’’پاکستانی حکمرانوں کے پہلی تقریر کے وعدے‘‘

پاکستانی وزرائے اعظم، صدور، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر حلف اٹھانے کے بعد عوام کے سامنے اپنا منشور، مستقبل کا لائحہ عمل پیش کرتے ہیں، لیکن پہلی تقریر میں کیے گئے وعدے کتنے سچ ثابت ہوتے ہیں، یہ سوالات اب تک زیر بحث ہیں، پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں متعدد وزیرِاعظم، صدر اور مارشل لا ایڈمنٹسٹریٹر آئے جو قوم سے اپنے پہلے خطاب میں طرح طرح کے وعدے کرتے رہے، لیکن کیا یہ وعدہ وفا ہوئے؟پاکستان کے قیام سے تین دن قبل 11 اگست 1947 کو قائداعظم محمد علی جناح نے کہا کہ ’اس وقت ہندوستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے، ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہئے۔ ایک اور لعنت احباب پروری اور اقربا نوازی ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا مگر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اس ملک کو سب سے زیادہ جن لعنتوں نے نقصان پہنچایا وہ یہی دو لعنتیں ہیں۔قیام پاکستان کے پہلے دن 15 اگست 1947 کی صبح نواب زادہ لیاقت علی خان نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا، مگر انہوں نے اس دن کوئی تقریر نہیں کی، ان کا جو بیان تاریخ میں محفوظ ہے وہ 18 اگست 1947 کو عیدالفطر کے موقعے پر دیا گیا۔ 1964-65 میں ملک میں صدارتی انتخابات منعقد ہوئے جس میں بنیادی جمہوریت کے نظام کا تجربہ کیا گیا اور ایوب خان بھاری اکثریت سے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر ایک مرتبہ پھر ملک کے صدر بن گئے۔26 مارچ 1969 کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے یحییٰ خان نے کہا کہ ’ہم تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں، پچھلی حکومت کے خلاف تحریک کی وجہ سے ہمارے قومی وقار اور ہماری ترقی کو سخت دھچکا لگا ہے۔ ہماری انتظامیہ کسی بھی طرح کے مظاہرے اور تخریبی کارروائیاں برداشت نہیں کرے گی، چند روز بعد یحییٰ خان نے ایک پریس نوٹ جاری کر کے بغیر حلف اٹھائے صدر مملکت کا عہدہ سنبھال لیا۔چار اپریل 1969 کو انہوں نے1962 کے آئین کومنسوخ کر کے ایک عبوری آئین کا حکم نامہ جاری کیا اور کہا کہ 25 مارچ 1969 کے مارشل لا کے فرمان، مارشل لا ضابطوں، احکامات اور فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔28 نومبر 1969 کو انہوں نے قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ 1970انتخابات کا سال ہو گا، یہ انتخابات سات دسمبر 1970 کو منعقد ہوئے مگر خود صدر مملکت نے ان انتخابات کے نتائج قبول کرنے سے انکار کردیا، نتیجہ ملک کے مشرقی حصے میں خانہ جنگی کی صورت میں برآمد ہوا اور 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان ہمیشہ کے لیے پاکستان سے جدا ہو گیا۔اب ملک کے مغربی حصے کی باگ ڈور ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ آئی، جنہوں نے 20 دسمبر 1971 کو ملک کے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھالا۔ وہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی شخصیت تھے جو سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے تھے۔اپنی پہلی تقریر میں جو ریڈیو اور ٹیلی وژن سے براہ راست نشرہوئی انہوں نے اعلان کیا کہ ’ہم اپنی زندگی کے بدترین بحران سے دوچار ہیں، ہمیں ٹکڑے جمع کرنے ہیں، بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے، ہم نیا پاکستان بنائیں گے، ایک ایسا پاکستان جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا۔‘جنرل محمد ضیا الحق نے وعدہ تو کیا تھا کہ عام انتخابات اکتوبر 1977 میں منعقد ہوں گے مگر یہ وعدہ بار بار ٹوٹتا رہا بلآخر فروری 1985میں غیر جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات منعقد ہوئے۔ اگلے بیس پچیس دن تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وزارت عظمیٰ کا ہما کس رکن اسمبلی کے سر بیٹھے تھے۔دو دسمبر 1988 کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ اسی شام انہوں نے قوم سے خطاب کیا اور مارشل لا دور کے غیر منصفانہ اقدامات اور زیادتیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انسانی تاریخ میں شاید ہی کسی قوم نے جمہوریت کی بحالی کے لیے اتنی بڑی جدوجہد کی ہو۔ 1990میں میاں محمد نواز شریف، 1993 میں بے نظیر بھٹو اور 1997 میں پھر میاں محمد نواز شریف ملک کے وزیراعظم بنے۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا لگائے بغیر ملک کا اقتدار سنبھال لیا۔جنرل پرویز مشرف نے برسراقتدار آنے کے بعد اپنے اثاثوں کا اعلان کیا اور کہاکہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔2002 میں جنرل پرویز مشرف کو بھی ملک میں عام انتخابات منعقد کروانے پڑے جس کے نتیجے میں پہلے میر ظفر اللہ خان جمالی اور پھر چوہدری شجاعت حسین اور شوکت عزیز ملک کے وزرائے اعظم بنے۔ 2008 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں یوسف رضا گیلانی وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ 2013 کے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے اور خطابات کا سلسلہ جاری رہا۔25 جولائی 2018 کو ملک ایک مرتبہ پھر عام انتخابات کے تجربے سے گزرا۔ اس مرتبہ وزارت عظمیٰ کا ہما پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سر بیٹھا۔ انہوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد 19 اگست 2018 کو قوم سے طویل خطاب کیا اور بدعنوانی کا نشانہ بنانے والی اور انسانی ترقی پر مرکوز اصلاحات کا اعلان کیا۔اپریل 2022 عدم اعتماد کی ایک تحریک کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا، جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے، 16 ماہ کی کارکردگی کے بعد ملک میں نگران حکومت قائم کی گئی، اور انہیں عام انتخابات کروانے کا ٹاسک ملا، نگران حکومت نے ایک سال کے دوران 2024 میں ملک میں دوبارہ انتخابات کروائے جس کے دوران کوئی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر پائی جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم نے اتحادی حکومت بنائی جس کے دوران شہباز شریف وزیراعظم، آصف زرداری صدر مملکت منتخب ہوئے، عمران خان جیل میں قید ہونے کی وجہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے، ان کی جگہ بیرسٹر گوہر علی کو پارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا، ان کی جماعت PTI پر بھی پابندی عائد کر دی گئی جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے اراکین نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور 100 کے قریب نشستیں حاصل کی، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین نے ایوان میں جانے کے لیے سنی اتحاد کونسل کی جماعت سے اتحاد کیا ان کے پلیٹ فارم سے بطور اپوزیشن جماعت قومی اسمبلی میں انٹری کی۔
