امریکہ عمران خان کا اتنا حمایتی کیوں ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کا سلیم صافی کا کہنا ہے کہ عمران کے حق میں سب سے زیادہ آوازیں امریکا سے بلند ہو رہی ہیں اصل بات امریکا اور چین کی کشمکش ہے یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود امریکا کی شہہ پر پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف اپنی ڈیل فائنل نہیں کررہا.امریکا کا اصل مقصد یہی ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہو سیاسی اداروں کو بلیک میل کیا جائے تاکہ چین سے دور ہوکر فیصلہ کن مرحلے میں امریکا کے ساتھ آجائیں چونکہ عمران خان جو کل تک ان پر الزام لگاتے رہے ہیں امریکا کی عمران خان سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے۔
سلیم صافی کا مزید کہنا ہے کہ 2010 میں عالمی طاقتوں کیساتھ ساتھ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بھی عمران خان کی سرپرستی کا فیصلہ کیا، شروع میں کئی الیکٹیبلز کو پارٹی میں شامل کرایا اور جسٹس ثاقب نثار سےصادق و امین کا سرٹیفکیٹ دلوادیا گیا، الیکشن میں آر ٹی ایس بٹھایا اور نتائج عمران کے حق میں نکلوائے گئے،مصطفی کمال،چوہدری نثار کو بھی قربان کیا گیا، عمران خان کی خاطر اسٹیبلشمنٹ نے جو کچھ بھی کیا اور جس برہنہ طریقے سے کیا اس کی مثال نہیں ملتی، جواب میں عمران خان نے بھی روایتی محسن کشی کا مظاہرہ کیا.
سلیم صافی نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنے سسر گولڈ اسمتھ کے مشورے پرسیاست شروع کی اس وقت کرکٹ اور شوکت خانم کی وجہ سے وہ بہت مقبول تھے لوگ انہیں بہت پسند کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ سیاست میں اپنا خاطر خواہ مقام حاصل نہ کرسکے ان کی قسمت اس وقت جاگ اٹھی جب 2010 میں اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں کے مقابلے میں قومی سطح پر ایک جماعت بنانی چاہئے اس وقت امریکا اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بھی عمران خان کی سرپرستی کا فیصلہ کیا، ان کی پارٹی میں لوگوں کو شامل کرایا گیا بڑے بڑے جلسوں کے لیے بڑے بڑے سرمایہ داروں سے پیسے دلوائے گئے اور یہ سلسلہ زور پکڑتا گیا، جنرل راحیل شریف کے دور میں مزید زور پکڑ گیا اور جنرل مشرف کے خلاف مقدمے کا انتقام نوازشریف سے لینے کیلئے انہوں نے جنرل ظہیر الاسلام کے ذریعے دھرنے کرادیئے۔
سلیم صافی کے بقول شروع میں کئی الیکٹیبلز کو ان کی پارٹی میں شامل کرایا گیا مسلم لیگیوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا عمران خان کو جسٹس ثاقب نثار سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دلوادیا گیا، پھر الیکشن میں آر ٹی ایس بٹھایا گیا اور نتائج عمران خان کے حق میں نکلوائے گئے۔ سب پارٹیوں کے حق مارے گئے حتی کہ مصطفی کمال اور چوہدری نثار کو بھی عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے قربان کیا گیا۔اس وقت عمران خان سمجھتے تھے جو کچھ ہے جنرل فیض یا جنرل باجوہ کی عنایت سے ہی ہے۔ اس وقت عمران خان اور ان کے وزیر فوج کے ہر اقدام کی حمایت کرتے رہے اور ایک پیج کا راگ الاپتے رہے اور فوج کے سیاسی جماعت کے کردار سے متعلق یہ کہتے رہے کہ اس طرح سے کہہ کر یہ ملک سے غداری کر رہے ہیں۔ ہر کوئی جانتا تھا عمران خان کو اقتدار اسٹیبلشمنٹ نے دلوایا ہے عمران خان کی حکومت جہاں اقتصادی معاملات میں بری طرح ناکام رہی اسی طرح سیاسی محاذ پر تقسیم در تقسیم کا باعث بنی میڈیا کا گلا گھونٹتی رہی اور سب سے بڑھ کر عمران خان نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کردیئے اور چین جیسے دوست کو ناصرف ناراض کیا بلکہ سی پیک جیسے پروجیکٹ کا ستیاناس کردیا اس کی وجہ سے چین بھی ہم سے ناراض ہونے لگا۔
دوسری جانب عمران خان کی التجاوں کے باوجوداسٹیبلشمنٹ کے پی ٹی آئی کے حق میں اپنا کسی قسم کا سیاسی کردار ادا کرنے سے انکار کے بعد عمران خان ملک کے خلاف سازش پر اتر آیا ہے، عمران خان کی کانگریسی خاتون کی زوم میٹنگ کی آڈیو سامنے آ چکی ہے۔ آڈیو میں مبینہ طور پر عمران خان کی جانب سے امریکی خاتون کے سامنے پاکستان کی بدترین منظرکشی اورہرزہ سرائی کی گئی ہے۔ آڈیو میں عمران خان امریکی خاتون سے التجائیں کرتے ہوئے بار بار پاکستان مخالف بیان دلوانے کی بھیک مانگتے سنائی دے رہے ہیں، آڈیو میں سنا جا سکتا ہے سابق وزیراعظم نے کہا کہ التجاہے آپ میرے حق میں آواز اٹھائیں۔
زوم میٹنگ میں عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کی سیاسی ناکامی کا پوراملبہ سابق آرمی چیف پرڈال دیا جبکہ بنا ثبوت شواہد اپنے اوپر قاتلانہ حملے کاذمہ حسب عادت آرمی ودیگراداروں پر تھوپ دیا۔ امریکا کے سامنے اپنے آپ کوسب سے مقبول ترین لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی خاتون کے سامنے اپنے دورکی بدترین معاشی پرفارمنس کوبڑھا چڑھا کرپیش کیا۔
زوم میٹنگ کے آخر میں عمران خان اور اُس کے حواری امریکی کانگرس خاتون سے پاکستان مخالف بات کرنے کے بعد کافی خوش نظر آئے۔ امریکی کانگرس ویمن سے منت سماجت کرنا عمران خان کی امریکا نواز طاقتوں سے دوبارہ سرپرستی حاصل کرنے کی منظم کوششوں میں سے ایک ہے جو اب کھل کر سامنے آگئی ہیں۔
