پاکستان میں پیناڈول بنانے والی کمپنی نے پروڈکشن بند کر دی


پاکستان میں پیناڈول تیار کرنے والی کمپنی نے اس کی پیداوار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد اب عام استعمال کی یہ دوائی ملک بھر میں نایاب ہوگئی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان میں پیناڈول گولی اور سیرپ ایک ملٹی نیشنل کمپنی ’جی ایس کے‘ تیار کرتی ہے جس نے حکومت پاکستان کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ اب اس کے لیے پیناڈول کی پیداوار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، اس لیے کمپنی کی جانب سے اسے بند کر دیا گیا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنی نے حکومت پاکستان کو لکھے گئے خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ پیناڈول ٹیبلٹ اور سیرپ کی پیداوار میں کمپنی کو نقصان کا سامنا ہے کیونکہ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے اس کی پیداواری لاگت بہت بڑھ گئی ہے اور اس لیے اب اسے پرانی قیمت پر بیچنا ممکن نہیں رہا چونکہ حکومت اس کی قیمت میں اضافے کی اجازت نہیں دے رہی۔

کمپنی کے مطابق اگرچہ اسے اس سال اگست کے مہینے میں مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ سے کچھ پرائس ایڈجسٹمنٹ کرنے دی گئی تھی تاہم یہ اضافہ دوا کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی زیادہ قیمتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔کمپنی کے مطابق وفاقی حکومت کی پرائس ڈرگ کمیٹی نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی تھی تاہم وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری نہیں دی۔ کمپنی کے مطابق اس نے گزشتہ بارہ ماہ میں چار ارب پچاس کروڑ پیناڈول اور پیناڈول ایکسٹرا گولیاں تیار کیں جنہیں کہ مارکیٹ میں فراہم کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے کورونا اور ڈینگی کی وبا کے دوران بھی اپنی ذمہ داری پوری کی تاہم اب اس کے لیے اس دوا کی مزید تیاری ممکن نہیں رہی۔

واضح رہے کہ پیناڈول کی پیداوار بند ہونے کے اعلان سے پہلے اس کی مارکیٹ میں دستیابی کم ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا اور اس کی ذخیر ہ اندوزی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔پیناڈول بنانے والی کمپنی نے حکومت کے سامنے کیس بھی رکھا کہ اسے اس دوا کی تیاری میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا جس کے بعد جی ایس کے نے اس کی پیداوار بند کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں ادویات کی قیمتیں وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے اور پہلے ان کی قیمتوں میں ردو بدل کا اختیار وفاقی سیکرٹری صحت کے پاس ہوتا تھا تاہم چند سال پہلے یہ اختیار وفاقی کابینہ کو دے دیا گیا۔ وفاقی، صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کے علاوہ ادویات سازی کے شعبے کے افراد پر مشتمل پرائس ڈرگ کمیٹی ادویات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سفارشات وفاقی کابینہ کو بھیجتی ہے۔ اس کمیٹی کی جانب سے پیناڈول کی قیمت بڑھانے کی تجویز وفاقی کابینہ کو بھیجی گئی تھی تاہم حکومت نے اسے منظور نہیں کیا۔

دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ اس سے بلیک میل کرنے کی کوشش ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پیناڈول کی پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ خام مال کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ تاہم خام مال کی قیمتیں تو دوسری ادویات کی بھی بڑھی ہیں لیکن ان کی تیاری جاری ہے۔ حکومت کے مطابق کمپنی پیناڈول کی قیمت بڑھانے کے لیے یہ اوچھا حربہ استعمال کر رہی ہے کیونکہ پاکستان میں اس دوا کی ڈیمانڈ بہت ہے اور عام آدمی سمجھتا ہے کہ بخار کی دوا صرف پیناڈول ہے جس کا شاید کمپنی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

لیکن پاکستان میں ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم فارما بیورو کی ترجمان عائشہ ٹمی نے کہا ہے کہ فارما سیوٹیکل کمپنیاں پاکستان میں خیراتی مقصد کے تحت کام نہیں کرتیں بلکہ کاروبار کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس صورت میں کم قیمت پر دوا بیچنا ممکن نہیں جبکہ لاگت زیادہ ہو۔ عائشہ ٹمی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ کمپنی کی جانب سے حکومت کو بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کو ہر مہینے کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ پیناڈول ہی نہیں دوسری ادویات کی تیاری بھی خام مال کی زیادہ قیمت کی وجہ سے بند ہو سکتی ہیں۔

Back to top button