آل پارٹیز کانفرنس سے قبل اپوزیشن دو حصوں میں تقسیم

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں. ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بلز کی منظوری بارے اختلافات سامنے آنے کے بعد اب اپوزیشن کی بڑی اور چھوٹی جماعتیں دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کی آل پرٹیز کانفرنس سے قبل اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت بارے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں نیا الائنس قائم کر لیا ہے. جس سے اپوزیشن جماعتوں میں پیدا ہونے والے اختلافات کی دراڑ مزید گہری ہو گئی ہے.
ذرائع کے مطابق وفاق میں اپوزیشن کی بڑی اور چھوٹی جماعتیں دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہیں، چھوٹی جماعتوں نے سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں نیا الائنس بنا لیا، چھوٹی جماعتوں کو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے شدید تحفظات ہیں۔ اپوزیشن کے نئے الائنس میں جے یوآئی ف، اے این پی، پی کے میپ، قومی وطن پارٹی، اور نیشنل پارٹی شامل ہیں جبکہ حکومت سے علیحدہ ہونے والی اتحادی جماعت بی این پی مینگل بھی اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کے الائنس کا حصہ بن گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میر حاصل بزنجو کی وفات کے باعث اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کا اجلاس تاخیر کا شکار ہوا۔ اپوزیشن کے نئے اتحاد کا اجلاس جلد مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہوگا۔ واضح رہے سربراہ جےیوآئی ف کو بڑی اپوزیشن جماعتوں ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے اے پی سی میں تاخیرپر شدید تحفظات ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں، موجودہ حکومت دھاندلی زدہ جعلی ہے۔لیکن بڑی جماعتیں حکومت کے خلاف واضح حکمت عملی دکھانے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی قائد میاں نواز شریف اپوزیشن جماعتوں میں اختلاقات وتحفظات دور کرنے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں جس کیلئے نہ صرف انھوں نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا ہے بلکہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کو بھی ٹیلیفون کر کے جمہوریت کی بحالی اور مضبوطی کیلئے مل کر آگے بڑھنے کا یقین دلایا ہے اور واضح کیا ہے کہ اے پی سی میں طے ہونے والے اقدامات پر من و عن عمل کیا جائے گا. ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور مریم نواز کو سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو ناراض نہیں کرسکتے انھوں نے مزید کہا ہے کہ پارٹی کے معاملات اب میں خود بھی دیکھوں گا۔ اے پی سی پر اپوزیشن جماعتوں سے بات کی جائے گی۔ ن لیگ نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان کو مزید بےنقاب کرنے کے لئے باہر نکلوں گی۔ حکومت کو ووٹ دینے والے شرمندہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button