اتحادی جماعتیں کپتان کا ساتھ کیوں چھورنےلگیں؟

ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کی سرگرمیوں میں تیزی آنے کے بعد اب وزیراعظم عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی اگلے سیاسی منظر نامے کی پیش نظر متنازعہ حکومتی فیصلوں سے دوری اختیار کرتی نظر آتی ہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو لگتا ہے کہ میدان سیاست میں ایک مرتبہ پھر ہلچل مچنے والی ہے۔ حکومت کی جانب سے متنازعہ قانون سازی کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس موخر کرنے کی وجہ ووٹنگ کے دوران شکست کا خطرہ تھا چونکہ تین اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، قاف لیگ اور جی ڈی اے نے اسکا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ پرویز خٹک سمیت کئی سینئر حکومتی وزراء نے بھی متنازعہ قانون سازی پر اعتراض کر دیا تھا۔ لہازا مشترکہ اجلاس کی منسوخی کو اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی شکست اور اپنی فتح سے تعبیر کیا ہے۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز نے بھی مشترکہ اجلاس کی منسوخی کو کپتان کا فرار قرار دیا ہے۔ اب پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت پارلیمنٹ کے باہر بھی دوبارہ عمران حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی خاطر ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کی تیاریوں میں مصروف نظر آتی ہے۔
خیال رہے کہ حکومت نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس قومی احتساب بیورو اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سمیت دیگر کئی معاملات پر قانون سازی کے لیے بلایا تھا اور توقع کی جارہی تھی کہ منظوری کے لیے 20 بلز پیش کیے جائیں گے، تاہم جب اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اکٹھے ہوکر اس قانون سازی کی مخالفت کا اعلان کیا تو شکست سے بچنے کے لیے آخری وقت میں صدر علوی نے وزیراعظم کی ہدایت پر پارلیمینٹ کا اجلاس بلانے کا نوٹی فیکیشن واپس لے لیا۔ ایسے میں اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ حکومت کو اپنی اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل نہیں رہی اور اب وہ عمران سے دوری اختیار کر رہی ہیں۔
حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے ایم این اے اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا اس معاملے پر کہنا تھو کہ حکومت نے اس قانون سازی کے لیے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا۔ اگر وہ ہمیں صحیح معنوں میں اتحادی سمجتھے ہیں تو پھر ہر چیز کا طریقہ کار ہوتا ہے، آپ اس کو اختیار کیے بغیر اپنے اتحادیوں پر دھونس نہیں جما سکتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اتحادیوں اور حکومت کے مابین ایک مرتبہ پھر دراڑ آچکی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاست ہے جس میں روزانہ صورت حال تبدیل ہوتی ہے۔ میں صرف پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے متعلق ہی بات کررہا ہوں کہ اس میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمجھتے ہیں کہ حکومت اپنے اتحادی کھو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مختلف طریقوں پر غور ہورہا ہے اور یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ حکومت کے خلاف ایک سینیٹ میں دوبارہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے تاکہ واضح ہو جائے کہ گراؤنڈ کتنی نیوٹرل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کچھ لوگ عمران خان کے خلاف بھی عدم اعتماد لانے کی بات کر رہے ہیں لیکن ہماری پارٹی نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
دوسری جانب وزراء کا دعویٰ ہے کہ عمران حکومت مضبوط ہے اور تمام اتحادی جماعتیں بھی اس کے ساتھ کھڑی ہیں۔ شیخ رشید نے بھی دوبارہ دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان بطور وزیر اعظم اپنے پانچ سال پورے کریں گے۔ حال ہی میں قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے دوران دو بار اپوزیشن سے شکست کھانے پر حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ یہ ان کی بد قسمتی تھی اور اس سے ایسا تاثر نہیں لیا جانا چاہیے کہ حکومت نمبر گیم میں کمزور ہو چکی ہے۔ مشترکہ اجلاس ملتوی کرنے کی وضاحت دیتے ہوئے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا صرف مجوزہ قانون سازی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اس معاملے پر اپوزیشن سے رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایاز صادق اور راجہ پرویز اشرف سے خود رابطہ کیا ہے اور بل پاس کروانے کے لیے مدد مانگی یے۔
تاہم دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ حکومت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں اور اسد قیصر کو بتا دیا گیا ہے کہ عمران سے کسی طرح کے مذاکرات نہیں ہوں گے البتہ دیگر لوگوں سے بات ہوسکتی ہے۔ لیگی ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن اس وقت صرف قبل از وقت انتخابات چاہتی ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے اندر کسی طرح کی تبدیلی وقت کا ضیاع ہے۔ نواز شریف اس حوالے سے بالکل کلیئر ہیں اور انہوں نے اپنا دوٹوک پیغام دے دیا ہے کہ صرف قبل از وقت انتخابات ہی اب بحران سے نمٹنے کا واحد حل ہے۔ تاہم کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو ایوان میں فوری تبدیلی کی خواہاں ہیں۔ ایک سینئر مسلم لیگی رہنما نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ عمران خان کے خلاف اچانک تحریک عدم اعتماد آجائے، لیکن یہ اس صورت میں ہوگا کہ نیا اوزیراعظم اسمبلی توڑنے اور قبل از وقت نئے انتخابات کروانے پر تیار ہو، اس لیے اگر یہ سکیم کامیاب ہوتی ہے تو اگلا وزیراعظم ن لیگ سے ہر گز نہیں ہوگا۔
لہذا تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ہر دو صورتوں میں اس وقت حکومت مشکل میں ہے۔اس وقت جس بھی حکومت مخالف منصوبے پر بھی عمل ہو جائے نقصان عمران کا ہے۔ لہذا تحریک انصاف کا اصل امتحان اب شروع ہو رہا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اس صورت حال میں اپنے پتے کیسے کھیلتے ہیں؟
