مبینہ کرپشن ریفرنسز: آصف زرداری پرفرد جرم عائد کرنے کا حکم

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 3 کرپشن ریفرنسز میں آصف زرداری کو بری کرنے کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
پارک لین، میگامنی لانڈرنگ، ہریش اینڈ کمپنی ریفرنسزمیں عدالت کا بڑا فیصلہ آگیا، جس کے مطابق سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی مشکلات کم نہ ہوئیں اور عدالت نے آصف زرداری کی ریفرنسزخارج کرکےبری کرنےکی درخواستیں بھی مسترد کردیں۔احتساب عدالت نے آصف زرداری کی تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ جاری کیا، احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے جعلی اکاوٗنٹس کیس کے 3 کرپشن ریفرنسز میں آصف زرداری کی درخواستیں خارج کردیں، اور آصف زرداری کی ریفرنسزخارج کرکےبری کرنےکی درخواستیں بھی مسترد کردی گئیں۔عدالت نے آصف زرداری پرتینوں کرپشن ریفرنسزمیں فردجرم عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ آصف زرداری کو جعلی اکاؤنٹس ریفرنسز میں بری نہیں کیا جاسکتا، عدالت نے آصف زرداری سمیت تمام ملزمان کو 28 ستمبر کو طلب کر لیا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا اور سابق صدر کی جانب سے پارک لین، منی لانڈرنگ اور ٹھٹھہ واٹرسپلائی کے ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی استدعا مسترد کردی۔سابق صدر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب آرڈیننس کے تحت ضمنی دائر نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ان تینوں ریفرنسز کو خارج کیا جائے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہےکہ ان ریفرنسز پر ٹرائل جاری رکھا جائے گا۔عدالت نے ریفرنسز میں آصف زرداری سمیت تمام ملزمان کو 28 ستمبر کو طلب کرلیا۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق صدر آصف زرداری کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جس سلسلے میں ان کے وکیل فاروق نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت نیب نے بتایا کہ آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری پراسس میں ہیں، اس پر عدالت نے کہا کہ نیب اس کیس میں فریش کمنٹس فائل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے سابق صدر کی عبوری ضمانت میں 15 اکتوبر تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
