آج پروفیسر وارث میر کی 35ویں برسی ہے

آج ممتاز صحافی، استاد اور دانشور پروفیسر وارث میر کی 35ویں برسی منائی جارہی ہے جو 9 جولائی 1987 کو صرف 48 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے. مارشل لا ادوار میں اپنے قلم کے ذریعے حریت فکر کا علم سربلند رکھنے والے وارث میر پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے سربراہ بھی تھے لیکن جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے باز نہیں آتے تھے۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کے دوران پاکستان کے تمام بڑے اردو اخبارات کے لیے پرمغز مضامین تحریر کئے جنہیں ان کی وفات کے بعد 6 کتابوں کی صورت میں شائع کیا گیا۔ ان کی مشہور کتابوں میں وارث میر کا فکری اثاثہ، ضمیر کے اسیر، حریت فکر کے مجاہد، فوج کی سیاست، کیا عورت آدھی ہے اور خوشامدی ادب اور سیاست شامل ہیں۔
وارث میر حریت فکر کے راہی تھے جنہوں نے بے لاگ اور بے باک صحافت کی آبیاری خون دل سے کی اور اس کو نئی جان و جہت عطا کی۔ آٓج تین دہائیوں بعد بھی وارث میر کی تحریروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں ہمیشگی کا عنصر نمایاں نظرآتا ہے اور وہ آج کے حالات میں بھی تازہ محسوس ہوتی ہیں۔ اپنی تحریروں میں وارث میر نے ماضی کے ان باضمیر اور باکردار دانشوروں، ادیبوں اور صحافیوں کے بارے میں بھی بتایا جو حریت فکر کے راہی ٹھہرے اور جنہوں نے تمام تر لالچ، دھمکی اور دباؤ کے باوجود ببانگ دہل سچ لکھا اور بولا اور کسی دنیاوی مصلحت کا شکار ہونے سے انکاری رہے۔ وارث میر کے اپنے الفاظ میں دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر سچا دانشور لکھاری، صحافی اور ناقد، جس نے باغیانہ روش اپناتے ہوئے اپنے دور کے مروجہ دقیانوسی نظام اور اس کے پس پردہ کرداروں کا چہرہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی، اُسے رد عمل میں ہر طرح کی مخالفت، مشکلات اور حتیٰ کہ فتوؤں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس امتحان میں سرخرو وہی اہل قلم و دانش ٹھہرے جو اپنے موقف کی سچائی پر قائم رہے اور اس جدوجہد میں اپنی جان سے گزر گئے۔ پروفیسر وارث میر کی زیادہ تر تحریریں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا ء دورہی کی تخلیق ہیں جب صحافت پابند سلاسل تھی اور ترقی پسندی اور حریت فکر کا علم بلند کرنے والوں کو ملک دشمن اور غدار قرار دیا جاتا تھا۔
پروفیسر وارث میر مشکل سے مشکل حالات میں بھی سچائی کا علم اٹھائے آنے والی نسلوں کو حق پر ڈٹے رہنے کا پیغام دیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ وفات کے بعد 1988 میں وارث میر کو انسانی حقوق کا خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔ 2012 میں انھیں بعد از مرگ، پاکستان کے اعلیٰ ترین سِول ایوارڈ ”ہلال امتیاز“ سے نوازا گیا۔ 2013 میں بنگلہ دیش کی حکومت کی طرف سے اُن کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں ”فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ” سے نوازا۔ جون 2020 میں پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں نے وارث میر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حق میں متفقہ قراردادیں منظور کیں اور ان کے خلاف دیا جانے والا غداری کا فتوی سختی سے رد کر دیا۔ پروفیسر وارث میر پنجاب یونیورسٹی کے لا کالج قبرستان میں مدفون ہیں۔وارث میر کے جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے باوجود ان کے افکار آج بھی زندہ ہیں۔
