ٹرمپ دوسری مدت کیلئے منتخب نہ ہونے والے امریکی صدور میں شامل

امریکا میں 3 نومبر 2020 کو ہونے والے صدر کے انتخاب کو جہاں 21 ویں صدی کا پیچیدہ ترین انتخاب قرار دیا گیا، وہیں اس انتخاب نے نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
حالیہ انتخابات 21 ویں صدی کے وہ پہلے امریکی انتخابات بن گئے، جس میں صدر رہنے والا امیدوار دوسری مدت کے لیے منتخب نہیں ہوسکا اور ڈونلڈ ٹرمپ اس صدی کے وہ پہلے صدارتی امیدوار بن گئے جنہوں نے دوسری مدت میں شکست کھائی۔ ان سے قبل آخری بار 20 ویں صدی کے آخر یعنی 1992 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی ریبپلکن کے امیدوار جارج ایچ ڈبلیو بش بھی دوسری مدت کے لیے منتخب نہیں ہوپائے تھے۔ یوں امریکی صدر کے انتخاب میں 20 ویں صدی کے اخری اور 21 ویں صدی کے پہلے دوسری مرتبہ منتخب نہ ہونے والے امیدواروں کا اعزاز ریپبلکن پارٹی کے نام رہا۔ تین نومبر 2020 کو ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن پہلی مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے، اس سے قبل وہ 2016 سے قبل براک اوباما کے دور میں نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ 8 نومبر 2016 کو ہونے والے امریکی صدر کے 45 ویں انتخاب میں حیران کن طور پر کامیاب ہوگئے تھے اور ان کی کامیابی پر خود ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ اور ان کے دیگر رشتہ دار اور قریبی دوست بھی حیران رہ گئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کی کسی کو امید نہیں تھی، تاہم وہ معجزاتی طور پر صدر منتخب ہوکر امریکا کے متنازع ترین صدر بھی کہلائے جانے لگے، کیوں کہ انہیں خواتین کی تضحیک سمیت کئی معاملات پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ امریکا کے 46 ویں صدر کے انتخاب سے قبل بھی توقعات کی جا رہی تھیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی نہ کسی طرح دوسری مدت کے لیے کامیاب ہوجائیں گے مگر وہ دوسری مدت میں شکست کھانے والے 21 ویں صدی کے پہلے صدر بن گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے قبل آخری بار ایسا 1992 کے انتخابات میں ہوا تھا جب ریپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش کو پہلی مدت کے بعد ڈیموکریٹ اُمیدوار بل کلنٹن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ 2016 میں پہلی بار امریکی صدر منتخب ہوئے تھے اور 2020 کےانتخابات میں بھی خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر جیت جائیں گے۔ مگر تین نومبر 2020 کو ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے منتخب نہیں ہوسکے، وہ دوسری بار منتخب نہ ہونے والے 21 ویں صدی کے پہلے صدر بن گئے۔
