آرمی چیف کیخلاف ٹویٹ کرنیوالے اعظم سواتی کی ضمانت منظور

وفاقی دارالحکومت کی سپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے آرمی چیف کیخلاف ٹویٹ کرنے پر ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔
اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت کے جج راجا آصف محمود نے سینیٹر اعظم خان سواتی کی 10 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی ،ساتھ ہی عدالت نے سینیٹر اعظم سواتی کو پاسپورٹ جمع کرانی کی ہدایت کردی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز (21 اکتوبر) کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم خان سواتی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔17اکتوبر کو جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک روز کی توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اعظم خان سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا جس کے فوری بعد ان کے وکلا کی جانب سے درخواست ضمانت دائر کی گئی تھی جس پر سماعت کے دوران کل ان کے وکیل اور آج پراسیکیوٹر نے دلائل دیے تھے۔
درخواست ضمانت پر اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں سماعت ہوئی، اعظم سواتی کی جانب سے وکیل بابر اعوان اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش ہوئے تھے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے اپنے دلائل میں عدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا تھا اور مؤقف اپنایا تھا کہ میں عدالتی دائرہ اختیار کے معاملے پر بات کروں گا، یہ معاملہ اس عدالت کے دائرے سے باہر ہے اور سیشن جج کے پاس جانا چاہیے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا تھا کہ اعظم سواتی نے ٹوئٹ کے ذریعے آرمی چیف کے خلاف نفرت انگیز بیان دیا، اعظم سواتی نے ٹوئٹ کے ذریعے فوج کے اندر بغاوت کی کوشش کی، اعظم سواتی نے چند ملزمان کی بریت پر آرمی چیف پر الزام لگایا، آرمی چیف کا عدالت کے فیصلے سے کیا تعلق ہے؟ سینیٹر اعظم سواتی نے پبلک فورم پر آرمی چیف اور اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیا، سینیٹر اعظم سواتی نے دوران تفتیش ٹوئٹ کا اعتراف کرلیا۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے نے 17 اکتوبر کو اعظم سواتی کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج محمد شبیر کی عدالت میں پیش کرکے مزید ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی سینیٹر اعظم خان سواتی کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم سیل نے 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب گرفتار کیا تھا،ایف آئی اے کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق ’پی ٹی آئی کے سینیٹر کو آرمی چیف سمیت ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور دھمکی آمیز ٹوئٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا،16اکتوبر کو بھی انہیں اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کا دوسری بار ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا، جب کہ اس سے قبل بھی عدالت نے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
