اب اسٹیبلشمینٹ میں صرف فوج نہیں بلکہ عدلیہ بھی شامل ہے

معروف صحافی نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح اب ماضی کی طرح صرف فوج کے لیے استعمال نہیں ہوگی بلکہ فوج اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ اب اس ”ڈیپ“ اسٹیٹ اور ”کھلے“ معاشرے میں فعال دکھائی دے گا جہاں ججوں کی براہ راست معاونت کے ساتھ جرنیل حکومت کریں گے۔ انکا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر برقرار رکھنے اور تحریک انصاف کو 17 جولائی تک اپنے غیر حاضر اراکین کو اکٹھا کرنے کا وقت دیتے ہوئے سہریم کورٹ کے ججوں نے آئین اور قانون کی بجائے سمجھوتا کرنے کی ایک اور مثال قائم کردی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ججوں نے حمزہ شہباز، عمران خان اور پرویز الٰہی کوعدالت سے باہر مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنے کا حکم دیا۔ ان تبدیل ہوتے ہوئے حالات میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان قائم ہوتے ہوئے تال میل پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں یہ تعلق مزید توانا ہوتا دکھائی دے گا۔
فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ حال ہی میں دنیا ٹی وی کے دفتر کے باہر سینئر صحافی ایاز امیر پر کچھ نقاب پوش افراد نے دن دیہاڑے حملہ کرکے انھیں جسمانی تشدد اور تضحیک کا نشانہ بنایا۔ بظاہر اُنکا مقصد ایاز امیر کو سبق سکھانا تھا کیوں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی ماضی اور حال کی غلط کاریوں کو کھلے عام بیان کر رہے تھے۔ اس واقعے کا ایک پہلو یہ ہے کہ اُنھیں خود کو خوش قسمت سمجھنا چاہیے کیوں کہ اس ”جرم“ کی پاداش میں عام آدمی تو عارضی طور پر یا ہمیشہ کے لیے غائب کردیے جاتے ہیں۔ نجم کے بقول اب تک ہر قابل ذکر صحافی، میڈیا تنظیم اور سیاسی جماعت کی جانب سے ایاز امیر پر حملے کی مذمت ہو چکی ہے۔ لیکن بری خبر یہ ہے کہ اس مذمت کے باوجود یہ مذموم فعل بہت ڈھٹائی سے جاری رہے گا کیوں کہ کوئی سویلین حکومت اس کے خاتمے کی ہمت نہیں رکھتی اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے وجود میں آنے والی پی ڈی ایم کی حکومت تو ہر گز بھی اس پوزیشن میں نہیں، تاہم محض رسمی طور وزیر اعظم شہباز شریف نے وعدہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے گا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ سرپر منڈلاتے ہوئے خطرے کے باوجود اب زیادہ سے زیادہ افراد اس موضوع پر اپنی سوچ کا اظہار کرنے لگے ہیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اونٹ خیمے میں گھس چکا ہے۔ یقیناً اس کا قبضہ ہے۔ لیکن اب وہ نہ تو نظروں سے غائب ہے اور نہ ہی مقدس مانا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔اتنی ہی غیر معمولی بات عدلیہ کا سیاست زدہ ہونا، اور سیاست کا عدلیہ زدہ ہونا ہے۔ یہ صورت حال 2009 کی وکلا تحریک سے دیکھنے میں آرہی ہے جس میں افتخار محمد چوہدری کی قیادت میں حرف انکار ادا کرنے والے ججوں کو بحال کرایا گیا۔ اس سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کی وحشیانہ قوت یا منتقم مزاج سویلین لیڈر کے سامنے کسی سویلین جج کو سرتابی کی ہمت نہیں تھی۔ وہ آئین اور قانون کے خوف ناک اسقاط میں بخوشی رضامند معاونین بن جاتے، یا واقعہ پیش آنے یا آمرکے رخصت ہونے کے بعد اپنے خوابیدہ ضمیر کو جگاتے اور فیصلہ دیتے۔ اس عالم میں یہ افتخار محمد چوہدری جیسے ”جرات رندانہ“ رکھنے والے کسی سر پھرے شخص کی ضرورت تھی جو اس جنگل میں چنگاری پھینک کر فوجی آمر کو نکال باہر کرے۔
بقول نجم سیٹھی، لیکن وہ ”آزادی“ ذاتی عزائم، بزدلی یا بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ثاقب نثار اور آصف کھوسہ جیسے چیف جسٹس اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں کھلونے بن گئے۔ ان کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ نے کسی آکٹوپس کی طرح تمام اداروں پر اپنی گرفت جما لی۔ کچھ دیگر نے اشارہ ملنے پر توازن بنانےکی کوشش کی۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران عدلیہ کے سیاست زدہ ہونے کے تاثر کو ان حقائق نے تقویت دی کہ درمیانے شہری طبقے سے تعلق رکھنے والی عدلیہ بھی فوج کی طرح سٹیٹس کو کی نمائندہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے خلاف عمران خان کے مقبول بیانیے کی حامی ہے۔ اس لیے اس نے حزب اختلاف کو ذرہ برابر سانس لینے کی گنجائش نہیں دی جب کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان اس کے خلاف توپوں کے دہانے وا کیے ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا اس کھلے تعصب کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے۔ چاہے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں ایک اور توسیع کے متعلق آئینی جواز گھڑنا ہو، عمران کے بنی گالا والے غیر قانونی محل کو ریگولرئز کرنا ہو، تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کو سات سال تک دبا کر عمران خان کو ریلیف دینی ہو یا صادق اور امین کے حلف کی کھلی خلاف ورزی کرنے والے کپتان کو مورد الزام ٹھہرانے سے گریز کرنا ہو، جج حضرات نے خود پارسائی کے زعم میں تمام معاملات میں آئین اور قانون کو نظر انداز کرنے کا وتیرہ اپنائے رکھا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اب ہم اپنے سیاسی ارتقا کے ایک اور غیر مرحلے میں داخل ہوچکے، جسے عدلیہ زدہ سیاست کہا جاسکتا ہے۔ اس کا آغاز تب ہوا جب عمران کی معمول کے مطابق آئین اور قانون کی پامالی کو 2021 کے آخری ایام میں بفوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہ رہی۔ عدلیہ نے فوراً ہی بندوق کی طاقت کو تسلیم کرلیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بلیک میلنگ کی لٹکتی ہوئی تلوار بھی سر پر تھی۔ چنانچہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر معمولی طریقے سے عمران کے پر کترنے کے لیے قینچیاں تیار کر لیں جب وہ اسٹیبلشمنٹ پر جھپٹنے کے لیے تیار تھے۔
اس پیش رفت نے حزب اختلاف کو بھی عمران کے لانگ مارچ جیسے سیاسی فیصلوں کو چیلنج کرنے کا حوصلہ دے دیا۔ اس پر عمران نے مجبور ہو کر ججوں سے درخواست کرنا شروع کردی کہ وہ غیر جانبداری چھوڑ کر اس کا ساتھ دیں۔ اب ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں طرفین ججوں سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ سیاسی طرف داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو آئین اور قانون کی بجائے ”زمینی حقائق“ کی بنیاد پر نمٹائیں۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے 25 منحرفین کے ووٹوں کی منسوخی ”اخلاقیات“ کے نام پر غیر آئینی مداخلت کی ایک اور نمایاں مثال ہے۔ حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر برقرار رکھنے اور تحریک انصاف کو 17 جولائی تک اپنے غیر حاضر اراکین کو اکٹھا کرنے کا وقت دیتے ہوئے ججوں نے آئین اور قانون کی بجائے سمجھوتا کرنے کی ایک اور مثال قائم کردی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ججوں نے حمزہ شہباز، عمران خان اور پرویز الٰہی کوعدالت سے باہر مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنے کا حکم دیا ہے۔ ان تبدیل ہوتے ہوئے حالات میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان قائم ہوتے ہوئے تال میل پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں یہ تعلق مزید توانا ہوتا دکھائی دے گا۔ سولین حکمرانوں کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کا درد سر مول لینے کی بجائے مستقبل کے جمہوری بندوبست کی ہائبرڈ نوعیت کا یہ کسی جھنجھٹ سے پاک اقدام ہے۔ پاکستان میں طبقے اور ریاست کی روایتی سماجی ساخت میں عدلیہ کو ایگزیکٹو کی باندی سمجھا جاتا تھا۔ اب ایگزیکٹو اتھارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ اس لیے عدلیہ نے بااختیار ہاتھ کی انگلی کا اشارہ بھانپنے میں مطلق دیر نہیں لگائی۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اس صورتحال میں اب اگر سویلین حکمران اوپر سے آنے والے حکم کی تعمیل میں تامل کا مظاہرہ کریں تو مارشل لا کی دھمکی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب عدلیہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ان کے فیصلے منسوخ کرنے دھمکی دے کر انھیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گی۔
لہٰذا سیٹھی کہتے ہیں کہ نئے پاکستان میں خوش آمدید! اب اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح ماضی کی طرح فوج کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اب فوج اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ اس ”ڈیپ“ اسٹیٹ اور ”کھلے“ معاشرے میں فعال دکھائی دے گا جہاں ججوں کی براہ راست معاونت کے ساتھ جنرل حکومت کریں گے۔
