کیا رخسانہ نور اپنے شوہر کی دوسری شادی سے خوش تھیں؟

معروف ڈائریکٹر اور رائٹر سید نور کی دوسری شادی کے روگ کو دل پر لئے ان کی وفا شعار بیوی معروف کالم نگار اور لکھاری رخسانہ نور منوں مٹی تلے چلی گئیں لیکن سید نور آج بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ رخسانہ اور ان کے بچوں نے ان کی فلم سٹار صائمہ سے دوسری شادی کو دل سے تسلیم کر لیا تھا اور مرنے سے قبل رخسانہ نور کا صائمہ سے احترام اور محبت کا رشتہ قائم ہوچکا تھا۔
سید نور کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کی صائمہ سے شادی کے بعد ایک خاموشی اور اداسی آخری سانسوں تک رخسانہ نور کے چہرے پر طاری رہی اور وہ اسے کرب میں جان فانی سے کوچ کر گئیں۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ سید نور سے شادی کے بعد صائمہ، سید نور کی بیوی تو بن گئیں لیکن نہ تو وہ "نور فیملی” کا حصہ بن سکیں اور نہ ہی وہ بلند مقام حاصل کر سکیں جو سید نور کے چار بچوں کی ماں رخسانہ نور نے اپنی بے لوث محبت اور وفا سے حاصل کیا تھا۔ دوسری طرف سید نور کے مطابق رخسانہ نور کے صائمہ کے ساتھ ان کی شادی کو دل پہ لینے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ رخسانہ اور صائمہ کا آپس میں بہت اچھا تعلق تھا۔ صائمہ رخسانہ کی گھر آنے پر بہت ہی خاطر مدارت بھی کرتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رخسانہ نور اگر ان سے نالاں ہوتیں تو وہ کیوں آخری دم تک ان کے گھر میں رہتیں۔ دوسری طرف بتانے والے بتاتے ہیں کہ صائمہ نور لاہور میں اپنے بیٹے کے ساتھ اکیلی رہتی تھیں جبکہ سیدنور صائمہ کے ساتھ زیادہ عرصہ کراچی میں ہی قیام کرتے تھے۔سید نور تسلیم کرتے ہیں ان کے بچوں نے شروع میں صائمہ کو قبول نہیں کیا تھا، لیکن بعد میں سب ٹھیک ہو گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ان کی بیویوں نے انہیں تنگ رکھا ہوتا تو وہ اتنے پر سکون نظر نہ آتے۔
اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں فلمسٹار انجمن کی صائمہ سے شکایات بارے سید نور نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ انجمن اور صائمہ آج بھی ایک دوسرے ملتی ہیں۔ سیٹ پر بھی ان کا آپس میں کافی اچھا تعلق ہوتا تھا یہ لوگوں کی پھیلائی ہوئی باتیں ہیں کہ صائمہ کا فلاں سے بھی مسئلہ تھا فلاں سے بھی۔ ہمیشہ صائمہ کو فلموں کے مرکزی کردار کے طور پر کاسٹ کرنے پر سید نور کا کہنا تھا کہ میں نے بہت ساری ہیروئینز کو متعارف کروایا، انہیں فلموں میں مرکزی کردار بھی دیے، جس کو جو رول سوٹ کرتا تھا اسی کو کاسٹ کرتا تھا۔ اب اگر میں صائمہ کو بھی کسی کردار کے لیے سائن کرتا تھا تو وہ کردار اسی کے لیے ہوتا تھا تو کاسٹ کرتا تھا۔ میں نے کبھی انجمن یا کسی دوسری ہیروئین کو نظر انداز کرکے صائمہ کو کردار نہیں دیا تھا۔ میں نے اس دور کی سب ہیروئنز کے ساتھ کام کیا ریشم، ریما بہت بہترین اداکارائیں تھیں اسی طرح باقی بھی اچھا کام کررہی تھیں اس لیے میں ایسے الزامات اور تنقید کو سنجیدہ نہیں لیتا۔ صائمہ کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے سید نور نے کہا کہ صائمہ کا انڈسٹری میں کبھی کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں رہا وہ بہت ہی سادہ اور عاجز خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ انڈسٹری آج تک ان کی عزت کرتی ہے۔ اننہوں نے کہا کہ صائمہ انٹرویوز نہیں دیتیں یہ ان کا اپنا مزاج ہے وہ خاصی کم گو ہیں لیکن کیمرے کے سامنے وہ کمال کی اداکاری کرتی ہیں۔
سید نور نے پاکستانی سنیما کی زبوں حالی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کے فقدان، محدود بجٹ، غیر تجربہ کاری، حکومتی عدم تعاون اور کہانیوں میں یکسانیت کی وجہ سے پاکستانی فلم انڈسٹری تباہ ہوئی تاہم اب لولی ووڈ انڈسٹری ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہے اور جلد پاکستان میں بھی عالمی معیار کی فلمیں بننا شروع ہو جائیں گی۔ سید نور کا ماننا ہے کہ اچانک فلمی صنعت کی بحالی نہیں ہو سکتی ابھی بہت وقت لگے گا جس طرح سے اس کے زوال پذیز ہونے میں بیس سال لگے تھے اسی طرح اس کی بحالی مین بھی وقت لگے گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ فلم بنانا پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے فلم بنانے کے لئے بہت سارا پیسہ چاہیے ہوتا ہے کسی کاغذ پر تو فلم نہیں بنائی جاسکتی۔ ایک وقت تھا کہ جب سال میں ایک سو دس کے قریب فلمیں بنتی تھیں اب بھی اگر کوئی رسک لے پیسہ لگائے تو فلموں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں فلم میکرز کو درپیش مشکلات بارے سید نور کہتے ہیں کہ یہاں فلم میکرز کو سب سے بڑی مشکل فنانس کی رہی ہے۔ چوڑیاں جسے پچپن لاکھ میں بنایا گیا تو اس دور میں بھی ہندوستان میں کروڑں میں فلم بنتی تھیں۔ اسی طرح سے آج ہماری فلم پانچ سے سات کروڑ میں بنتی ہے تو ہندوستان میں سو ڈیڑھ سو کروڑ میں بنتی ہے۔دوسرا بڑا مسسلہ یہ کہ ہمارے پاس وہ ٹیکنالوجی اور آلات نہیں تھے جو دنیا کے پاس تھے، ہم صرف پاکستان کے لیے فلم بناتے رہے۔ سید نور کا مطالبہ ہے کہ حکومت فلم انڈسٹری کی سرپرستی کرے۔ہر دور میں ہر گورنمنٹ کے پاس آرٹسٹ پرڈیوسرز جاتے رہے لیکن ہر گورنمنٹ نے صرف لالی پاپ ہی دیا، تاشقند ہو یا ایران ہر جگہ گورنمنٹ اپنی فلم انڈسٹری کو سپورٹ کرتی ہے، لیکن یہاں فلم انڈسٹر ی اور اس کے مسائل کو کبھی سنجیدہ لیا ہی نہیں گیا۔ تاہم انھیں امید ہے جلد پاکستانی فلم اور سیینما انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی۔
