کیا جناح کا پاکستان پرنس سلمان والی سوچ سے چل پائے گا؟


سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے پاکستان کسی کراؤن پرنس نے نہیں بنایا تھا بلکہ ایک اصول پرست اور جمہوریت پسند سیاست دان محمد علی جناحؒ نے بنایا تھا جہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں۔ لہٰذا جناح کے پاکستان کو صرف اور صرف ان کے جمہوری طرز فکر کے تحت ہی بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج ہمارے حکمران پاکستان کو قائداعظمؒ کا نہیں بلکہ شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اور یہی سوچ اس وقت پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں حامد میر کہتے ہیں کہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کا دوست ہے اور پاکستانی بطور ان کی بہت قدر کرتے ہیں، لیکن ہم پاکستان میں سعودی طرز کی بادشاہت کو قبول نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے مسائل کا حل نہ آمریت ہے، نہ بادشاہت ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل جمہوریت اور مزید جمہوریت ہے۔ پہلے ہمیں پاکستان کے مسائل حل کرنے ہیں، اس کے بعد ہی ہم دنیا کے مسائل بھی حل کر سکتے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں ایک دوسرے کےساتھ دست و گریباں ہیں لیکن کبھی سعودی عرب اور ایران کی صلح کروانے نکل جاتے ہیں اور کبھی افغان طالبان اور امریکہ کے مذاکرات کروا رہے ہوتے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوظہبی کے کراؤن پرنس شیخ محمد بن زید بن سلطان النیہان نے پاکستان کی ایک طاقتور شخصیت سے کہا کہ آپ کے ہم وطن ہمارے ملک میں ہر ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں اور ناقابلِ یقین کامیابیاں حاصل کرتے ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ یہی پاکستانی اپنے وطن میں ایسی کامیابیاں حاصل نہیں کر پاتے؟ یہ سوال سن کر پاکستان کی طاقتور شخصیت نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے ملک میں صرف ایک ہی کراؤن پرنس ہیں، آپ کے ہر حکم کو قانون کا درجہ حاصل ہے اور آپ کی حکم عدولی کے بارے میں کوئی سوچنے کی بھی جرات نہیں سکتا لیکن پاکستان میں تو ہر کوئی اپنے آپ کو کراؤن پرنس سمجھتا ہے، لہٰذا آپ کے حالات اور ہمارے حالات میں بہت فرق ہے۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کی اس اہم لیکن غیر سیاسی شخصیت نے ابوظہبی کے کراؤن پرنس کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ کے ملک میں بادشاہت ہے اور پاکستان میں جمہوریت ہے اور یہ وہ فرق ہے جو ہمارے سیاسی حکمرانوں کو ابھی تک سمجھ نہیں آیا اور ان کا رول ماڈل ابھی تک سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان بنے ہوئے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ محمد بن سلمان کا طرز حکومت سعودی عرب کیلئے بہت اچھا ہو سکتا ہے لیکن ان کے طریقہ حکومت کو پاکستان میں رول ماڈل بنا کر نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ پاکستان میں پارلیمانی نظام جمہوریت ہے۔ یہاں مرکز میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی حکومت بھی چلتی ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بھی چلتی ہے۔
یہاں وزیراعظم اور وزیر قانون مل کر سپریم کورٹ کے کسی جج پر مقدمہ بنانا چاہیں تو ایف آئی اے کا سربراہ انہیں اس آئین کی یاد دلاتا ہے جس کے تحت پاکستان کو چلایا جاتا ہے۔ جب وزیراعظم اور وزیر قانون اس جج کے خلاف ایک ریفرنس تیار کر کے صدر مملکت کے ذریعہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجتے ہیں تو سپریم کورٹ اس ریفرنس کو مسترد بھی کر دیتی ہے۔ حکومت کے سیاسی مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ وزیراعظم کے حکم پر نیب ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے۔
نیب بار بار قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کرتی ہے اور عدالتیں ہر بار شہباز شریف کو رہا کر دیتی ہیں لیکن کراؤن پرنس بننے کی خواہش کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
حامد میر کے مطابق جیسے جیسے یہ خواہش بڑھتی ہے تو پاکستان میں سیاسی کشیدگی بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کرونا کے موذی وائرس سے لڑ رہی ہے ہم پاکستانی ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ انکا اصرار ہے کہ ہمیںاس طرز فکر کے بارے میں سوچنا چاہئے جس نے کرونا وائرس کے مقابلے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کی بجائے یہ حکم دیا ہوگا کہ جاوید لطیف کو بھی غداری کے بھونڈے الزام میں گرفتار کرلو۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ میڈیا میں جو بھی حکومت پر کھل کر تنقید کرے اسے گرفتار کرانے کی خواہش پاکستان کو آگے نہیں بلکہ مذید پیچھے لیکر جائے گی کیونکہ پاکستان کسی کراؤن پرنس نے نہیں بنایا تھا بلکہ ایک سیاست دان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بنایا تھا اور پاکستان کو صرف اور صرف قائداعظم کے طرز فکر کے تحت ہی چلایا اور آگے لے جایا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے حکمران پاکستان کو قائداعظمؒ کا نہیں بلکہ۔ہرنس محمد بن سلمان کا پاکستان بنانے پر تلے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button