حکومت نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کیوں رکوائی؟


اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود عمران خان کے دور حکومت میں اسلام آباد میں ہندو برادری کیلئے مندر کی تعمیر روک دی گئی ہے جس پر وفاقی حکومت تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی نے ایک ویڈیو بیان میں مندر کی تعمیر کی کھل کر مخالفت کی تھی اور اسے اسلام کی روح کے منافی وقار دیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ نئے مندر بنانے کی بجائے اسلام آباد میں پہلے سے موجود پرانے مندروں کی مرمت اور تزئین و آرائش کی جائے۔
چنانچہ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مندر کی تعمیر رکنے کی بنیادی وجہ مذہبی امتیاز ہے۔ تاہم حکومتی کی جانب سے اس تاثر کی تردید کی گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ایک ایسی حکومت جو اربوں روپے خرچ کر سکھوں کے لیے گوردوارہ بنواتی ہے اسے ایک چھوٹے سے مندر کی تعمیر پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟
دوسری جانب کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مندر کا بلڈنگ پلان ابھی تک سی ڈی اے کو موصول نہیں ہوا، جس وجہ سے تعمیراتی کام کو معطل کیا گیا ہے اور بلڈنگ پلان موصول ہونے اور اس کی منظوری کے بعد ہی تعمیراتی کام شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مختص جگہ کے حوالے سے کوئی تنازع نہیں اور وہ جگہ منظور شدہ ہے تاہم تعمیراتی کام کو شروع کرنے سے قبل دو مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ سی ڈی اے ترجمان کے مطابق پہلے ’الاٹمنٹ لیٹر‘ بھجوایا جاتا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ منظور شدہ زمین کے مالک کو اس جگہ پر قبضہ حاصل ہو گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں تعمیراتی کام سے قبل بھی سی ڈی اے کو ایک منصوبہ پیش کیا جاتا ہے جسے ’بلڈنگ پلان‘ کہا جاتا ہے۔ میڈیا میں نشر ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے سی ڈی اے ترجمان نے وضاحت کی کہ مندر کے تعمیراتی کام کو روکا نہیں گیا بلکہ اسے عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شہری کی اسلامی آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران سی ڈی اے کے وکیل جاوید اقبال وینس نے عدالت کو بتایا تھا کہ تعمیر وفاقی کابینہ کی ہدایت پر روک گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ہدایت کی کہ گرین ایریاز میں جن بلڈنگز کی تعمیرات نہیں ہوئیں انہیں کینسل کر دیں۔
خیال رہے کہ 2017 میں نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے احکامات پر سی ڈی اے نے اسلام آباد کی ہندو پنچایت کی درخواست پر سیکٹر ایچ نائن ٹو میں چار کنال کا پلاٹ الاٹ کیا تھا۔ اس مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی تھی جس کے مہمان خصوصی تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال ملہی تھے۔تاہم اس پر مذہبی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
مندر کی تعمیر روکے جانے کے حوالے سے لال چند ملہی کا کہنا ہے کہ چار دیواری کی تعمیر کے لیے کسی اجازت نامہ کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ پنچایت پہلے ہی سی ڈی اے کو چار دیواری کی تعمیر شروع کرنے سے متعلق تحریری اطلاع دے چکی ہے۔ لال چند ہی کا کہنا ہے کہ اس بارے انھیں سی ڈی اے کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی میں سی ڈی اے کو ایک درخواست دے دی گئی تھی کہ اسلام آباد ہندو پنچایت منظور شدہ زمین پر چار دیواری تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ سی ڈی اے کے پاس کام رکوانے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا اور انھیں یہ کام نہیں رکوانا چاہیے تھا۔ کیونکہ ہم صرف پلاٹ کے گرد چار دیواری کھڑی کر رہے ہیں کہ اس پر کوئی قبضہ نہ کر لے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مندر کی تعمیر کی منظوری کے بعد سے مذہبی حلقوں سے ایک شدید رد عمل سامنے آیا۔ لاہور کی جامعہ اشرفیہ سے وابستہ مفتی محمد ذکریا نے مندر کی تعمیر کے حوالے سے ایک فتوی جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام کے مطابق اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال اور انھیں قائم رکھنا جائز ہے تاہم نئی عبادت گاہوں کی تعمیر کی اجازت نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مندر کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے صارفین یہ منطق پیش کررہے ہیں کہ اس مندر کی تعمیر کے لیے رقم سرکاری خزانے سے نہیں آنی چاہیے کیونکہ اسلام آباد میں پہلے ہی ہندو برادری کی بہت کم تعداد ہے۔ میڈیا میں اسلام آباد کے پہلے مندر کی تعمیر سے متعلق خبریں آنے کے بعد بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے اس کی مخالفت میں آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔
تاہم حالات نے سنجیدہ موڑ تب لیا جب پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویزالہی نے اس سلسلہ میں ایک ویڈیو بیان جاری کیا اور مندر کی تعمیر کی کھل کر مخالفت کی۔ اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے مندروں کی تعمیر اسلام کی روح کے منافی ہے۔ اس لئے نئے مندر بنانے کی بجائے شہر میں پہلے سے موجود پرانے مندروں کی مرمت اور تزئین و آرائش کی جائے۔ اسکے رد عمل میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ بھی کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں تعمیر ہونے والا مندر اقلیتوں کے لیے ہماری رواداری اور نیک نیتی کی علامت ہو گا۔ بہرحال چوہدری پرویز الہی کے بیان کے بعد مندر کی تعمیر کے مخالف بیانات کا تانتا ہی بندھ گیا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر اس سلسلہ میں ایک بھرپور مہم کیا آغاز ہوا۔ جس میں تحریک انصاف حکومت کی مندر کی تعمیر کی اجازت اور فنڈز کی فراہمی کے اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

Back to top button