پاکستان کے آئی ایم ایف سے فوری معاہدے کے امکانات ختم؟

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی رکی ہوئی امدادی قسط کی بحالی کے امکانات معدوم ہو تے جارہے ہیں اس تعطل کو دورکرنے کےلیے پاکستان اورآئی ایم ایف کوسخت اقدامات کرنا ہوں گے تاہم آئندہ مالی سال کے بجٹ سےقبل جمود توڑنے کے لیے آخری کوششیں جاری ہیں۔تاہم آئندہ چند دنوں تک بھی تعطل برقرار رہاتو آئی ایم ایف امدادی قسط کےاجراء کاامکان دم توڑ جائے گا۔
خیال رہے کہ توسیعی فنڈ سہولتای ایف ایفکے تحت 6ارب 60کروڑ ڈالرز کے جاری پروگرام کی میعاد 30جون 2023ء کو پوری ہو جائے گی۔ پروگرام کے 9ویں جائزے کے لیے پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ جو گزشتہ سال 3نومبر کو لاگو ہوگیاتھا۔ تاہم رواں سال 1جنوری تا9فروری بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے اسٹاف لیول ایگریمنٹ پردستخط نہیں ہوسکے۔ قومی بجٹ 9جون 2023ء کو متوقع ہے۔ اس سے قبل سمجھوتہ نہ ہوا تو آئی ایم ایف کا امدادی پروگرام ناکام ہو جائے گا۔ یہ پروگرام اسی وقت آگے بڑھ سکتا ہے اگرسمجھوتے پر فوری دستخط ہو جائیں اورآئی ایم ایف کاایگزیکٹو بورڈآئندہ امدادی قسط ایک ارب ڈالرز کی منظوری دیدے۔ رابطہ کرنے پر وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہونے کے عوامل میں سیاسی غیر یقینی،اقتصادی بد انتظامی اور بیرونی سرمایہ کاری کی عدم دستیابی شامل ہیں۔
دوسری طرف وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدے کے التوا کار ہونے کی وجہ بین الاقوامی اورپاکستان کی سیاسی صورتحال ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کو 1998 جیسے ان دیکھے دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی پاکستان کو ایسے ہی ان دیکھے دباؤ کا سامنا تھا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ ایسے مطالبات پر عملدرآمد کی توقع کی جارہی تھی جو مذاکرات میں نہیں کیے جارہے تھے، یہ مطالبات امریکا کی طرف سے مختلف سطح پر ملاقاتوں میں کیے جارہے تھے۔ذرائع کے مطابق اب چین اورپاکستان کے درمیان بڑھتے معاشی تعلقات بھی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ ہے، آئی ایم ایف اورپاکستانی حکام میں معاہدہ نہ ہونے کی دوسری وجہ اعتماد کا فقدان ہے، آئی ایم ایف سمجھتا ہے قرض جاری کیا گیا تو حکومت اسےالیکشن میں استعمال کرلےگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان سے ضمانت چاہتا ہے کہ قرض کی رقم سیاسی فائدے کیلئے استعمال نہ ہو،آئی ایم ایف متوقع نگران حکومت کے معاہدے پرکاربند رہنے کی بھی ضمانت چاہتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال بھی اسٹاف لیول معاہدے میں ایک رکاوٹ ہے،آئی ایم ایف بجٹ میں ایسے اہداف چاہتا ہے جن سے انحراف نہ ہوسکے،آئی ایم ایف چاہتا ہےکسی شعبے کامختص فنڈزبجٹ منظور ہونے پر دوسری طرف منتقل نہ کیا جائے۔
دوسری جانبوفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف نے معاہدہ نہیں کرنا تو نہ کرے، ہم مزید مشکل فیصلے نہیں کرسکتے۔وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے معاہدہ کرنا ہے تو کرے، اگر نہیں کرنا چاہتا، تو نہ کرے، ہم اس کے مطالبے پر مزید مشکل فیصلے نہیں کرسکتے، مئی اور جون میں 3.7 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیوں کا پلان ہے، 3.7 کی ادائیگیوں میں کوئی پریشانی نہیں۔میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈنے جتنے پیشگی اقدامات کہے کرلیے، اب مزید نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے معاہدہ کرنا ہے تو کرے، اگر نہیں کرنا چاہتا، تو نہ کرے، اس کے مطالبے پر ہم مزید مشکل فیصلے نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کچھ بھی ہو جائے پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، آئی ایم ایف نے معاہدہ نہ کیا تو متبادل انتظامات موجود ہیں۔
