فلسطینی آج بھی جنرل ضیا سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟


اگرچہ پاکستان میں ہر سویلین حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرتی رہی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سابق فوجی آمر ضیاء الحق نے فوجی صدر جنرل یحییٰ خان کے دور اقتدار میں بطور بریگیڈیئر مشرق وسطیٰ کے ملک اردن میں لگ بھگ 25 ہزار بے گناہ فلسطینیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے تھے۔ عربوں کی تاریخ میں اس سانحے کو بلیک ستمبر کہا جاتا ہے اور فلسطینی حریت پسند آج بھی جنرل ضیاء کو سفاک قاتل قرار دیتے ہیں۔
بلیک ستمبر کے دوران پاکستانی آرمی کے ایک ٹریننگ کمیشن نے یحیی خان کے حکم پر ضیاء الحق کی قیادت میں 25000 فلسطینیوں کا اردن میں قتل عام کیا تاکہ فلسطینی مجاہدین کا اردن سے صفایا کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ضیاء الحق 1967 سے 1970 ء تک اردن میں فلسطینی مخالف موجود رہا۔ تب وہ بریگیڈیئر تھا۔ اس زمانے میں اردن اور فلسطین کا وہی حساب تھا جو پاکستان اور کشمیر کا ہے، آزاد کشمیر کی طرح اردن نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا، دریائے اردن کے مشرق میں 40 ہزار فلسطینی مہاجر آباد تھے، یہ اردن کی آبادی کا ایک تہائی بنتے تھے۔ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں بھی اتنے ہی فلسطینی تھے۔ اس زمانے میں فلسطینیوں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کو اپنی آزادی کا بیس کیمپ بنا یا ہوا تھا، یہاں سے فلسطینیوں کو تربیت دے کر مقبوضہ علاقے میں اسرائیلیوں کے خلاف چھاپہ مار سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے بھیجا جاتا تھا۔
اردن نے جب یہ علاقہ قبضے میں لیا تو فلسطینیوں نے اسے اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت میں اضافہ سمجھا لیکن فلسطینی ایسا سوچ کر غلط فہمی کا شکار ہوئے۔ اردن کے سربراہ شاہ حسین کو یہ خدشہ تھا کہ کہیں فلسطینی دریائے اردن کے مغربی کنارے کو آزاد فلسطینی ریاست نہ بنا لیں۔ شاہ حسین دراصل سعودی عرب کے ساتھ ساتھ امریکہ کے بھی اتحادی تھے، امریکہ کی ترجیح اسرائیل، اس کی بقا اور مشرق وسطی میں اس کی بالا دستی تھی۔ ان حالات میں اردن کو یہی مناسب لگا کہ فلسطینیوں کو مار بھگایا جائے لہذا 15 ستمبر 1970ء کو برگیڈئیر ضیاء الحق کی در پردہ قیادت میں اردنی فوج نے فلسطینیوں پر حملہ کیا اور انہیں اردن سے باہر کر دیا۔ یوں اردن فلسطینیوں کے دباؤ میں سے نکل آیا اور اسرائیل پر سے بڑا خطرہ ٹل گیا۔ لیکن
تاریخ گواہ ہے کہ ضیاء الحق نے اردن کی آرمی کو تربیت بھی دی تھی تاکہ وہ اسکے جانے کے بعد بھی فلسطینیوں کو کچلتی رہے۔ اردن نے 1970 میں اسرائیل مخالف فلسطینی فدائیان کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا تو یہی آمر جنرل ضیاء الحق تھا جس نے مشن ٹرینینگ اور فلسطینیوں کے خلاف جنگی پلان مرتب کیا اور فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے آپریشن میں اردن کے سپاہیوں کی قیادت کی، اس خونی آپریشن کو بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں 25000 کے قریب معصوم فلسطینی اردن کی افواج اور ضیاء الحق کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ اس عرصے کو افسوسناک واقعات کا دور بھی کہا جاتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ 15 ستمبر 1970 کو اردن کے بادشاہ نے مارشل لاء لگا دیا اگلے دن پاکستانی اور اردن کی آرمی نے ضیاء الحق کی قیادت میں عمان میں موجود فلسطینیوں کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔ آرمی نے فلسطینیوں کے کیمپس اربد، السلط، صويلح، البقعة، الوحدات والزرقاء پر حلمہ کیا۔ اس دوران ضیاء الحق نے سیکنڈ ڈویژن کی قیادت کرتے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل نے جتنے فلسطینی بیس سال میں مارے تھے اس سے زیادہ فلسطینی ضیاء الحق نے گیارہ دنوں میں شہید کر دیئے۔ یعنی ضیا کی قیادت میں 15 ستمبر سے لیکر 27 ستمبر 1970 تک ظلم کا ایک سیاہ باب لکھا گیا۔ تب کے اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اتنے فلسطینی ہم نے بیس سال میں نہیں مارے جتنے ضیاء الحق نے گیارہ دن میں مار ڈالے۔
لہذا فلسطینی مجاہدین آج بھی کہتے ہیں کہ ہم ضیاء الحق کو کبھی معاف نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد اردن کی شاہی حکومت نے جنرل ضیاء الحق کو اعلی اعزازات سے نوازا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب جنرل ضیاء کو چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا گیا جس کی بدولت وہ بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر گیارہ سال تک ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنا رہا۔ مبصرین کے مطابق ضیاء الحق مغرب سے پہلے بھی آشنا تھا مگر فلسطینیوں کے خلاف ایکشن نے اسے ان کے لئے بہت اہم بنا دیا۔ ادھر ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل، صدر سوئیکارنو، حافظ الاسد اور معمر قذافی کے ساتھ مل کر امریکہ اور سو ویت یونین کے بلاکوں سے نکل کر اپنا اسلامی بلاک بنانے، اسلامی بینک قائم کرنے اور مسلمانوں کی سائنسی ترقی کو ایٹم بم بنانے سے شروع کرنے کی جو تیاریاں کر رہے تھے وہ امریکہ اور سوویت یونین دونوں کے لئے قابل قبول نہیں تھیں۔ اس سارے منصوبے میں مرکزی حیثیت ذوالفقار علی بھٹو کی تھی اوران تمام سرگرمیوں کا مرکز پاکستان نے بننا تھا۔ لیکن استعماری قوتوں نے ضیا کو استعمال کیا جس کے بعد بھٹو کو پھانسی دے دی گئی اور مسلم اتحاد کے داعی دیگر عالمی رہنماؤں کو بھی منظر عام سے ہٹا دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button