آمدن سے زائد اثاثے: اعجاز جاکھرانی و دیگر پر فرد جرم عائد

پیپلزپارٹی رہنما اعجاز جاکھرانی سمیت پانچ ملزمان پر آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں فرد جرم عائد کردی گئی ہے البتہ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
سکھر کی احتساب عدالت میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما مشیر جیل خانہ جات سندھ اعجاز جکھرانی، سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی جیکب آباد عباس حکمرانی، عبدالرزاق بہرانی، سردار ظہیر احمد اور خاتون مسمات لبنیٰ کے خلاف نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں دائر ریفرنس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت احتساب عدالت کی جانب سے ملزمان پر 78 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کے حوالے سے فرد جرم عائد کی گئی لیکن ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا جس کے بعد عدالت نے ریفرنس کی سماعت 24 نومبر تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ ریفرنس میں نامزد اعجاز جکھرانی سمیت تین ملزمان سردار ظہیر اور خاتون مسمات لبنیٰ ضمانت پر رہا ہیں جبکہ سابق چیئرمین بلدیہ جیکب آباد عباس جکھرانی اور عبدالرزاق بہرانی نیب کی حراست میں ہیں۔
24 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نیب کی جانب سے ملزمان پر فرد جرم میں لگائے گئے الزامات کے شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ رواں سال کے اوائل میں وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے جیل خانہ جات اعجاز جاکھرانی کے لاف قومی احتساب بیورو نے مقامی احتساب عدالت میں ریفرنس میں ریفرنس دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اعجاز جاکھرانی نے رکن قومی اسمبلی بننے کے بعد 73کروڑ 50 لاکھ مالیت کے آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔ریفرنس میں ان کے ہمراہ جیکب آباد میونسپل کمیٹی کے چیئرمین عباس جاکھرانی، کنٹریکٹر عبدالرزاق بہرانی، رکن اسمبلی کے سابق ڈرائیور ظہیر مسیح، اور ایک خاتون مسمات لبنیٰ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ رکن قومی اسمبلی بننے کے بعد اعجاز جاکھرانی نے کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں 150 ایکڑ زمین اور بندو بنگلے خریدنے کے لیے 50کروڑ کی بینک ٹرانزیکشن کی۔
