اب ویڈیو کالنگ سے بھی آپ کی جاسوسی ہو سکتی ہے

کرونا وائرس کی وجہ سے ہم اسکائپ ، زوم اور دیگر ویڈیوسائٹس کے استعمال سے اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں ، اس دوران ہم دیگر پلیٹ فارم پر ٹائپنگ بھی کرتے ہیں، ڈیٹا دیکھتے ہیں اورمختلف اکاؤنٹس میں پاس ورڈ شامل کرتے رہتے ہیں۔
جامعات کے ماہرین کہتےہیں کہ وہ کسی شخص کو ویڈیو کےدوران ٹائپ کرتا دیکھ کر بہت آسانی سے اندازہ لگاسکتےہیں کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔ خواہ ٹائپنگ کرنے والا زوم پر ہو، اسکائپ پر یا گوگل کے کسی اور پلیٹ فارم پر ہو 93 فیصد درستگی سے لکھے جانے والے الفاظ معلوم کرنا اب کوئی مشکل عمل نہیں رہا۔ اس ڈیٹا میں عام ای میل ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور پاس ورڈ معلوم کئے جاسکتےہیں۔ ویڈیو میں عموما! ہاتھ دکھائی نہیں دیتے لیکن یہ ماہرین کاندھوں کی حرکات سے اندازہ لگاسکتےہیں کہ وہ شخص کیا کچھ لکھ رہا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس میں کمپیوٹر سائنس کے ماہر مرتضیٰ جدلی والا نے یہ طریقہ دریافت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کرونا وبا کے دوران ویڈیو سیشن عام ہوئے اور اس تناظر میں محض کندھوں کی حرکات و سکنات سے معلومات حاصل کرنا ایک بہت تشویشناک بات بھی ہے۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں مصنوعی ذہانت اور الگورتھم کی بجائے ویڈیو میں پکسل کی حرکت دیکھی گئی ہے۔ جیسے ہی ہم کندھے ہلاتے ہیں پکسل کی حرکات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہاتھوں کی حرکت جنوب کی جانب ہے یا شمال کی جانب، پھر وہ مشرق کو جارہے ہیں یا پھر مغرب کو۔ مثلا ً اگر آپ CAT لکھ رہے ہیں تو C کے بعد ، A ٹائپ کریں تو مغرب میں آئیں گے اورT لکھتے ہوئے پھر مشرق کا رخ کریں گے۔ اس کا تعلق کاندھوں کی حرکت سے کرنے کے بعد ایک سافٹ ویئر بنایا گیا جو ہر لفظ کا سمتی پروفائل بناتا ہے۔ اس طرح کندھوں کی حرکات سے ٹائپ کردہ الفاظ کو بہت درستگی سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم تجربہ گاہ میں اس کے نتائج 75 فیصد اورگھر پر کام کرنے والے افراد میں 66 فیصد درستگی سے ٹائپ کردہ معلومات کو حاصل کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button