آج کا بڑا مسئلہ عمران کی ناکامی ہے یا شہباز کی ناکامی


شہباز شریف حکومت کی کوشش ہے کہ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی سے توجہ ہٹانے کے لیے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ہی موضوع گفتگو رکھا جائے لیکن درحقیقت عمران کی ناکامی یا کامیابی اب قصہ ماضی ہے اور عوام اس کا فیصلہ اگلے الیکشن میں کر دیں گے۔ دوسری جانب تلخ حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد میں ن لیگ کی سربراہی میں ایک مخلوط حکومت قائم ہے جس کے زیر سایہ عوام پر مہنگائی کے بم گرا گرا کر ان کے لیے عرصہ حیات مسلسل تنگ کیا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار ماریہ میمن کہتی ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اچھی تھی یا بہت بری، یہ بات اب پیچھے رہ چکی ہے۔ اسی طرح عمران حکومت سازش کا شکار ہوئی یا مداخلت کا، اس بحث سے بھی صرف نظر کیا جا سکتا ہے۔ عدم اعتماد ایک جمہوری اور آئینی قدم تھا یا نہیں، یہ نکتہ بھی اب تاریخ کے طالب علموں کے لیے ہے۔ لیکن آج کے دن کی حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ن لیگ کی سربراہی میں ایک حکومت ہے جس کے زیر سایہ عوام پر عرصہ حیات روز بروز تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے اس حکومت کے لیے اصل مسئلہ اب عمران خان نہیں بلکہ یہ ہے کہ عوام کو مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کیسے نکالا جائے؟سوال یہ بھی ہے کہ عوام کے حقیقی مسائل کے حل کی بجائے موجودہ حکومت کی اصل ترجیحات کیا ہیں؟

ماریہ میمن کہتی ہیں کہ سب سے پہلے تو حکومت کے اتحادی اور پارٹی سطح پر معاملات ہی طے نہیں ہو رہے۔ ایک طرف ایم کیو ایم رنجیدہ اور سیخ پا ہے تو دوسری طرف ’باپ‘ اور آزاد ارکان وعدے پورے نہ ہونے پر شکوہ کناں ہیں۔ پییلز پارٹی کے لیے راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور وہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ آخری بار کب بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری عوام میں نظر آئے کسی کو یاد نہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی سہولت سے گوشہ نشین ہیں اور تیرہ پارٹیوں کا اتحاد اب صرف کھانوں پر نظر آتا ہے۔ اس اتحاد کے بلند و بانگ دعوئوں کے لیے واحد انحصار ن لیگ پر ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ن لیگ عوامی رائے کے برعکس مہنگائی پر قابو پانے اور بہتر کارکردگی دکھانے میں کیوں ناکام ثابت ہو رہی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ ن لیگ کے لیے میدان کی تنگی ہے۔ پہلے ہمیشہ ن لیگ کو کھلا میدان ملا اور وہ کھلے میدان میں کھل کر کھیلے۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ میدان بھی تنگ ہے اور مسائل بھی گھمبیر ہیں۔

ماریہ میمن کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو حکومتی ٹیم میدان میں اتاری گئی ہے ان کا آپس میں بھی اتحاد پارہ پارہ ہے۔ معاشی محاذ پر کوئی اور ٹیم نظر آتی ہے اور پس پردہ کوئی اور ٹیم ہے۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار پاکستان واپسی کے لیے پر تولتے تولتے اب باقاعدہ پرواز کے لیے تیار ہیں۔ اگر وزارت خزانہ میں پالیسی تبدیل ہوئی تو یہ اس حکومت کے مختصر ترین دور میں ایک بڑا یو ٹرین ہو گا۔ ن لیگ کے اندر سے کئی وزرا نے موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی حمایت میں بیان دیے ہیں۔ ایسے میں کیا یہ سمجھا جائے کہ وہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بالواسطہ میسج دے رہے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ ن لیگ کے سربراہ نواز شریف اس صورتحال میں کہاں کھڑے ہیں؟ ایک اور سوال یہ ہے کہ مہنگائی اور گورننس کے میدان میں حکومت کا پلان آخر ہے کیا؟ابھی تک تو مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کے لیے کوئی ریلیف دور دور تک نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے حکومت ایک لیباریٹری ہے جس میں کچھ نو آموز ایک کے بعد ایک تجربہ کر رہے ہیں۔ ان کو اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ ان کے تجربوں سے کروڑوں عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک کھیل ہے جو کہ عالمی مالیاتی ادارے کو خوش کرنے کی خاطر کھیلا جارہا ہے۔

لیکن ماریہ میمن کے خیال میں پنجاب میں ن لیگ کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب لڑنے والے امیدوار عوام کے ردعمل کو محسوس کر رہے ہیں۔ مختلف تجزیوں کے مطابق پنجاب کے 20 صوبائی حلقوں میں مقابلہ ففٹی ففٹی کے ارد گرد ہے جس کا براہ راست تعلق لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی سے ہے۔ جن حلقوں میں لوڈ شیڈنگ آٹھ گھنٹوں سے زیادہ ہے وہاں ن لیگ کی پوزیشن کمزور تر ہے۔ یقیناً وفاق اور لاہور میں ن لیگ کے بزرج مہروں تک بھی یہ رپورٹیں پہنچ رہیں ہوں گی۔ لیکن وہ ابتر ہوتے ہوئے حالات کی ذمہ داری اب بھی سیاسی مخالفوں پر منتقل کر رہے ہیں۔ عوامی مسائل میں اگر کوئی رہی سہی کسر باقی تھی بھی تو وہ سیاسی محاذ آرائی نے پوری کر دی ہے۔

لیکن ماریہ میمن یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ عمران خان کا لانگ مارچ اور دھرنے اپنا اثر دکھانے میں ویسے کامیاب نہیں ہو سکے جتنا ان کا بیانیہ بن چکا تھا۔ اب روایتی سیاسی جلسے کیے جا رہے ہیں اور مخالفین پر لفظی گولا باری کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب نواز لیگ کی جانب سے بھی جوابی جلسے کر کے حکومت پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ مخلوط حکومت کی کوشش ہے کہ مہنگائی اور گورننس سے توجہ ہٹانے کے لیے عمران اور سیاست کو ہی موضوع گفتگو رکھا جائے لیکن کپتان کی ناکامی یا کامیابی اب قصہ ماضی ہے۔ عوام اس کا فیصلہ اگلے الیکشن میں کر دیں گے۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد میں ن لیگ کی سربراہی میں ایک مخلوط حکومت قائم ہے جس کے زیر سایہ عوام پر مہنگائی کے بم گرا گرا کر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

Back to top button