آگوسٹا سکینڈل: فرانس میں سزائیں، پاکستان میں پلی بارگین


مشہور زمانہ آگوسٹا آبدوز سکینڈل میں پاک نیوی کے سابق سربراہ ایڈمرل منصورالحق تو نیب کے ساتھ پلی بارگین کرکے صاف بچ نکلے اور امریکہ میں سیٹل ہو گئے لیکن اس کے برعکس فرانس نے 15 جون 2020 کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تقریبا تین دھائیاں گزر جانے کے بعد کیس میں ملوث میں چھ افراد کو 18 لاکھ پاؤنڈ رشوت لینے کے جرم میں دو سے پانچ برس قید کی سزا سنا دی۔
کئی عشروں تک چلنے والی کیس کی تحقیقات میں تین سابق فرانسیسی حکومتی عہدیداروں اور تین دیگر افراد کو کراچی افیئر یا کراچی گیٹ میں ملوث پایا گیا اور ثابت ہوا کہ اس معاہدے میں خفیہ طور پر رشوت لی گئی تھی جس کی مدد سے پیسے فرانس لائے گئے تھے۔اس میں سے کچھ پیسے مبینہ طور پر سابق فرانسیسی وزیرِ اعظم ایڈوارڈ بالادور کی ناکام صدارتی مہم کے لیے بھی استعمال کیے گئے تھے۔ اکیانوے برس کے ضعیف العمربا لادور اور ان کے وزیرِ دفاع فرانسوا لیوٹارڈ کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور وہ آنے والے مہینوں میں پیرس میں اس حوالے سے فوجداری عدالت کا سامنا کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں افراد تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔گرفتار ہونے والوں میں سابق حکومتی اہلکار نکولس بزیر بھی شامل ہیں جو اس سے قبل بالادور کی الیکشن مہم کے مینجر بھی تھے۔
لیوٹارڈ کے سابق مشیر رینا ڈونیڈیو دی وابریس کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تھیئیر گابرٹ جو اس وقت کے سیلز اور کمیشنز کے انچارج اور وزیرِ بجٹ سرکوزی کے پرانے قریبی ساتھی بھی تھے انھیں دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ان کے علاوہ دیگر افراد جنھیں پیرس میں سزا سنائی گئی ان میں سابق دفاعی کانٹریکٹر ڈامینک کیسٹیلن ہیں جنھیں دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ معاہدے میں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے دو لبنانی باشندوں کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق لبنانی کاروباری شخصیت زیاد تیکیڈین اور عبدالرحمان ال اسیر نے پیرس میں عدالت کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا تھا اس لیے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آٹھ مئی 2002 کو ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری کار کو فرانسیسی انجنیئرز کی منی بس سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں 11 فرانسیسی انجنیئر بھی شامل تھے جو فرانس کی نیوی کی کنسٹرکشن کمپنی ڈی سی این کے ملازم تھے۔یہ انجنیئر پاکستان میں آگسٹا آبدوز کی تیاری کے لیے یہاں موجود تھے، یہ آبدوزیں فرانس نے پاکستان کو فروخت کی تھیں، حملے کے اس واقعے کی تحقیقات کے دوران پاکستان اور فرانس کی اہم شخصیات میں کمیشن کا اسکینڈل سامنے آیا، جس کو کراچی افیئر کا نام دیا گیا۔
پاکستان نیوی کے سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ 1992 میں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں نیوی نے 52 کروڑ ڈالرز کی مالیت کی آبدوزوں کی خریداری کی منظوری دی۔ ایڈمرل نقوی، ایڈمرل جاوید افتخار اور ایڈمرل مجتبیٰ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے چین، فرانس، سوئیڈن اور برطانیہ کا دورہ کیا اور سفارش کی کہ آبدوز سوئیڈن سے خریدی جائے۔اس کے بعد ایڈمرل سعید خان نے دوبارہ ایک ٹیم تشکیل دی جس نے ان چاروں ملکوں کا دورہ کیا اور سفارش کی کہ برطانیہ یا پھر فرانس سے آگسٹا 90 آبدوز کی خریداری کی جائے۔21 اگست 1994 کو آگوسٹا کی خریداری کا معاہدہ ہوا تو اس وقت بینظیر بھٹو اقتدار میں تھیں۔
آگوسٹا آبدوز پاکستان بحریہ کی بیک بون سمجھی جاتی ہے، 1994 میں تین آگسٹا آبدوزوں کا آرڈر دیا گیا تھا ان میں سے ایک کی فرانس میں تیاری کی گئی تھی جبکہ باقی دو کی تیاری پاکستان میں عمل میں لائی گئی۔ فرانسیسی نیول کمپنی ڈی سی این نے پاکستان کو اس کی کمرشل فروخت کی بھی اجازی دی تھی۔ یہ آبدوز 350 میٹر تک سمندر کی گہرائی میں جا سکتی ہے۔پاکستان نیوی کی سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہوا تھا کہ نیاز نامی شخص کیپٹن علوی کو ایک لاکھ ڈالر سے زائد رقم رشوت کے طور پر ادا کر رہا ہے۔وہ وائس چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل اے یو خان کے گھر گئے اور انھیں تمام ضروری معلومات فراہم کیں لیکن انھوں نے انھیں کوئی بھی اقدام اٹھانے سے روک دیا اور کہا کہ نیول چیف ایڈمرل منصور الحق کی رضامندی سے ایکشن لیا جائے گا جو امریکہ اور فرانس کے دورے پر تھے انھوں نے ایڈمرل منصور سے فرانس میں رابطہ کیا۔انھوں نے مشورہ دیا کہ ان کی واپسی تک انتظار کریں بعد میں جب وہ لوٹ کر آئے تو انہیں پوری کہانی سنائی گئی جس میں سینیئر افسران بھی شریک تھے۔ اس سکینڈل کی بنیاد پر نواز شریف کی حکومت میں ایڈمرل منصور الحق کو فارغ کر دیا گیا اور وہ امریکہ منتقل ہو گئے، بدعنوانی کے الزام میں انھیں امریکہ کے شہر آسٹن میں حراست میں لیا گیا اور بعد میں ان کی اپنی درخواست پر پاکستان کے حوالے کیا گیا۔
ایڈمرل منصور الحق قلیل عرصہ تحویل میں رہے اور انھوں نے قومی احتساب بیورو سے پلی بارگین کر کے پچیس فیصد رقم ادا کی اور بری ہو گئے۔نیب کے فیصلے کے دستاویز کے مطابق بطور نیول چیف انھوں نے مختلف دفاعی سودوں میں رشوت اور کمیشن حاصل کیں اور 29 اپریل 1997 میں انھیں قبل از وقت ریٹائر کیا گیا جس کے بعد وہ آسٹن امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔بارگین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ وہ سات اعشاریہ پانچ ملین ڈالر قومی خزانہ میں جمع کرائیں گے۔’پلی بارگیننگ کی پہلی درخواست میں انھوں نے 33 لاکھ 60 ہزار ڈالرز کی پیکش کی تھی لیکن اس کو مسترد کر دیا گیا جس کے بعد انہوں نے 75 لاکھ ڈالرز کی درخواست کی جس کو قبول کر لیا گیا۔ایڈمرل منصورالحق 2018 میں امریکہ میں انتقال کر گئے، نیول انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ریئر ایڈمرل تنویر احمد کا کہنا ہے کہ اس میں اور بھی لوگ ملوث ہیں جن کو سامنے نہیں لایا گیا۔جس جس نے اس معاہدے میں حصہ لیا ہوتا ہے وہ تو اپنا حصہ لیتا ہے اس میں یہ کہنا کہ صرف منصور الحق نے کیا یہ زیادتی ہو گی منصور نے تو تسلیم کیا ہے لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ نیب اور دیگر اداروں نے دوسرے لوگوں کوایکسپوز کیوں نہیں کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button