب ہوں گے اور کیا وہ ہمیشہ رہیں گے؟ ان کے مطابق بہتری لانا کسی فرد واحد کے بس میں نہیں ہوتا۔

سب سے پہلے اداروں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے پھر پارٹیوں میں موروثی کی بجائے جمہوری روایات لازمی ہیں۔ اہلیت کا پیمانہ مقبولیت نہیں بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ملک میں ایک مکمل جمہوری پارلیمانی نظام موجود ہے۔ سب سے پہلے تو اس میں بہتری ناگزیر ہے۔ نظام بدلنے سے لوگ نہیں بدلتے بلکہ لوگوں کے بدلنے سے نظام بدلتا ہے اور اس کے لیے عہدوں کی نہیں نیت اور جذبے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔‘

Back to top button