آئندہ انتخابات میں نون لیگ کا بیانیہ کیا ہو گا؟

پاکستان میں موجوہ حکومت کا اختتام ہونے کو ہے۔ اگست کے مہینے میں بادی النظر میں قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتیں الیکشن تیاریوں میں مصروف ہیں تاہم سیاسی اکھاڑے کی سب سے بڑی جماعت سمجھی جانے والی مسلم لیگ ن کے آئندہ چند مہینے مشکل خیال کیے جا رہے ہیں۔ پارٹی کے قائد نواز شریف گزشتہ چار برسوں سے ملک سے باہر مقیم ہیں۔ ان کی واپسی کب ہو گی اور کیسے ہو گی، اس سوال کا جواب اس جماعت کی مستقبل کی سیاست کا تعین کرے گی۔دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ انتخابات میں یہ جماعت کیا نعرہ لے کر جائے گی۔ یاد رہے کہ 2018 میں ’ووٹ کو عزت دو کا نعرہ‘ اور بیانیہ مسلم لیگ ن کی اساس تھا۔
خبر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے ان دونوں محاذوں پر تیاری شروع کر دی ہے۔ ایک طرف نواز شریف کی واپسی کو ایک بڑا سیاسی ایونٹ بنانے کے لیے صلاح مشورے ہو رہے ہیں تو دوسری طرف انتخابات کی حکمت عملی اور متوقع نئے بیانے پر بھی طبع آزمائی کی جا رہی ہے۔مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور سینیئر نائب صدر مریم نواز ابھی تک متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنا قیام تھوڑا طویل کر لیا ہے اور بڑی تعداد میں لیگی رہنما ان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے ساتھ ہی نئی صف بندی شروع ہو جائے گی۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مرتضی سولنگی سمجھتے ہیں کہ ن لیگ اس وقت انتخابات کی تیاریوں میں جت چکی ہے۔’نواز شریف کی واپسی انہی تیاریوں کی کڑی ہو گی۔ میری اطلاعات کے مطابق اگست کی آٹھ تاریخ کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی اور اس کے بعد نگران حکومت انتظام سنبھال لے گی تو اس وقت نواز شریف کی باقائدہ واپسی پر کام شروع ہو گا۔‘
مرتضی سولنگی نے اپنی بات جاری رکتھے ہوئے بتایا کہ ’آج کے دن تک شریف خاندان اور پارٹی نے نواز شریف کی واپسی کا وقت ستمبر کا آخری ہفتہ تجویز کیا ہے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد کم از کام ڈیڑھ مہینہ نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں کی جائیں گی جبکہ مریم نواز عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے جلسے کریں گی۔‘
مسلم لیگ ن اس بار کیا بیانیہ لے کر عوام کے پاس جا رہی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مرتضی سولنگی کا کہنا تھا کہ ’یہ تو واضع ہے۔ کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا اور خوشحالی کو واپس لانا یہی دو نکتے ہیں جن پر مسلم لیگ ن تکیہ کرے گی۔ بیانیہ تو یہی ہو گا لیکن اس کو بطور سیاسی جماعت یہ کیش کیسے کروا پائے گی یہ تو اس جماعت کے کرتا دھرتاوں پر منحصر ہے۔‘
خیال رہے کہ رواں سال ستمبر کے مہینے میں صدر مملکت عارف علوی اور چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال اپنے عہدوں سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ن لیگ کی اکثریت ستمبر کے آخری ہفتے میں نواز شریف کو ملک میں واپس لانے کی خواں ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسمبلی اپنی مدت پر تحلیل ہو گی۔ ’مسلم لیگ ن کی اگلے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ صرف ہماری ہی نہیں بلکہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ہی تیاری شروع کر چکی ہیں۔ ہم پورے فخر کے ساتھ عوام کے سامنے جائیں گے کہ ہم نے کس طریقے سے ملک کو ڈیفالٹ سے نکالا اور اب ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ایک سال کی سر توڑ کوششوں کے بعد اب وہ وقت آ رہا ہے کہ ہم ٹیک آف کرنے والے ہیں۔ اور یہی ن لیگ کی سیاست ہے کیونکہ ن لیگ نے ہمیشہ ترقی کی سیاست کی۔‘
نواز شریف کی واپسی سے متعلق عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’جب بھی ان کی واپسی کا حتمی اعلان ہو گا سب کچھ سب کے سامنے ہو گا اور ان کا بھر پور استقبال ہو گا۔ لیکن نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ وہ خود اور ان کے ڈاکٹر ہی کریں گے۔‘
