عمران خود نہ لڑتے تو ضمنی الیکشن میں PTI کا برا حال ہوتا

عمران خان نے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کی 6 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے اپنا پچھلا 5 نشستیں جیتنے کا ریکارڈ تو توڑ دیا ہے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملتان سے شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی کی 25000 سے زائد ووٹوں سے شکست نے ثابت کیا ہے کہ اگر سات حلقوں سے عمران خان خود امیدوار نہ ہوتے تو پی ٹی آئی کے امیدواروں کا جیتنا مشکل ہو جاتا۔ ضمنی الیکشن میں ملتان کی واحد نشست تھی جس پر شاہ محمود قریشی نے اصرار کرکے عمران خان کی بجائے اپنی بیٹی کو امیدوار کھڑا کیا تھا لیکن اسے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے موسیٰ حیدر گیلانی کے ہاتھوں شکست فاش ہو گئی۔ ضمنی الیکشن میں دوسرا بڑا اپ سیٹ خود عمران کی پیپلز پارٹی کے ورکر عبدالحکیم بلوچ کے ہاتھوں کراچی سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر ہونے والی شکست ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عمران کو الیکشن میں کسی عام ورکر نے ہرایا ہو۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ عمران خان تمام سیٹوں پر خود الیکشن لڑ رہے تھے ان کی جیت کا مارجن ماضی کے مقابلے میں کم ہوا اور ان کے مخالف امیدواروں نے کافی زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اگر اس الیکشن میں عمران خان ہر سیٹ پر خود امیدوار نہ ہوتے تو ان کی پارٹی کے امیدواروں کے لیے جیتنا کافی مشکل ہو جاتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ عمران کا آٹھ میں سے سات سیٹوں پر خود امیدوار بن جانا بنیادی طور پر سپورٹس میں سپرٹ کے بھی خلاف ہے کیونکہ کسی بھی کرکٹ میچ میں نہ تو ایک ہی باؤلر تمام اوورز کرواتا ہے اور نہ ہی ایک بیٹسمین تمام اوورز کھیلتا ہے۔ لیکن تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ضمنی الیکشن کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ عمران اس وقت پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور ان کی کامیابی نے آئندہ الیکشن کا منظر نامہ بھی واضح کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ 17 جولائی کے پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے بعد یہ تحریک انصاف کی دوسری بڑی کامیابی ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتیجے میں تو تحریک انصاف پنجاب میں اپنی حکومت واپس لینے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن موجودہ کامیابی کا بظاہر تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کی جماعت قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکی ہیں لہذا عمران کی جیتی ہوئی تمام نشستیں بالآخر خالی کرنا ہوں گی۔
انتخابات کے نتائج کے بعد تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا کہ ’الحمدللّٰہ قوم نے ایک بار پھر عمران کو اپنی امیدوں کا محور ثابت کر دیا لہٰذا میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے کہتا ہوں عوام کی خواہش کا احترام کریں فوری طور پرنئے انتخابات کا اعلان کریں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ ضمنی الیکشن میں عمران کی مقبولیت کا پردہ چاک ہوگیا اور پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے چیئرمین اور وائس چیئرمین دونوں کا بینڈ بجا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ہاتھوں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی کی شکست نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام کا ذہن اب تبدیل ہو چکا ہے۔
لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ضمنی انتخابات میں آٹھ نشستوں میں سے چھ پر عمران خان کی کامیابی سے دو باتیں بالکل واضح ہو گئی ہیں کہ اس وقت عمران ایک مقبول لیڈر ہیں اور دوسرا انھوں نے گزشتہ چھ ماہ کے اندر جو بیانیہ بنایا ہے وہ بھی عوام میں مقبول ہے۔ لیکن اس جیت سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عام انتخابات میں بھی تحریک انصاف جیتے گی کیونکہ آج صورت حال کچھ اور ہے اور اگلے برس الیکشن کے وقت صورت حال کچھ اور ہو گی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ زیادہ تر حلقوں میں دیگر جماعتوں کے مخالف امیدواروں نے عمران خان سے قریب ترین ووٹ لیے یعنی خان کی جیت کا مارجن بہت کم تھا۔ اس صورت حال میں پتہ چلتا ہے کہ اگر عمران کی جگہ تحریک انصاف کے کوئی اور امیدوار ہوتے تو انکا جیتنا مشکل ہوتا جیسا کہ ملتان میں ہوا ہے۔ ظاہر ہے عام انتخابات میں عمران خان خود امیدوار نہیں ہوں گے تو اس کا فائدہ مخالف امیدواروں کو ہی ملے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کی کامیابی میں بڑا ہاتھ ان ووٹرز کا ہے جو ان کے چار سالہ دور میں ان سے ناراض ہوگئے تھے۔ حکومت تبدیل ہونے کے بعد وہ لوگ تذبذب کا شکار تھے کہ کس طرح سے ردعمل دینا ہے لیکن مہنگائی نے ان کا جو حشر کیا ہے اس کے بعد انھوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا جو حکمران اتحاد کی شکست کا باعث بنا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بظاہر تحریک انصاف یا ن لیگ کے ووٹ بینک میں کمی یا اضافہ نہیں ہوا بلکہ عمران کی کامیابی میں مہنگائی نے کردار ادا کیا ہے۔ اس حوالے سے ن لیگ کے پاس آخری آپشن اسحاق ڈار تھا اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں اور ملکی معاشی صورت میں بہتری آتی ہے تو آئندہ انتخابات میں ن لیگ کو ریلیف مل سکے گا لیکن یہ ریلیف عوام کو ملنے والے ریلیف سے مشروط ہے۔ اگر ان انتخابات کے نتائج کا آئندہ انتخابات پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں کہ حوالے سے اگرچہ تحریک انصاف کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ انتخابات دراصل عام انتخابات کے نتائج کا پیشہ خیمہ ہیں۔ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے انتخابات نہیں ہوتے اور نواز شریف پاکستان واپس آ جاتے ہیں اور بالخصوص اسلام آباد ہائی کورٹ ان کی سزا ختم کر دیتی ہے ملکی سیاست کا رخ یکسر تبدیل ہو جائے گا۔
