سروسز چیفس کی توسیعی ترمیم پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

پارلیمان میں منظور کیے گئے سروسز چیفس کی مدت معیاد میں توسیع کے حوالے سے بلز کے مسودے پر تنازع پیدا ہوگیا کہ آیا ان بلز میں سروسز چیفس کی دوبارہ تعیناتی یا ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے سلسلے میں صدر کو مزید صوابدیدی اختیار دیے گئے ہیں۔
سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں یہ سوالات اٹھائے، انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آرمی، نیوی، فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے موجود شق میں لفظ شیل (shall) یعنی کریں گے کی جگہ مے (may) یعنی کرسکتے ہیں، کا استعمال کیوں کیا گیا۔
مثال کے طور پر آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے پاکستان آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کی شق 8 اے کہتی ہے کہ وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملک ایک جنرل کو 3 سال کی مدت کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کریں گے۔ تاہم آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے حوالے سے شق 8 بی میں کہا گیا کہ’اس ایکٹ یا اس وقت نافذ کسی بھی قانون میں شامل چیزوں کے باجود صدر وزیراعظم کے مشورے پر چیف آف آرمی اسٹاف کو 3 سال کی مدت کے لیے دوبارہ تعینات کرسکتے ہیں یا ان کی مدت ملازت میں 3 سال کی توسیع کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کےسابق وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے بل کے حوالے سے کسی تنازع کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی آئینی دستاویز میں لفظ ’کرسکتے ہیں‘ ہمیشہ ’کریں گے‘ کے معنوں میں لیا جاتا ہے اور آرمی، نیوی، فضائیہ کے اصولوں میں ترامیم اور آئین میں کسی تضاد کی صورت میں آئین کو مقدم رکھا جائے گا۔
سلمان اکرم راجہ نے اپنی ٹوئٹ میں اس شق کی نشاندہی بھی کی کہ جس کے تحت اس حوالے سے لیا گیا فیصلہ کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے اور کہا کہ مذکورہ شرط کو بھی اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہوں کہ ماتحت قانون کے ذریعے اس کا دائرہ کار طے نہیں کیا۔
اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 48 کے تحت وزیراعظم صدر کو خط لکھ کر مشورہ دینے کا پابند ہے اس لیے صدر کے حق میں کوئی صوابدید پیدا نہیں ہوسکتی۔ ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ بل میں کہا گیا کہ دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے لیے تقرری کرنے والی اتھارٹی کے ذریعے صوابدید کا استعمال کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
ان کے مطابق اس بل نے دوبارہ تعیناتی یا توسیع کو صدر کے صوابدیدی اختیار کے دائرہ کار میں صدارتی فعل بنادیا ہے، یہ بل دوبارہ تعیناتی یا توسیع کو قومی سلامتی اور دیگر ضروریات کی موجودگی سے منسلک کرتا ہے، یہ کس طرح سپریم کورٹ کی اس پٹیشن یا رٹ کو خارج کرسکتا ہے جس میں کہا گیا کہ صوابدید کو معروضی حقائق کی بنیاد پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
کئی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے غلط قانون سازی کی کیونکہ آرمی چیف ایک آیئنی عہدہ ہے اس سلسلے میں آیئن کا آرٹیکل خاموش تھا اس لیے آیئنی ترمیم کرنا ضروری تھی۔ آیئنی ماہرین کہتے ہیں کہ جیسے ہی صدر مملکت بلاز کے فائنل مسودے پر دستخط کریں گے یہ قانون سازی سپریم کورٹ میں چیلینج ہو جائے گی۔
