آئی جی سندھ نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا

انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ نے کراچی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کےلیے ’پولیس پر دباؤ‘ ڈالنے سے متعلق واقعے پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نوٹس لینے کے بعد چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا۔
سندھ پولیس کی جانب سے جاری متعدد ٹوئٹس میں کہا کہ آئی جی سندھ نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کرکے ماتحت افسران کو قومی مفاد میں اپنی چھٹیوں کی درخواستیں 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت دی۔ ٹوئٹ میں کہا گیا کہ قومی مفاد اور انکوائری کے نتائج آنے تک چھٹیوں کا فیصلہ مؤخر کردیں۔ سندھ پولیس نے کہا کہ 18 اور 19 اکتوبر کی رات کو پیش آنے والا افسوسناک واقعے نے سندھ پولیس کے تمام شعبوں میں شدید غم اور ناراضی کی فضا پیدا کردی۔
ٹوئٹ میں کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں آئی جی سندھ نے چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا تو تمام ماتحت افسران نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ بھی پولیس کی تذلیل پر احتجاجاً چھٹی کےلیے درخواست دیں گے، یہ ایک افسوسناک اور تکلیف دہ ردعمل تھا۔ مزید کہا گیا کہ کیوں کہ محکمہ کے ہر ایک فرد کو بے عزت کا شدید احساس ہوا، یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے کہ آرمی چیف نے ہماری تکلیف کو محسوس کیا اور فوری طور پر معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ ٹوئٹ میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ سندھ پولیس کا وقار بحال کرنے کے لیے وہ غیرجانبدار ہوں گے، سندھ پولیس وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین پیپلز پارٹی کی مشکور ہے کہ وہ آئی جی ہاؤس پہنچے اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ سندھ پولیس نے ٹوئٹ میں کہا کہ محکمہ پولیس ہمیشہ ایک نظم و ضبط پر مشتمل قوت رہی ہے جو تمام اہم قومی اداروں کے مابین ادارہ جاتی ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی جی سندھ نے اپنی چھٹی مؤکر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ آئی جی سندھ نے اپنے افسران کو بھی حکم دیا کہ انکوائری کے نتائج آنے تک اور قومی مفاد میں اپنی چھٹی کی درخواستوں کو 10 دن کےلیے مؤخر کردیں۔
دوسری طرف سندھ حکومت نے آئی جی سندھ سمیت تمام سینیئر افسران کی چھٹی کی درخواستیں رد کر دی ہیں اور انھیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سندھ پولیس کے سینیئر افسران کی چھٹی کی درخواست منظور نہیں کی گئی ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق کسی بھی افسر کو چھٹی نہیں ملے گی۔تمام افسران اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے ۔ محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق تمام افسران اپنے عہدوں پر کام جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سندھ پولیس ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا تھا جہاں آئی جی سندھ سمیت دیگر افسران سے ملاقات کی تھی۔ بلاول بھٹو کی آئی جی سندھ مشتاق مہر سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ثاقب اسماعیل میمن، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایس پی توقیر نعیم، ایس پی فرخ بشیر ودیگر سینئر افسران بھی موجود تھے، ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے آئی جی سندھ سے چھٹی کی درخواست واپس لے کر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی ۔ واضح رہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی گئی ایک تصویر کے ساتھ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے لکھا کہ ” میں سندھ پولیس کے ساتھ کھڑا ہوں، کیا آپ بھی ؟تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاول بھٹو آئی جی سندھ اور سندھ پولیس کے سینیئر افسران کے ہمراہ کھڑے ہیں۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا کہ جو کراچی میں ہوا وہ ہمارے بیانیے ’ریاست کے اوپر ریاست ہے‘ کا کھلا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات کا مذاق اڑایا، چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا، سنیئر ترین پولیس افسران کو اغوا کر کے زبردستی آرڈر لیے، پاک فوج کو بدنام کیا، جبکہ ایڈیشنل آئی جی پولیس کا یہ خط آئین سے آپ کی بغاوت کا ثبوت ہے۔


مریم نواز نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ میں سندھ پولیس کو سلام پیش کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو خوف کی زنجیروں کو توڑتے ہوئے، آئین کی بالادستی کے لیے کھڑا ہوتا اور ان حقوق کا مطالبہ کرتا ہوا دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے جو انہیں کبھی نہیں ملے۔ان کا کہنا تھا کہ سازش اور سازشی بری طرح بےنقاب ہوچکے ہیں اور پاکستان بدل چکا ہے۔


واضح رہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کےلیے ’پولیس پر دباؤ‘ ڈالنے سے متعلق واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی کو فوری طور پر حقائق کا تعین کرنے کےلیے انکوائری اور جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ آئی ایس پی آر نے کراچی واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات اپنے بیان میں شامل نہیں کی۔اس سے قبل بلاول بھٹو نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالنے کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ 18 اکتوبر کو کراچی میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے منعقدہ اجلاس میں شرکت کےلیے آئے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو مزار قائد میں نعرے بازی کرنے پر علی الصبح ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔
بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ افسران سوال پوچھ رہے ہیں کہ وہ 2 لوگ کون تھے جو آئی جی سندھ کے گھر میں داخل ہوئے اور صبح 4 بجے انہیں کہاں لے کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر شرمندہ ہوں اور کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔
خیال رہے کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ایسے وقت پر پریس کانفرنس کی جب سندھ پولیس کے متعدد اعلیٰ افسران کی جانب سے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر بے جا مداخلت پر چھٹیوں کی درخواست سامنے آئی۔اسی معاملے پر صوبائی پولیس کے متعدد اے آئی جیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز نے بھی انسپکٹر جنرل آئی جی) کو چھٹیوں کی درخواستیں جمع کرا دیں۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس، اے آئی جی فرانزک سائنس ڈویژن ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز ثاقب اسمٰعیل میمن، ڈی آئی جی حیدر آباد نعیم احمد شیخ، ڈی آئی جی غربی کراچی کیپٹن (ر) عاصم خان، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد حامد، ڈی آئی جی جنوبی کراچی جاوید اکبر ریاض، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ قمر الزمان، ایس ایس پی انٹیلی جنس اسپیشل برانچ توقیر محمد نعیم، ایس ایس پی شرقی کراچی ساجد عامر سدوزئی اور ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں نے چھٹیوں کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔
تمام اعلیٰ افسران کی جانب سے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کو لکھی گئی درخواستوں کا متن ایک جیسا ہے تاہم درخواستیں علیحدہ علیحدہ بھیجی گئیں۔ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف حالیہ مقدمے کے اندراج کے معاملے میں کام میں بے جا مداخلت ہوئی اور پولیس کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے پولیس افسران و ملازمین دل برداشتہ اور افسردہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ کے اس ماحول میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی مشکل ہے اور اس دباؤ سے نکلنے کےلیے رخصت درکار ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری اور ضمانت پر رہائی کے اگلے روز ہی ایک درجن سے زائد پولیس افسران نے ‘حالیہ واقعے کی وجہ سے’ (صدمے سے) باہر آنے کا جواز پیش کرکے ‘چھٹی کےلیے درخواستیں دے دی۔ اب تک کم از کم دو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، 7 ڈپٹی انسپکٹر جنرل، 6سینئر سپرنٹنڈنٹ اور سندھ پولیس کے 3 اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) نے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق مہر کو یکساں چھٹی کی درخواستیں پیش کی ہیں۔
تمام اعلیٰ افسران کی جانب سے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کو لکھی گئی ایک جیسی لیکن علیحدہ علیحدہ درخواستوں میں کہا گیا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف حالیہ مقدمے کے اندراج کے معاملے میں کام میں بے جا مداخلت ہوئی اور پولیس کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے پولیس افسران و ملازمین دل برداشتہ اور افسردہ ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button