بچوں سے لڑنے والے دشمن کو کس منہ سے دوست بنایا جا رہا ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ جب قومی سلامتی کے ذمہ دار سکیورٹی ادارے اپنی اصل ذمہ داریاں چھوڑ کر سیاست پر توجہ مرکوز کر لیتے ہیں تو پھر پشاور آرمی پبلک اسکول جیسے افسوس ناک سانحے جنم لیتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اس سانحے کے بعد یہ گانا ٹی وی چینلز پر بار بار چلوایا گیا کہ "بڑا دشمن بنا پھرتا ہے، جو بچوں سے لڑتا ہے‘‘۔ بقول حامد میر، ریاستی اداروں نے اس گانے کے ذریعے پاکستانی قوم کو بتایا کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن بھارت اور تحریک طالبان ایک ہی ہیں۔ لہذا اب قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے یہ موقف کیسے اپنا لیا گیا کہ ٹی ٹی پی والے بھی اسی دھرتی کے بیٹے ہیں، چنانچہ ہمیں انہیں قومی دھارے میں واپس لانے دیں۔
ایک غیر ملکی ویب سائٹ کے لئے اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ 10 نومبر کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں طلبی کے موقع پر عدالت نے وزیراعظم عمران خان سے ایک سادہ سا سوال کیا لیکن انکے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جسٹس قاضی امین نے عمران خان کو مخاطب کر کے پوچھا تھا، ”مسٹر پرائم منسٹر! آپ مجرمان کو مذاکرات کے لیے ٹیبل پر لے آئے، کیا ایک بار پھر سرنڈر ڈاکومنٹ پر دستخط کرنے جا رہے ہیں؟‘‘
وزیر اعظم اتنے بھولے نہیں ہیں کہ یہ نہ سمجھ پائیں کہ جج صاحب کیا پوچھ رہے تھے؟ جج صاحب کا اشارہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی طرف تھا اور وہ یہ پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ کالعدم ٹی ٹی پی کے سامنے ویسا ہی سرنڈر کرنے والے ہیں، جو آج سے پچاس سال پہلے پاکستانی فوج نے ڈھاکا میں بھارتی فوج کے سامنے کیا تھا؟
حامد میر کہتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ بھارتی فوج کے سامنے سرنڈر کرنے اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرت کا آپس میں کیا تعلق بنتا ہے؟ اسکا جواب دیتے ہوئے وی بتاتے ہیں کہ دراصل جج صاحب نے عمران خان کو یاد دلایا کہ بھارتی فوج کے سامنے سرنڈر بھی 16 دسمبر کے دن کیا گیا تھا اور پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر کالعدم ٹی ٹی پی کا حملہ بھی 16 دسمبر کے دن ہوا تھا۔ جج صاحب کا سوال دراصل عام پاکستانیوں کے دل کی آواز تھا، جن کو بتایا جاتا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو بھارت کی حمایت حاصل ہے اور ٹی ٹی پی نے ہمارے بچوں کو ایک بھارتی سازش کے تحت شہید کیا اور اس لیے ایک اسکول پر حملے کے لیے 16 دسمبر کا انتخاب کیا گیا اب یہی عام پاکستانی ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ اب تو افغانستان پر طالبان کی حکومت ہے، ہمیں بتایا گیا تھا کہ طالبان کی حکومت قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ ختم ہو گیا لیکن اب افغان طالبان ٹی ٹی پی کی مدد کیوں کر رہے ہیں؟
حامد میر پوچھتے ہیں کہ اگر ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی مدد حاصل ہے تو پھر ماضی میں پاکستانیوں کو یہ کیوں بتایا گیا کہ تحریک طالبان دراصل بھارت کی پراکسی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ عمران خان بھارت کی پراکسی وار کا حصہ بننے والوں کے ساتھ تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اپنی سیاسی اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار کیوں نہیں؟ ایک مفروضہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے عمران خان کو طلب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہواؤں کا رخ بدلنے والا ہے۔ ہمیں سازشی مفروضوں میں الجھانے کی بجائے صرف یہ پہلو سامنے رکھنا چاہیے کہ سانحہ اے پی سی 2014ء میں رونما ہوا۔ اس سانحے کی انکوائری رپورٹ 2019ء میں سامنے آئی اور 20 اکتوبر 2021ء کو سپریم کورٹ نے اس معاملے پر سماعت کے بعد اپنے آرڈر میں کہا کہ شہداء کے لواحقین کے مطالبے کی روشنی میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام، سابق کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان، پرویز خٹک اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے خلاف کارروائی کر کے 10 نومبر کو رپورٹ پیش کی جائے۔ دس نومبر کی صبح کوئی رپورٹ عدالت میں پیش نہ ہوئی تو عدالت نے وزیر اعظم کو طلب کر لیا۔ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ ماضی میں نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی بطور وزیراعظم سپریم کورٹ میں پیش ہو چکے ہیں۔
عدالت نے عمران خان کو چار ہفتے کا وقت دیا ہے اور اگلی سماعت پر ان کے دستخط سے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ سماعت کے دوران معزز جج صاحبان کے ریمارکس سے یہ واضح ہو گیا کہ حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات پر ان کے تحفظات ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ٹی ٹی پی اور تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر بریفنگ دی تھی۔ اس بریفنگ کو خفیہ رکھا گیا لیکن اس بریفنگ میں دو بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سمیت حکومت کی اتحادی ایم کیو ایم نے بھی ان مذاکرات کی حمایت سے انکار کر دیا تھا۔ وجہ شاید یہ تھی کہ ماضی میں جب کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی کوشش ہوتی تھی تو مذاکرات کرنے والوں کو دہشت گردوں کا حامی قرار دے دیا جاتا تھا۔
بقول حامد میر، جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم نواز شریف حکومت کی طرف سے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے عرفان صدیقی کی زیر قیادت بنائی جانے والی کمیٹی کے ساتھ کوئی تعاون نہ کیا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب کا اعلان کر دیا۔ ٹی ٹی پی نے اسی آپریشن ضرب عضب کا انتقام پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں پر بزدلانہ حملے کر خے لیا۔ سانحہ اے پی ایس کے وقت نواز شریف کی حکومت کو ایک طرف عمران کے دھرنے کا سامنا تھا اور دوسری طرف جنرل راحیل شریف اور ظہیر الاسلام کی سازشیں بھی کسی سے پوشیدہ نہ تھیں۔ یعنی تب قومی سلامتی کے ذمہ دار سیکیورٹی ادارے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ جب سکیورٹی ادارے اپنی اصل ذمہ داریاں چھوڑ کر سیاست پر توجہ مرکوز کر لیتے ہیں تو پھر آرمی پبلک اسکول پشاور جیسے افسوسناک سانحات جنم لیتے ہیں۔ اس سانحے کے وقت مرکز میں نواز شریف لیکن خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت تھی۔ اس خونی واقعے کے بعد سب سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتیں بنانے کی حمایت کی جبکہ آئی ایس پی آر نے کچھ گانے بنا کر ریلیز کیے۔ ان میں سے ایک گانا ٹی وی چینلز پر بار بار چلوایا گیا، ”بڑا دشمن بنا پھرتا ہے، جو بچوں سے لڑتا ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ یہ دشمن کون تھا؟ بقول حامد میر، ریاستی اداروں نے اس گانے کے ذریعے پاکستانی قوم کو یہ بتایا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور پاکستان کا سب سے بڑا دشمن بھارت ایک ہی ہیں۔ لیکن چند دن پہلے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی والے بھی تو اس دھرتی کے بیٹے ہیں، ہمیں انکو قومی دھارے میں واپس لانے دیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی کو تو اس دھرتی کے بیٹے تسلیم کر لیتے ہیں کیونکہ وہ بندوق کا راستہ اختیار کرتے ہیں لیکن قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر کو آپ معاف کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اس نے ایک تقریر میں فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کی تھی۔ حامد میر کہتے ہیں کہ ہماری طاقتور اسٹیبلشمنٹ آج تک ان بلوچوں کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں جو پُر امن طریقے سے اپنے حقوق مانگتے ہیں۔ پاکستان میں ہزاروں افراد کو ملک دشمن قرار دے کر لاپتہ کر دیا جاتا ہے، صحافیوں کو ان کے گھروں میں گھس کر مارا جاتا ہے کیونکہ وہ بندوق نہیں قلم چلاتے ہیں۔ یعنی اس ملک میں جو بندوق کی زبان میں بات کرے، اس کے ساتھ مذاکرات اور امن معاہدے قومی مفاد کا تقاضہ بن جاتے ہیں لیکن جو پُر امن طریقے سے اختلاف رائے کرے، اس کے ساتھ آپ طاقت کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے ناقدین کہتے پھرتے ہیں کہ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے، جو صرف نہتے لوگوں سے لڑتا ہے اور بندوق والوں سے ڈرتا ہے۔
