آصف زرداری دوسری مرتبہ صدر پاکستان کیوں بن رہے ہیں؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ میاں شہباز شریف 2022 تک ملزم تھے۔ یہ نیب کی حوالات میں زمین پر سلائے جاتے تھے لیکن یہ اب دوسری بار وزیراعظم بن چکے ہیں اور پورا سسٹم انھیں سلام پیش کر رہا ہے‘ رانا ثناء اللہ پر ہیروئن فروشی کا مقدمہ بنا تھا اور پھر یہ وزیر داخلہ بن گئے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے والا محکمہ ان کا ماتحت ہو گیا‘ صدر آصف علی زرداری پر 2016 میں کرپشن کے مقدمے بنائے گئے‘ یہ اب دوسری بار صدر بن رہے ہیں .اپنے ایک کالم میں جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی اداروں کا کام سیاسی مخالفوں کو رگڑا لگانا ہے تو پھر ان اداروں کو ریاستی ادارے کیوں کہا جاتا ہے‘ آپ انھیں مافیاز اور خرکار کیمپوں کا نام دے دیں اور جو حکومت ختم ہو جائے آپ اس کے لوگوں کو پکڑیں اور کیمپوں میں لے جائیں اور جب دوبارہ حکومت کا وقت آئے تو آپ انھیں نہلا دھلا کر دوبارہ کرسی پر بٹھا دیں‘ ملک میں عملاً 50 سال سے یہی ہو رہا ہے‘ ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے اور پھر سزائے موت کے قیدی تھے‘ بے نظیر بھٹو‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کتنی بار جیل گئے اور کتنی بار اقتدار کی کرسی پر بیٹھے‘ آج عمران خان بھی جیل میں ہیں اور یہ کل دوبارہ وزیراعظم ہوں گے. فواد چوہدری بھی باہر آئیں گے اور ایک بار پھر وزارت کا حلف اٹھائیں گے اور اس بار یہ وزیر داخلہ ہوں گے تو پھر سوال یہ ہے ان مقدموں کا کیا فائدہ؟ جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ عمران خان نے 8 فروری کے الیکشنز میں ثابت کر دیا عوام اس کے ساتھ ہیں‘ لوگ اسے وزیراعظم اور پی ٹی آئی کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں‘ ہم جتنی جلد یہ حقیقت بھی مان لیں گے ملک کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا‘ یہ مصنوعی نظام ڈیلیور نہیں کر سکے گا چناں چہ ریاست اسے بچانے کے لیے اپنا وقت اور انرجی ضایع نہ کرے‘ آخر میں کسی کے ہاتھ بدنامی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔ جاوید چودھری تحریک انصاف میں انتہا پسند سوچ کے رواج کے بارے میں بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے دو فہرستیں بنا رکھی ہیں‘ ہمارے لوگ اور ہمارے مخالف لوگ‘ یہ جماعت صدر جارج بش کی طرح لوگوں کو صرف ایک آپشن دیتی ہے۔ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا پھر ہمارے دشمن ہیں اور اگر خدانخواستہ دوسرے نے جواب نہ دیا یا ان کی آفر قبول کرنے سے انکار کر دیا تو پھر یہ اس کا نام لوہے کی دیوار پر لکھ دیتے ہیں اور دوبارہ اس کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتے. بدقسمتی سے تحریک انصاف میں اعتدال پسند لوگ بہت کم ہیں‘ آپ اگر فہرست بنائیں تو عامر ڈوگر‘ علی محمد خان اور اسد قیصر کے بعد یہ فہرست ختم ہو جاتی ہے‘ نئے لوگوں میں ڈاکٹر ہمایوں مہمند اور شعیب شاہین شامل ہیں‘ یہ لوگ مخالفت کو صرف مخالفت تک رہنے دیتے ہیں‘ اسے ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کرتے چناں چہ میڈیا اور سیاست دونوں جگہوں پر ان کا احترام موجود ہے جب کہ باقی لوگ لوہے کی گردن اور پتھر کے چہروں کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں‘ آپ ایک بار ان کے ساتھ بات کر کے دیکھ لیں‘ آپ پوری زندگی اپنے اوپر لعنت بھیجتے رہیں گے اور شاید یہ اس رویے کا نتیجہ ہے یہ لوگ مشکل وقت میں مکمل طور پر اکیلے رہ گئے۔ آپ اسد عمر‘ عمران اسماعیل‘ علی زیدی‘ عامر کیانی‘ فرخ حبیب‘ فیصل جاوید‘ اعظم سواتی اور مراد سعید کو دیکھ لیں‘ کیا ان کے زوال کے بعد کسی نے ان کے لیے آواز اٹھائی‘ کسی نے ان کا نام لیا‘ فرخ حبیب آج فیصل آباد میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ‘ یہ باہر نہیں نکلتا اور اگر یہ کسی جگہ چلا جائے تو لوگ اس سے سلام لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘لوگ اب اس کی عزت کیوں کریں؟ یہ اقتدار کے زمانے میں ٹھیک ٹھاک تکبر کے ہیضے میں مبتلا ہو گیا تھا‘ سیدھا آسمان کو ہاتھ مارتا تھا لہٰذا آج اسے زمین پر بھی پناہ نہیں مل رہی‘ جاوید چودھری کے مطابق .اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے۔ اس کی نعمتوں اور نوازشات کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اچھے وقتوں میں دوسروں کے ساتھ بہت اچھا ہو جانا چاہیے‘ یہ عقل مندی بھی ہے اور بہترین حکمت عملی بھی ورنہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اور جب وقت بدلتا ہے تو پھر انسان کا اپنا سایہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور انسان زندگی کے لق و دق صحرا میں اکیلا رہ جاتا ہے‘ بڑا پرانا فارمولا ہے اگر اقتدار‘ شہرت اور دولت کے زمانے میں آپ کے دوستوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہورہا تو پھر آپ جان لیں آپ اچھے انسان نہیں ہیں اور آپ کا انجام عبرت ناک ہو گا۔
