عمران خان کی ’صنفِ آہن‘ جعلی کیسے نکلی؟

دوسروں پرالزام تراشیاں کرنے والے سابق وزیر اعظم عمران خان عوامی ہمدردی کے حصول کیلئے جعلی تصاویر شئیر کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ 9 مئی کو ہونےوالے احتجاج نما فسادات کے حوالے سے عمران خان کی جانب سے شئیر کی گئی پی ٹی آئی مظاہروں کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونے والی خاتون کی تصویر کو غیر ملکی میڈیا نے جعلی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ تصویر آرٹیفشل انٹیلی جنس کے ذریعے بنائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیوشیئر کی گئی جس میں خواتین کو صنف آہن کے طور پر دکھایا گیا۔ اور شیئر کی گئی اس ویڈیو میں اس خاتون کی تصویر کو بھی دکھایا گیا ہے جو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔اپنے ٹوئیٹ میں عمران خان نے لکھا کہ حقیقی آزادی کے لیے جس انداز میں پاکستانی خواتین کھڑی ہوئی ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی ثابت قدمی ہماری جمہوری تاریخ کا حصہ بنے گی۔ ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کی بربریت اور ہماری خواتین کو تکلیف پہنچانے، اذیت دینے اور ان کی تذلیل کرنے کے لیے جس بے شرمی سے حدود پامال کیں، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ سینکڑوں نہایت ابتر حالات میں جیلوں میں بند ہیں۔ یہ وحشت بھی کبھی نہ بھُلائی جائے گی۔

ویڈیو میں ’صنف آہن‘ کا گیت بھی استعمال کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، عمران خان کی جانب سے شئیر کی گئی ویڈیو میں ایک تصویر بھی شامل ہے جو کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔سوشل میڈیا پر اس تصویر کو ہزاروں لوگوں نے لائیک اور شئیر بھی کیا ہے۔تصویر میں ایک خاتون کو فورسز کے سامنے ڈٹا ہوا دکھایا گیا ہے، جس کے عقب میں مظاہرین بھی موجود ہیں۔

ابھی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی تھی کہ غیر ملکی چینل ’فرانس 24‘ کی جانب سے ایک رپورٹ شئیر کی گئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ خاتون کی وائرل ہونے والی تصویر آرٹیفشل انٹیلیجنس کے ذریعے بنائی گئی ہے۔غیر ملکی چینل کی صحافی نے تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ’ آرٹیفشل انٹیلیجنس کی جانب سے تخلیق کی گئی اس تصویر کے علاوہ دو جعلی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جنہیں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے مظاہروں کی ویڈیوز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے’۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا عبداللہ سعد نامی شخص نے یہ تصویر تخلیق کی ہے، ٹوئٹر پر عبداللہ سعد نے اعتراف کیا کہ یہ تصویر مِڈ جرنی کے ذریعے بنائی گئی ہے۔رپورٹ میں خاتون صحٖافی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی 3 ویڈیوز کو بھی جعلی قرار دیا، انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیوز سیاق و سباق سے ہٹ کر تھیں، یہ ویڈیوز پی ٹی آئی مظاہروں کی نہیں بلکہ کسی اور واقعے کی ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا جارہا ہے۔

بعد ازاں وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے جعلی تصویر شیئر کرنے پر عمران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے خاتون کی تصویر آرٹیفشل انٹیلیجنس سے جنریٹ کروا کر اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کی اور سیکیورٹی اہلکاروں کو تضحیک کا نشانہ بنایا، درحقیقت ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ فرانسیسی چینل نے عمران خان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا ہے۔فرانسیسی چینل کی جانب سے اس تصویر کی حقیقت بتانے کے بعد یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، صارفین نے تنقید کی جس تصویر کو عمران خان صنفِ آہن کے طور پر پیش کر رہے ہیں وہ دراصل ایک ’فیک تصویر‘ ہے ۔

مہرین زہرا نامی صارف لکھتی ہیں کہ ایک تصویر جو عمران خان کے حق میں مزاحمت کا استعارہ بن چکی ہیں وہ اصل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا کمال ہے۔ایک صارف لکھتے ہیں کہ بہت زیادہ جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے، تحریک انصاف کی جانب سے شیئر کردہ متعدد تصاویر آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تیار کی گئی ہیں جہاں چند لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں تحریک انصاف کے چاہنے والے اپنے لیڈر کے حق میں آوازیں اٹھانے لگے اور ان کا دفاع کیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ بہت ہی مزاحیہ ہے کہ لبرلز کو اب آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بنائی گئی ایک تصویر سے خطرہ ہے، تحریک انصاف کی جانب سے یہ تصاویر ریاستی بربریت کے سامنے کھڑی ہونے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔عطیہ بخت نامی صارف لکھتی ہیں کہ کسی نے بھی دعویٰ نہیں کیا کہ یہ حقیقی ہے، جس شخص نے اس تصویر کو شیئر کیا اس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تخلیق کردہ ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ لوگ خود تحقیق نہیں کرتے اور پھر اس کا الزام دوسروں کے سر ڈال دیتے ہیں۔

Back to top button