انٹرنیشنل فلائٹس کی بحالی کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے انٹرنیشنل فلائٹس کی بحالی کےلئے گرین سگنل دے دیا اور اوورسیز پاکستانیوں کےلئے مرحلہ وار انٹرنیشنل فلائٹس بحال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کوایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے. تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی کابینہ کورونا وائرس اور ملک کی سیاسی و معاشی صورت حال کا جائزہ لیا گیا، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں انٹرنیشنل فلائٹس کی بحالی کا معاملہ زیربحث آیا، اجلاس کے دوران معاون خصوصی زلفی بخاری نے انٹرنیشنل فلائٹس کھولنے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پروازوں کی بحالی سے متعلق مشاورت کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انٹرنیشنل فلائٹس کی بحالی کےلئے گرین سگنل دے دیا وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے مرحلہ وار انٹرنیشنل فلائٹس بحال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کر دی. ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر عرب ممالک کےلئے بین الاقوامی پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، گلف ممالک سے پاکستانیوں کی محفوظ وطن واپسی کے بعد اگلہ مرحلہ شروع ہوگا اور پہلے بے روزگار ہونے والے مزدور اور محنت کشوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔
عمران خان نے کہا اوورسیز پاکستانی دل کے قریب ہیں مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، کورونا کے باعث لاکھوں پاکستانی روزگار سے محروم ہوئے، جس کا دکھ ہے، ہمیں اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے، حکومت پاکستان اپنے ہم وطن بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد کےلئے تیار ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاون خصوصی ذوالفقار بخاری نے بین الاقوامی فلائٹس کھولنے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں میں انٹرنیشنل فلائٹس کی بحالی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ زلفی بخاری نے اجلاس کو بتایا کپ فلائٹس کی بندش سے اوورسیز پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا ہے وفاقی کابینہ انٹرنیشنل فلائٹس کی بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ ذرائع کے مطابق زلفی بخاری نے اجلاس کو بتایا کہ دیار غیر میں پھنسے پاکستانیوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔
2 لاکھ سے زائد اوورسیز پاکستانی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں‘ذرائع کے مطابق زلفی بخاری نے اجلاس کو بتایا کہ بیرون ملک مقیم ہم وطن شدید مالی مشکلات سے بھی دوچار ہیں مشکل وقت میں ہم وطنوں سے ہر طرح کا تعاون کیا جائے این سی سی کا اجلاس بلا کر معاملے پر مشاورت کی جائے.
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی درخواست پر وزیرعظم نے پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے آنے والے مسافروں کےلیے کھولنے کی اجازت دی تھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا تھا کہ خلیجی ریاستوں میں مقیم پاکستانیوں کی تکالیف و مشکلات کا احساس ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یقین دہانی کرائی کہ اپنے ملک کے محنت کش بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے عوام الناس اور تمام مسافروں سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے بچاﺅ کےلیے اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات میں حکومت کا ساتھ دیں‘ذرائع کے مطابق باچا خان ائیرپورٹ پر قواعد و ضوابط کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی ایئرپورٹس پراسکریننگ کی جاتی ہے اور طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں مختص قرنطینہ سینٹرز منتقل کردیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پروازوں کی بحالی سے متعلق مشاورت جاری ہے ، حتمی فیصلہ کچھ دیرمیں متوقع ہے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 10جون کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی، بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا معاملہ ایجنڈے میں شامل ہیں کابینہ اجلاس میں وفاق کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے تحت کورونا فنڈ تشکیل کی اور بچوں سے مشقت معاملے پر ترمیمی ایکٹ 2019 میں مزید ترمیم کی منظوری دی جائے گی جب کہ جی بی میں انسداد الیکٹرانک کرائمز کےلئے پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں.
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا کی صورت حال کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا تھا، بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ کرونا سے متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاﺅن کے حوالے سے ملک کے بیس بڑے شہروں میں ان مقامات کی نشاندہی کردی گئی ہے جہاں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حفاظتی اقدامات کی بدولت کرونا کے پھیلاﺅ کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے، اس ضمن میں عوام کا کلیدی کردار ہے، ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاﺅن کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، اس حوالے سے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ آنے والے چند مشکل ہفتوں کے دوران حفاظتی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں میں توازن رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button