آمریت کی پرورش کرتے رہنے سے اقتدار نہیں بچتے

تحریر : عاصمہ شیرازی
ابتدا میں سرکس میں ناچنے والے سارے جانور کامیاب شو کرتے رہے۔ آغاز میں رنگ ماسٹر کے ہاتھوں چمڑے کا ہنٹر استعمال ہوتا رہا۔ شیر، چیتا، بندر، بکری یہاں تک کہ بلی بھی طرح طرح کے کرتب سیکھ گئی۔
ایک ایسا وقت آیا کہ سرکس کے جانوروں کو سدھانے والے ماسٹر نے شیر، چیتے، بندر سمیت سارے جانوروں کو مار مار کر اس طرح بنا دیا کہ محض ہاتھ کے اشارے سے جانور کرتب دکھانے لگے۔ شیر چیتے کی، چیتا شیر کی، بندر بکری کی اور بکری بلی کی ٹانگیں کھینچتی۔ یوں سارے جانور رنگ کے اندر ہی اندر ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے رہتے اور ماسٹر سائیڈ پر بیٹھ کر تماشا دکھاتا رہتا۔ دیکھنے والے تالیاں بجاتے رہتے، شور مچتا رہتا جب عوام اُکتا جاتے تو کھیل شیر کی بجائے چیتے سے اور کبھی بندر سے شروع کر دیا جاتا۔ ایسا کرتے کرتے جانور تھک گئے اور تماش بین اُکتا گئے، عوام کو آہستہ آہستہ جانوروں پر ترس آنے لگا۔ وہ اُنہیں رہا دیکھنا چاہتے تھے لیکن جانور اپنے اپنے پنجروں میں بند دُبک کر بیٹھ گئے۔ ایک دن ایسا آیا کہ ماسٹر کے اشاروں کے باوجود جانوروں میں ناچنے کی سکت ہی نہ رہی۔ رنگ ماسٹر نئے جانوروں کی تلاش میں نکلا، نئے جانوروں کے آتے ہی پُرانے جانوروں کو احساس ہوا کہ اب تو وہ جنگل جانے اور وہاں کام کرنے کے بھی قابل نہیں رہے اور یہاں بھی کوئی پُرسان حال نہیں۔ پُرانے جانوروں کو ماسٹر کی بات ماننا پڑی اور یوں سرکس کے جانوروں میں اضافہ ہوگیا مگر کھیل پُرانا ہی جاری رہا۔ تماشائیوں کے پاس کوئی اور تفریح نہ تھی لہٰذا سرکس چلتا رہا، شو بکتا رہا۔ اب رنگ ماسٹر نے نئی ترکیب بدلی، بظاہر نظر آنے والا ہاتھ کا ہنٹر غائب کر دیا اور ہاتھوں پر دستانے پہن لیے۔ جانوروں نے اسے کسی حد تک اپنی کامیابی گردانا اور سوچا کہ اب ماسٹر کی بات مانی جا سکتی ہے لہٰذا پھر سرکس کا آغاز ہوگیا۔ رنگ ماسٹر پیچھے رہ کر سرکس سجاتا رہا اور جانور مانتے رہے یہاں تک کہ سرکس کا سارا انتظام ان دیکھے ہاتھوں میں چلا گیا، جانوروں نے اپنے تمام حقوق پس پُشت ڈال دیے لیکن ایک دن ماسٹر نے پھر فیصلہ کیا کہ ان سب جانوروں کو سبق سکھایا جائے اور پنجرے میں دوبارہ قید کیا جائے۔ یوں ایک بار رنگ ماسٹر نے ہنٹر دوبارہ اُٹھا لیا۔
یہ کہانی میانمار کی ہے جہاں کی رہنما آنگ سان سوچی نے فوج کی ہر بات مانی، روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش رہیں، فوج کو اقتدار میں 25 فیصد حصہ دے کر اختیار دیا۔ انسانی حقوق کے تمام ایوارڈ، تمام نشان دنیا نے واپس لیے، رُسوائیاں ہاتھ آئیں، آہستہ آہستہ عزت جاتی رہی۔ آخر مصلحت اور اقتدار کی خاطر خاموشی کسی کام نہ آئی نتیجہ ایک اور مارشل لا کی صورت میں نکلا۔
کہانی کا نتیجہ: آمریت کی پرورش کرتے رہنے سے اقتدار نہیں بچتے، اقتدار بچ تو جاتا ہے مگر زیادہ دیر تک نہیں۔
بشکریہ : بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button