بلدیاتی الیکشن سے پہلے تحریک لبیک پر پابندی کا امکان

 

 

 

پنجاب حکومت کی سفارش پر وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا عمل تیز تر کر دیا ہے تاکہ دسمبر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے پہلے ہی ٹی ایل پی کو کالعدم جماعت قرار دیا جا سکے۔

 

باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت اور ریاستی اداروں نے ٹی ایل پی کے بارے میں مزید شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ پہلے سے حاصل شدہ شواہد حکومت کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ٹی ایل پی کے کچھ بڑے سہولت کار بھی منظر عام پر لائے جانے والے ہیں جو دہشت گردی کی بڑی وارداتوں اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مریدکے میں حالیہ دھرنے کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلہ کرنے والوں کو کیمروں کے ذریعے شناخت کر کے گرفتاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔ تاہم بچ جانے والے کچھ شر پسندوں کے خیبر پختون اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں منتقل ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

 

بتایا جا رہا ہے کہ تحریک لبیک کے مفرور قائد سعد رضوی اور ان کے چھوٹے بھائی انس رضوی ازاد کشمیر میں چھپے ہوئے ہیں جنہیں پابندی لگانے کے فیصلے سے پہلے گرفتار کر کے پولیس اہلکاروں کے مقدمہ قتل میں سزا دی جائے گی۔ پنجاب حکومت کی ترجمان نے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ ٹی ایل پی کی مالی مدد ( سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہوں گے۔ ان میں سے اب تک شناخت ہونے والوں کی تعدادار میں ہزار بتائی گئی ہے اور انکشاف کیا گیا ہے کہ ان سہولت کاروں میں بڑے بڑے نام اور پڑھے لکھے لوگ بھی شامل تھے۔ اسی طرح انہوں نے بتایا ہے کہ ٹی ایل پی کے امیر کے گھر سے برآمد ہونے والے قیمتی سامان میں تقریباً دو کلو گرام سونا، پون کلوگرام سے زائد چاندی، انہتر قیمتی (برانڈڈ) گھڑیاں، چاندی کے تاج اور انگوٹھیوں کے علاوہ پچاس ہزار روپے بھارتی کرنسی بھی برآمد ہوئی ہے۔ جبکہ حافظ سعد رضوی کے اکیانوے اکاؤنٹ بھی منجمد کیے جاچکے ہیں۔

عمران خان نے ایک بار پھر PTIکی سیاست کا جنازہ کیسے نکالا؟

صوبائی ترجمان نے سوشل میڈیا کی مہم کا جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ نہ تو کوئی مسجد شہید کی جارہی ہے اور نہ ہی ٹی ایل پی کے بانی کی قبر کہیں اور منتقل کی جارہی ہے۔ البتہ اشتعال انگیزی کیلئے مجمع اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے زیر انتظام تین سو مساجد کا انتظام سرکار نے خود سنبھال لیا ہے۔ ٹی ایل پی کے دو سو تئیس مدارس کی جیو ٹیکنگ مکمل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات میں حکومت کو کسی جانب سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔ بلکہ مختلف ذرائع سے اس کو سپورٹ کیا جارہا ہے۔ جس میں مذہبی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ جبکہ ان مذہبی تنظیموں نے ابتدائی طور پر حالات کی خرابی، امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے ، انسانی جانوں کے ضیاع کی مذمت کی تھی اور یوم سوگ منایا تھا جسے مذہبی حوالے سے فیس سیونگ کا نام دیا گیا ہے اور پنجاب حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ٹی ایل پی کے کچھ ادارے علمائے کرام کی زیرنگرانی چلائے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق مرحلہ وار اور بتدریج تمام مساجد اور ادارے حکومت کی نگرانی میں لائے جائیں گے۔

 

Back to top button