آئندہ برس کراچی گیس کی قلت سے سب زیادہ متاثر ہوگا

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 سال کے دوران گیس تلاش نہ ہونے کے سبب گیس کی پیداوار میں 7 فیصد کمی آئی جب کہ طلب میں 5 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، آئندہ برس کراچی کے گھریلو صارفین کا گیس کی قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ گیس کی کھپت میں اس سال 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے شمالی حصوں میں درآمد شدہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پہنچانے کےلیے 12 سو ایم ایم سی ایف ڈی کی پائپ لائن کا کام بھی جلد شروع ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ک سربراہی میں ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں وزارت توانائی نے بتایا کہ مقامی سطح پر گیس کی پیداوار میں 7 فیصد کمی اور استعمال میں 5 فیصد اضافے کے باعث گیس کی قلت میں بڑھ رہی ہے جب کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں طلب و رسد میں 12 فیصد کا فرق دیکھا گیا۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق گزشتہ 10 سال کے دوران گیس تلاش نہ ہونے کے سبب گیس کی پیداوار میں 7 فیصد کمی آئی جب کہ طلب میں 5 فیصد سالانہ اضافہ ہونے کا نتیجہ گیس کی قلت کی صورت میں نکل رہا ہے جو دسمبر 2019 میں 2 سو 70 ایم ایم سی ایف ڈی(ملین کیوبک فیٹ روزانہ) تک جاپہنچی تھی۔
اس کمی کو دور کرنے کےلیے حکومت نے اضافی ٹرمینل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور نومبر 2019 میں 5 نئے پرائیویٹ ٹرمینل منظور کیے گئے جب کہ ان ٹرمینل سے ملک کے شمالی حصوں میں درآمد شدہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پہنچانے کےلیے 12 سو ایم ایم سی ایف ڈی کی پائپ لائن کا کام بھی جلد شروع ہوگا۔
ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ نے پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کو پورے سال گیس کی فراہمی بہتر بنانے، اور توانائی کی قلت پر قابو پانے کےلیے ایک تفصیلی منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں فرق کے بارے میں بھی دریافت کیا اور اضافی بجلی اور قدرتی گیس کی کمی کو متوازن کرنے کےلیے نئے آئیڈیاز بھی مانگے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ موسم سرما میں گیس کا استعمال پورے سال کے مقابلے دوگنا ہوجاتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گھریلو سیکٹر توانائی کے دیگر ذرائع کے مقابلے نسبتاً سستی گیس کے استعمال کو ترجیح دیتا ہے۔
اجلاس میں وضاحت کی گئی کہ بجلی اور گیس کی اوسطاً قیمت 60 کی نسبت 40 ہے اور صارفین کی بڑی تعداد بجلی کے مقابلے پکانے اور سردیوں میں حرارت کےلیے گیس کا استعمال کرتی ہے۔
مزید یہ کہ گیس میں ایل این جی 16 سو روپے فی یونٹ اور مقامی گیس کی اوسط قیمت 7 سو 80 روپے فی یونٹ کے بر خلاف 36 فیصد صارفین کو ایک سو 21 روپے فی یونٹ کے حساب سے گیس فراہم کی جارہی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آئندہ برس کراچی کے گھریلو صارفین کا گیس کی قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ گیس کی کھپت میں اس سال 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ گیس کی قلت پر قابو پانے اور اس کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے گیس اور بجلی دونوں سے پیدا ہونے والی توانائی استعمال کر کے 21-2020 کے منصوبے پر مستعدی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button