کیا مشرف کو ریلیف دینا قانون شکنی نہیں ہو گی؟

آئین شکنی کے الزام پر عدالت سے سزائے موت کے مجرم قرار پانے والے جنرل مشرف کی وطن واپسی بارے فوجی ترجمان کے بعد نواز شریف نے بھی مثبت جذبات کا اظہار کردیا ہے، ظاہر ہے ایک انتہائی بیمار شخص کو آپ جیل میں نہیں ڈال سکتے لیکن قانونی اور عدالتی وجوہات کی بنا پر اُن کی تشویشناک بیماری کے باوجود اُنہیں ایک آزاد فرد کی حیثیت بھی نہیں دی جا سکتی؟ ایسے میں بہتر ہو گا کہ نواز شریف اور فوج اس بارے میں بھی اپنی پالیسی واضح کر دیں۔ بیمار سے ہمدردی اپنی جگہ لیکن آئین اور قانون کی حکمرانی کا بھی ایک تقاضا ہے جسے صرف اس لیے صرف ِنظر نہیں کیا جا سکتا کہ سزا یافتہ مجرم کسی بڑے عہدہ پر فائز رہا یا اُسے رعایت دینے کی خواہش رکھنے والا کوئی ریاستی ادارہ ہے یا کوئی بہت بڑا سیاستدان۔
فواد چودھری کو حنا ربانی کھر پر تنقید مہنگی کیسے پڑی؟
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی کہتے ہیں فوج اور نواز شریف جنرل مشرف کو پاکستان لانے کے لیے ایک پیج پر آ چکے ہیں۔ دونوں کی اس سوچ کی وجہ مشرف کی انتہائی خراب صحت ہے۔ ڈاکٹروں نے مشرف کو جواب دے دیا ہے اور اُن کی صحت یابی کی اب کوئی امید باقی نہیں رہی۔ آئین اور قانون کے تحت تو جنرل مشرف کو پاکستان واپس آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہاں جب وہ واپس آتے ہیں تو قانون کی نظر میں اُنکی کیا حیثیت ہو گی، اُنہیں کس طرح جیل سے باہر رہنے کی اجازت ہوگی یہ نکتہ اہم ہے جو شاید فوج اور نواز شریف نے ابھی نہیں سوچا۔ عدالتیں اُن کے خلاف فیصلے دے چکیں، کچھ کیسوں میں وہ مفرور ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا نواز شریف اور فوج ان قانونی اور عدالتی فیصلوں کو ختم کر سکتے ہیں یا کروا سکتے ہیں تاکہ جب جنرل مشرف واپس آئیں تو اُن کے قانونی طور پر داغ دار ماضی کا کوئی حوالہ باقی نہ ہو۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ نواز شریف حکومت نے درج کیا تھا جو مشرف کی واپسی کے حوالے سے مثبت بیان دینے کے بعد اب عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔
انصار عباسی کے بقول آجکل بہت بات کی جا رہی ہے کہ ’’وہ کون ہے‘‘ جس نے یہ کر دیا اور وہ کر دیا۔ لہذا میں بھی یہی سوال پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ وہ کون ہے جس نے ایک نہیں دو بار پاکستان کے آئین کو تار تار کیا؟ وہ کون ہے جس نے پاکستان کو امریکا کی مسلمانوں کے خلاف نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جھونکا؟ وہ کون ہے جس کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں دہشتگردی نے جنم لیا اور 80 ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کی جانیں لے لیں اور کھربوں ڈالر کا معاشی نقصان پہنچایا؟ وہ کون ہے جس نے امریکا کو اڈے دیے؟ وہ کون ہے جس نے امریکا کو پاکستان کے اندر ہی حملے کرنے اور بے گناہ لوگوں کو مارنے کے لیے ڈرون حملوں کی اجازت دی؟ وہ کون ہے جس نے خود تسلیم کیا کہ اُس نے اپنے شہریوں سمیت یہاں موجود دوسرے ممالک کے مسلمانوں کو امریکا کے ہاتھوں بیچا؟
انصار عباسی مزید سوال کرتے ہیں کہ وہ کون ہے جس نے عافیہ صدیقی کو امریکا کے حوالے کیا؟ وہ کون ہے جس نے بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کو مارنے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں صوبہ میں بدامنی، دہشتگردی ایسی پھیلی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی؟ وہ کون ہے جس نے لال مسجد کا آپریشن کیا اور نجانے کتنے بیگناہوں کی جانیں لے لیں؟ وہ کون ہے جس نے 12 مئی کو کراچی کے قتل عام پر افسوس کرنے یا شرمندہ ہونے کی بجائے مکے لہرائے کہ میری طاقت دیکھ لی؟ وہ کون ہے جس نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں پاکستانیوں کو گمشدہ کروایا جن میں کئی واپس آئے کئی مار دیے گئے اور کئیوں کا آج تک اُن کے گھر والے انتظار کر رہے ہیں؟ وہ کون ہے جس نے پاکستان میں روشن خیالی کے نام پر بے شرمی اور بے حیائی کو فروغ دیا؟ وہ کون ہے جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کا الزام عائد کیا گیا؟
انصار عباسی مزید پوچھتے ہیں وہ کون ہے جس نے اپنی ذات کی خاطر قومی اداروں کو بار بار استعمال کیا؟ وہ کون ہے جس نے سیاسی جماعتوں کو جوڑنے توڑنے کے لیے نیب اور آئی ایس آئی کو استعمال کیا؟ وہ کون ہے جس نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے کرپشن میں لتھڑے سیاستدانوں کو این آر او دیا اور کرپشن کے بڑے بڑے کیسوں کو ختم کروا دیا؟ وہ کون ہے جس نے فوج کو اتنا بدنام کیا کہ ایک وقت میں فوجی افسران کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ وردی پہن کر باہر نہ نکلا کریں؟
یہ سب سوالات کرنے کے بعد انصار عباسی کہتے ہیں کہ میری ذاتی رائے میں جنرل مشرف سے سب سے بڑی ہمدردی یہ ہو سکتی ہے کہ اُن کے فیملی اور قریبی عزیزوں، دوستوں کو مشورہ دیا جائے کہ وہ جنرل مشرف کو مرنے سے پہلے اپنے رب سے معافی مانگنے کی تلقین کریں۔
