آصف علی زرداری کا دوبارہ مفاہمت کا بادشاہ بننے کا فیصلہ؟

سابقہ اتحادی حکومتی جماعتوں کے درمیان نگران دور میں انتخابی میدان میں اترنے سے پہلے ہی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور آئندہ اقتدار کی جنگ میں اتحادی حکومت میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتیں کھل کر آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے نون لیگ سے اختلافات اور اس کے حل کی ذمہ داری سابق صدر آصف علی زرداری کے کھاتے میں ڈال دی ہے۔ جس کے بعد اب یہ معاملہ آصف علی زرداری کسی وقت بھی مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کے ساتھ ڈسکس کرنے والے ہیں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ماضی قریب میں متحارب سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے والے سابق صدر آصف علی زرداری دوبارہ مفاہمت کے بادشاہ ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔
یادر ہے کہ پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم بننے کے کچھ عرصے کے بعد اس اتحاد سے الگ ہو گئی تھی۔ تاہم چیئر مین پی ٹی آئی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران دوبارہ اس اتحادی گروپ کا حصہ بن گئی تھی۔ تاہم جیسے ہے نگران دور حکومت شروع ہوا ماضی کی طرح ان جماعتوں میں سیاسی اختلافات کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے۔ ان اختلافات کا آغاز نگران حکومت کے قیام کے بعد اتحادی جماعتوں کی خاموشی کے دوران پیپلز پارٹی کی طرف سے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے مطالبے سے ہوا۔ ذرئع کے مطابق پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران بھی اس کا کھل کر اظہار کیا گیا کہ نگراں دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے اور اس کا براہ راست الزام ماضی کی سب سے بڑی حریف جماعت مسلم لیگ ن پر لگایا گیا۔یہ بھی کہاگیا کہ پیپلز پارٹی کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مسلم لیگ ن کے کہنے پر پیپلز پارٹی کو لیول پلئینگ فیلڈ فراہم نہیں کی جا رہی اور مسلم لیگ ن کو نگران انتظامیہ کی طرف سے اہمیت دی جارہی ہے ۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے سی ای سی کے اجلاس میں بھی اس حوالے سے مسلم لیگ نون پر کڑی تنقید کی گئی۔تاہم اب 19 ستمبر کو چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے کھل کر اس کا اظہار کیا گیاہے کہ لیول پیلینگ فیلڈ کی بات اب سب کو نظر آرہی ہے۔تاہم سی ای سی کے اجلاس میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے حوالے سے تحفظات دور کرنے کا اختیار آصف زرداری صاحب کو دے دیا گیا ہے اس لیے اب یہ مناسب نہیں ہے کہ میں ہر روز اس بارے میں بات کروں،آصف علی زرداری نے پارٹی کو تسلی دی ہے کہ یہ معاملہ وہ جلد حل کرلیں گے۔“ لیول پلیئنگ فیلڈ کی شکایت کِس سے ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کی شکایت مسلم لیگ (ن) سے ہے، کسی اور سے شکایت ہوتی تو اس کا نام لے کر ذکر کرتا۔انہوں نے اپنی اس بات کو زرا آگے بڑھاتے ہوئے اشارہ دیا کہ پیپلزپارٹی لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات اس لیے کر رہی ہے کیونکہ صوبہ سندھ میں ترقیاتی سکیموں کی اجازت نہیں دی جار ہی اور وفاق میں ترقیاتی سکیموں پر کام ہو رہا ہے۔
اس ضمن میں پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نگراں انتظامیہ مرکز اور خاص طور پر خیبر پختون اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم سازگار بنانے میں متحرک ہے اور پیپلز پارٹی کوسندھ میں خصوصی ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کچھ سینئر قائدین کے مطابق چیئر مین بلاول کے اس بیان کے ایک سے زائد پہلو ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک پہلو بیٹی کو کہنا اور بہو کو سنانا والی بات بھی ہو سکتی ہے۔ نگراں حکومت کی تشکیل اور بعد میں بھی پیپلز پارٹی گھاٹے میں رہی ہے جبکہ اہم عہدے مسلم لیگ ن کے پاس رہے جن سے وہ بھر پور استفادہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب بلاول بھٹو کے بیان کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٗر رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری مسلم لیگ نواز سے لڑنا نہیں چاہ رہے اس لیے بلاول کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ اگر بلاول کے ہاتھ کھول دیں تو پھر ملک میں اسی کی دہائی والی سیاست واپس آ جائے گی۔ان کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز پی ڈی ایم کی حکومت میں 14 ماہ تک مل کر چلے ہیں اور اگر وہ مل کر نہ چلتے تو یہ حکومت 14 ماہ تو کیا چودہ دن نہ چل سکتی۔تاہم انہی کے ایک ساتھی خرم دستگیر نے اپنی ایک گفتگو میں کہا ہے کہ اگر بلاول کو لیول پلیئنگ فیلڈ کا گلہ کرنا ہے تو مقتدرہ سے کریں۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ’اتحادی حکومت میں پندرہ جماعتیں تھیں ان سب کو اپنی ذمہ داری بھی قبول کرنی ہے اگر ہم سب یہ کوشش کریں کہ ہم اس سے پیچھے ہٹ جائیں یا کسی اور کے اوپر وہ ذمہ داریاں یا مشکل فیصلے ڈال دیں تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اگر ان کے ذہن میں کوئی ایسی بات ہے تو وہ کھل کر اظہار کریں، الیکشن کمیشن سے نہیں مقتدرہ سے کریں، اگر وہ کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسی کوئی بات ہے۔
بلاول بھٹو کے الزامات اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کے جوابات اپنی جگہ لیکن سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات سے پہلے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہ رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی آن دا ریکارڈ اور آف دا ریکارڈ گفتگو اس بات کو تقویت پہنچاتی ہے کہ بلاول کی لیول پلئینگ فیلڈ نہ ملنے کی شکایت در حقیقت سندھ میں افسران کے تبادلوں، اور اہم عہدوں پر مسلم لیگ نواز کے فیورٹ عہدیداران کی تعیناتی ہے جس کی وجہ سے انہیں خدشہ ہے کہ وہ الیکشن میں اپنی مطلوبہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکیں گے۔
