شوبز خواتین کا ندا یاسر کی معافی قبول کرنے سے انکار


مارننگ شوز جو کبھی ہر گھر کی صبح کی رونقیں بڑھاتے تھے اچانک ایک سوال بن کر رہ گئے ہیں، ریٹنگ کی دوڑ نے ان شوز کو کانٹینٹ سے آزاد کیا کیا، ایک ایک کرکے کسی نا کسی جرم کی پاداش میں یہ مارننگ شوز بند ہوتے چلے گئے۔ اب چند ہی مارننگ شوز ہیں جو مقابلے کے اس میدان میں آہستہ آہستہ اپنی گاڑی گھسیٹ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ندا یاسر کا مارننگ شو ہے۔ مارننگ شوز کے میزبانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ انکے شو میں انٹرٹینمنٹ شامل رہے لیکن کبھی کبھی کچھ شوز حادثات اور واقعات پر بھی کرنے پڑتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ایسے ہی موقع پر ندا یاسر نے ریپ کے بعد قتل ہونےوالی ایک پانچ سال کی بچی مروہ کے والدین کو بلا کر اپنا شو کیا جس میں اس کے والدین سے یہ سوالات کئے گئے کہ بچی کی اس تکلیف دہ موت کا انہیں کیسے پتہ چلا اور کیا ہوا تھا۔
تاہم ندا یاسر اپنے شو میں کیے گئے ان بونگے اور بے حس سوالات کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں آ گئیں۔ انہوں نے اپنے سوالات پر معافی بھی مانگی۔ یہ بھی کہا کہ میرے شو سے تو بچی کے خاندان کی مدد بھی ہوئی۔ لیکن عوام تو عوام انڈسٹری کے لوگ بھی انہیں معاف نہیں کر رہے۔
ندا کو معاف نہ کرنے والوں میں سابق مارننگ شو میزبان اور اداکارہ نور بخاری بھی شامل ہیں، انہوں نے اس شو کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ’ہاں یہ سب کرتے ہیں۔۔۔سارے ہی مارننگ شوز اتنے ہی بیکار ہیں۔۔۔یہ متاثرہ شخص کو بلاتے ہیں اور پھر میزبان کو کہتے ہیں کہ رلاؤ اسے رلاؤ۔۔۔ایک بار میں نے اسی وجہ سے ایسا ایک شو چھوڑ دیا تھا اور وہاں سے چلی گئی تھی‘ ان کے اس بیان سے صاف ظاہر تھا کہ وہ صرف ندا یاسر کو ہی نہیں بلکہ ان کی ٹیم اور چین کو بھی یہ کہنا چاہ رہی تھیں کہ آپ لوگ قصور وار ہیں اور ندا یاسر کو یہ شو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ نور نے کھلم کھلا ندا یاسر کے خلاف بیان دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ ندا کو اس وقت انڈسٹری سے کوئی سپورٹ حاصل نہیں۔ یاد رہے کہ نوربخاری وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست عون چوہدری کی بیوی ہیں۔
عامر لیاقت کی پہلی بیگم بشریٰ عامر بھی ندا یاسر کے شو پر چپ نہ رہ سکیں اور انہوں نے ندا کی معافی کو مسترد کردیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تمام نیوز چینلز اور انٹر ٹینمنٹ چینلز سے گزارش ہے کہ خدارا یہ قوم کی بچیاں ہیں، ہماری بیٹیاں ہیں، ان کے ساتھ پہلے زیادتی ہوتی ہے اور اس کے بعد بار بار زیادتی ہوتی ہے ان کے گھر والوں کے زخموں اور دکھوں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں نوچ نوچ کر اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اپنے پروگرامز میں بلا کر ان کے ماں باپ یا گھر والوں سے ان کی بیٹی کی عصمت دری کا واقعہ پوچھنا یا بیان کرنا ان کےلئے کسی موت سے کم نہیں۔ بس کردیں ریٹنگز کی دوڑ! یہ دکھ، صدمہ ہم سب کا اجتماعی دکھ ہے، ان ریپ کیسز اور زیادتیوں کے خلاف آواز بنیں نہ کہ ان کی تکلیف میں اضافے کا باعث، ذرائع ابلاغ کا درست استعمال بھی ہماری معاشرتی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ بشریٰ عامر نے بھی اس موقع پر آواز اٹھا کر یہ بتایا ہے کہ ان کا ووٹ ندا یاسر کے بچاؤ میں ہر گز نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button