نوازشریف کپتان کی نہیں، اپنی مرضی سے واپس آئیں گے


حکومت نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کا اعلان کیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں نواز شریف کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں اور فضل الرحمان اور بلاول بھٹو سے رابطوں نے کپتان کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف کو دوبارہ متحرک ہونے سے روکیں اور واپس لا کر جیل میں ڈال دیں۔
تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت وقت نواز شریف کو لندن سے واپس لانے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں۔ زیادہ تر سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہی خیال ہے کہ نواز شریف اب اگر پاکستان واپس آئیں گے تو اپنی مرضی سے آئیں گے حکومت کی مرضی سے نہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم اسحاق ڈار اور سلیمان شہباز کو ملک واپس نہیں لاسکے تو نواز شریف کو لانا بھی آسان کام نہیں ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں ایسی قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ حکومت اور نواز شریف کے درمیان علاج کے عوض بیرون ملک روانگی کے حوالے سے کی گئی مبینہ ڈیل ختم ہوگئی ہے جس کے بعد کپتان حکومت ایک بار پھر نواز شریف کو ملک واپس لانے کے لئے پرتول رہی ہے لیکن بظاہر حکومت اس مہم جوئی میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی سیاست میں تیزی آنے کی وجہ سے تحریک انصاف نے یہ کڑا فیصلہ کیا ہے۔ دراصل یہ ڈیل ریاستی اداروں اور مسلم لیگ نواز کے بیچ ہوئی تھی جس میں حکمران جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اور اسی لیے ان کے بعض حلقوں نے وقتاً فوقتاً نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر اعتراض اٹھایا تھا۔ ڈیل کے عین مطابق نواز شریف اور مریم نواز نے کئی مہینوں سے خاموشی اختیار کررکھی تھی لیکن اب اچانک نیب کی بڑھتی ہوئی سیاستدان مخالف سرگرمیوں کے بعد مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے خود کو واقعی اصلی اپوزیشن جماعت ثابت کرنے کی ٹھان لی ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں شاید اب ن لیگ کو یہ احساس ہوا ہے کہ انھیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے متحرک کردار ادا کرنا ہو گا اور اسی میں ان کی بقا ممکن ہو گی۔ تاہم تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ اس طرح ن لیگ ڈیل کی خلاف ورزی کرر ہی ہے۔
اس حوالے سے حکومت نے ڈیل کے ضامنوں کو بھی آگاہ کردیا ہے کہ لندن میں بیٹھے نواز شریف سیاسی طور پر پوری طرح متحرک ہوچکے ہیں۔ یہ مولانا فضل الرحمن اور بلاول سے رابطے میں ہیں اور حکومت گراؤ تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نواز شریف کو اس شرط پر باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی کہ وہ سیاسی طور پر خاموش رہیں گے لیکن اب نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم پوری طرح متحرک ہو چکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ڈیل توڑ دی ہے لہذا اب حکومت کو انہں لندن سے پاکستان واپس لانا ہوگا ورنہ احتساب کا بیانیہ زمین بوس ہوجائے گا۔ نواز شریف کے سیاسی طور پر متحرک ہونے کے بعد تحریک انصاف حکومت نے انکو لندن سے وطن واپسی کے لیے قانونی راستہ اپنانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حوالے سے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا جبکہ ان کی میڈیکل رپورٹس کی تحقیقات ہوں گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ نواز شریف نے قانون کا مذاق اڑایا، بیماری کو بہانا بنا کر ملک سے راہ فرار اختیار کی۔ انھیں واپس آ کر جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہم نیب سے مطالبہ کریں گے کہ دفتر خارجہ کے ذریعے برطانیہ کی حکومت سے کہہ کرنواز شریف کو وطن واپس بھیجا جائے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ انھیں واپس لانا ضروری ہو گیا ہے۔حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ان لوگوں کو لایا جائے جو قانون کو مطلوب ہیں۔۔۔ ہماری کوششیں اور تیز ہوگئی ہیں اور ہم نواز شریف کو واپس لائیں گے۔’نواز شریف تصاویر میں ہشاش بشاش پھر رہے ہیں، کبھی شاپنگ کرتے ہیں کبھی واک پر جاتے ہیں کبھی کافی پینے کے لیے باہر جاتے ہیں۔ جبکہ عوام ان کے دیے تحفوں کی وجہ سے تکلیف میں ہیں۔‘‘
تاہم یہ پہلی بار نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کے لیے کوششیں کی ہوں یا بیانات دیے ہوں۔ مارچ 2020 کے دوران سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ ’علاج کے غرض سے پاکستان سے برطانیہ جانے والے وی آئی پی قیدی میاں محمد نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کا وقت آچکا ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت برطانوی حکومت کو یہ خط لکھنے جا رہی ہے کہ ان کو برطانیہ سے جلا وطن کیا جائے۔‘ تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی تھی۔
یاد رہے کہ بدعنوانی کے متعدد مقدمات کے باعث حکومت نے مسلم لیگ نواز کے قائد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے تھے۔ نومبر 2019 میں مسلم لیگ نواز کے قائد عدالت سے اجازت ملنے کے بعد علاج کی غرض سے قطر کے شاہی خاندان کی وی آئی پی فضائی کمپنی قطر امیری فلائٹس کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے بعد لندن پہنچے تھے۔لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک جانے کی مشروط حکومتی اجازت کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔اس اجازت کے بعد وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک میمورینڈم جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا بلکہ انھیں ایک مرتبہ چار ہفتے کی مدت کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے نواز شریف کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کے لیے سات ارب روپے کے مساوی مالیت کے انڈیمنیٹی بانڈ کا تقاضا کیا گیا تھا تاہم عدالت کی جانب سے دی جانے والی اجازت میں انڈیمنیٹی بانڈ کی شرط ختم کر کے نواز شریف کی واپسی کو ڈاکٹروں کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا تھا۔نواز شریف اس وقت لندن میں مقیم ہیں جبکہ ادھر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حکومتی توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button