آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کسی ڈیل کا حصہ نہیں

بالآخر صدر مملکت عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی تصدیق کردی اور ساتھ میں یہ وضاحت بھی کہ ان کے عہدے کی معیاد میں اضافہ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے. صدر علوی نے ساتھ میں یہ اضافہ بھی کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے حوالے سے باتیں بالکل غلط ہیں اور ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ صدر علوی نے یہ باتیں ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو کے دوران کیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا نوٹی فکیشن انہوں نے کب سائن کیا تھا اور اسے اب تک منظر عام پر کیوں نہیں لایا گیا۔ حالانکہ اس حوالے سے میڈیا میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان شاید جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کے اعلان پر یو ٹرن لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 19 اگست 2019 کو ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں خطے کے مخصوص جغرافیائی حالات کے پیش نظر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے میں تین برس کی مزید توسیع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد سے تین ماہ گزرنے کے باوجود اب تک کوئی صدارتی نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کا باقاعدہ اعلان سامنے نہیں آیا جو کہ ایک حیران کن بات ہے۔ عارف علوی سے پہلے عمران خان کے قریبی ساتھی اور سابق وزیرخزانہ اسدعمر بھی نوٹی فیشن سائن ہونے کی بات میڈیا کو بتا چکے ہیں۔ انہوں نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کی اس حوالے سے وہ صدر علوی سے خود تصدیق بھی کر چکے ہیں۔ اسد عمر سے پہلے ا ینکر پرسن کاشف عباسی بھی جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کے نوٹی فکیشن کی تصدیق کر چکے ہیں۔ کاشف عباسی نے تو یہ دعوی بھی کردیا تھا کہ انہوں نے صدارتی نوٹیفیکیشن خود دیکھا ہے جس پر اگست 2019 کی کوئی تاریخ درج تھی۔ تاہم یہ دعویٰ اس لیے مشکوک ہوگیا تھا کہ 12 ستمبر 2019 کو آج ٹی وی کی سینئر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کے ساتھ ایک انٹرویو میں جب آرمی چیف کی توسیع کے نوٹی فکیشن کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے جیسے ہی وزیراعظم اس حوالے سے ایڈوائس دیں گے میں نوٹی فکیشن جاری کر دوں گا۔ یعنی اگر 12 ستمبر 2019 تک یہ نوٹی فکیشن جاری نہیں ہوا تھا تو پھر کاشف عباسی نے اگست 2019 میں جاری کردہ ایسا نوٹیفیکیشن کیسے دیکھ لیا؟
