کیا افغان طالبان واقعی TTP کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ ہوں گے؟

پاکستان اور افغانستان کے مابین قطر امن معاہدے کے بعد اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کی طالبان حکومت واقعی تحریک طالبان کی سرپرستی چھوڑنے پر آمادہ ہو جائے گی۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر حملے بند کرتے وقت ہونے والے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ اب افغان حکومت تحریک طالبان کے دہشت گردوں کی سرپرستی نہیں کرے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان کو اجازت ہے کہ وہ دوبارہ سے افغانستان پر فضائی حملے شروع کر دے تاکہ دہشت گردوں کو مارا جا سکے۔
تاہم افغان طالبان کو خدشہ ہے کہ اگر انھوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی شروع کی تو اس کے جنگجو داعش میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں جو پہلے ہی طالبان حکومت کے خلاف برسر پیکار ہے۔ یوں افغانستان کی طالبان حکومت دونوں جانب سے مشکل میں پھنس چکی ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے مابین ہونے والے اس معاہدے کے بعد کئی روز سے بند سرحد اب جزوی طور پر کھل گئی ہے اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہونے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے افغانستان سے تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے ہیں دونوں ممالک کے مابین کبھی طویل سرحد پر باڑ لگانے پر مسئلہ ہوا تو کبھی سرحد پر آمدورفت پر تنازع رہا۔
چند سال قبل تک پاکستان کا مؤقف تھا کہ پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے لیکن اب جہاں افغانستان قدرے پر امن ہے لیکن دہشت گردی نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ افغانستان میں موجود تحریکِ طالبان کی مرکزی قیادت اور اس کے جنگجووں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کے سبب، پاکستان نے حال ہی میں افغانستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ اسکے علاوہ افغان مصنوعات کے لیے تجارتی راہدری کو بند کر دیا گیا تھا اور پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن تیز تر کر دیا گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے یہ اقدامات افغانستان کی طالبان حکومت کو تحریک طالبان کے خلاف کارروائیاں کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں؟ تجزیہ کاروں کے خیال میں دہشت گرد حملوں میں اضافے پر پاکستان کا ردعمل بہت واضح اور دوٹوک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان کوئی باقاعدہ حکومت تو ہیں نہیں اس لیے داعش اور اندرونی اختلاف کے خدشات کے سبب وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں بھی کبھی لڑائی تو کبھی جنگ بندی جیسی صورتحال ہی برقرار رہے گی۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ شدت پسند سرحد پار کر کے پاکستان آتے ہیں اور یہاں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ یکم جنوری سے 30 جون 2025 تک پاکستان میں 502 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 284 اہلکار ہلاک اور 267 عام شہری مارے گئے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا اور کابل میں برسر اقتدار طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے۔
شدت پسندی پر رپورٹ کرنے والے صحافی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم خراسان ڈائری کے مدیر افتخار فردوس کا کہنا ہے کہ اگرچہ نان سٹیٹ ایکٹر پاکستان اور افغانستان کو جنگ کے دہانے پر لے آئے ہیں لیکن افغان طالبان ان شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’افغانستان میں طالبان اپنے آپ کو اسلامی امارات کہتے ہیں اور امارات کا مطلب یہ ہے کہ جتنے بھی گروپس اس امارات کے ساتھ ہوتے ہیں وہ امیر کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک گروپ کے خلاف کارروائی امارات کو توڑنے کے مترادف ہے۔‘ افتخار فردوس کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی کوئی بھی کارروائی افغان طالبان کے گورننس کے ماڈل کے لیے خطرہ ہے اس لیے وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔‘
ماضی میں بھی افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ دیگر کئی اور شدت پسند گروہ بھی سرگرم رہے ہیں جن میں شدت پسند تنظیم داعش، القاعدہ اور ایسٹ ترکمانستان موومنٹ وغیرہ شامل ہیں۔افغانستان میں افغان طالبان نے کسی حد تک ایسٹ ترکمانستان موومنٹ کو تو کنٹرول کر لیا لیکن داعش اب بھی افغان طالبان کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور مخالف ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں افغان طالبان کو خدشہ ہے کہ اگر انھوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی کی تو ٹی ٹی پی کے جنگجو داعش میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افغان طالبان سے واحد توقع یہی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی روکیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’یہ صورتحال افغان طالبان کے لیے بھی مشکل صورت حال ہے کیونکہ اگر انھوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف زیادہ کارروائی کی تو وہ داعش الخراسان کو جوائن کر سکتے ہیں۔ جو افغان طالبان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ لہٰذا پاکستان اور افغانستان کو ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہو گا کیونکہ لڑائی یا جارحانہ حکمتِ عملی مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ بعض مبصرین کے خیال میں افغانستان کے معاملے پر پاکستانی پالیسی میں تبدیلی بھی مسائل میں اضافے کی وجہ بنی۔
نیویارک میں مقیم تجزیہ کار جہانگیر خٹک کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت کے بارے میں پاکستان کی پالیسی بدل گئی اور بیانیہ بدلنے سے بد اعتمادی بڑھی۔ جہانگیر خٹک کے مطابق ’پہلے پاکستان افغان طالبان کو تسلیم کروانے کے لیے دنیا بھر میں لابنگ کر رہا تھا پھر اب پاکستان خود یہ کہتا ہے کہ طالبان کی حکومت افغان عوام کی نمائندہ حکومت نہیں۔ اس صورتحال میں مسائل بڑھتے ہیں حل نہیں ہوتے۔‘ پاکستان کی جانب سے اس وقت افغانستان کی حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں اور حالیہ مذاکرات میں پاکستان کا واحد نقطہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی ہی تھا لیکن اگر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تو پاکستان کیا اقدامات اٹھا سکتا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ’تاریخی‘ کشیدگی کے بعد تو بس عسکری لحاظ سے یہی آپشن بچتا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر فضائی کارروائیاں تیز تر کرے اور ٹی ٹی پی کی قیادت ختم کر دے لیکن ایسا کرنا سود مند نہیں۔
اُن کے بقول ایسا کوئی بھی اقدام پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
